وادی کشمیر میں مکمل کرفیو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے ’ آزادی ریلی‘ کو روکنے کے لیے پوری وادی میں غیر معینہ عرصے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ بھارت کے زیر انتظٌام کشمیر میں امرناتھ شرائن کو دی جانے والی زمین کے تنازعے سے شروع ہونے والے مظاہروں نے تحریک آزادی کا روپ دھار لیا ہے اور پچھلے دو ہفتوں میں چار بار آزادی ریلیاں نکالی گئیں جن میں لاکھوں نے شرکت کی تھی۔ علیحدگی پسند جماعتوں کی طرف سے پیر کے روز ایک بار پھر آزادی مارچ کی کال دی گئی تھی جسے روکنے کے لیے وادی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حیسن کے مطابق پوری وادی میں غیر معینہ عرصہ کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا اور ہر طرف فوج اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں۔ حکام نے وادی میں کرفیو نافذ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے ۔خیال کیا جاتا ہے کہ حکام علحیدگی پسند جماعتوں کی کال پر لاکھوں لوگوں کے لیبک کہنے سے پریشان ہیں اور وہ اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جعمہ کے روز بھی سرینگر کی مرکزی عیدگاہ میں لاکھوں لوگوں نے ’ہندوستان سے آزادی‘ کےلیے اجتماعی طور نماز ادا کی۔ یہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران وادی کشمیر میں ہونے والا تیسرا بڑا اجتماع ہے۔ اس سے قبل سولہ اور اٹھارہ اگست کو بھی پانپور اور سرینگر میں بھاری عوامی اجتماعات منعقد ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ گیارہ اگست کو جب علیٰحدگی پسندوں نے میوہ تاجروں کی حمایت سے ’مظفرآباد چلو‘ تحریک کا آغاز کیا تو اس روز مختلف مقامات پر پولیس اور نیم فوجی عملے نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سینیئر حریت رہنما شیخ عبدالعزیز سمیت اکیس افراد ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد کئی روز تک مظاہرین پولیس و نیم فوجی عملے کے ساتھ متصادم رہے اور ان جھڑپوں میں اب تک غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق بتیس افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر: یکجہتی مارچ جاری 22 August, 2008 | انڈیا پونچھ سے راولاکوٹ بس سروس کا آغاز 20 June, 2006 | انڈیا بھارت واپسی کا فیصلہ آسان نہیں08 February, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||