کشمیر ٹرین:خدشات اور توقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برصغیر میں ریل نظام متعارف ہونے کے ڈیڑھ سو سال بعد کشمیر میں پہلی بار ریل گاڑی چلی ہے، لیکن عام لوگوں کو اس سے توقعات بھی ہیں اور اندیشے بھی۔ بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مکمل ہڑتال اور کڑے سکیورٹی حصار کے درمیان وادی میں چلنے والی اس پہلی ٹرین سروس کا افتتاح گیارہ اکتوبر کو سبز جھنڈا لہرا کر کیا۔ گو کہ ریلوے لائن کے ذریعہ جموں کشمیر کو پورے بھارت کے ساتھ مربوط کرنے کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہے اور مذکورہ ٹرین سروس فی الحال شمالی ضلع بارہمولہ اور جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ یا اسلام آباد کے درمیان چلے گی۔ ظاہر ہے یہ تاریخی تبدیلی محض اپنے نئے پن کی وجہ سے کشمیریوں کے لیے باعث دلچسپی ہے ، اور وہ اس ریل منصوبے کے ساتھ کافی توقعات وابستہ کیےہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عوامی سطح پر کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں دیکھا گیا اور علیحدگی پسندوں کی کال پر لوگوں نے ڈاکٹر سنگھ کی وادی میں موجودگی کے خلاف ہڑتال کی۔ اہم بات یہ ہے کہ تاجر حلقے بھی اسے ’ادھورا قدم‘ سمجھتے ہیں۔ اننت ناگ (اسلام آباد) کی تاجر انجمن ٹریڈرس فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری غلام نبی شاہ کہتے ہیں ’ یہ ایک ادھورا قدم ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ موسم کی خرابی یا دوسری روکاوٹوں کو عبور کر کے ہمارا مال بیرونی منڈیوں میں پہنچے۔ اگر جموں اور کشمیر کے درمیان ریل چلتی ہے تو دس کلو اخروٹ کے پارسل پر کرایہ کی شرح میں کم از کم تیرہ روپے کی کمی ہوجائے گی۔ لیکن جب یہ ریل بارہمولہ اور اسلام آباد کے درمیان چلے گی، تو اس سے ہمارا کچھ فائدہ نہیں ہوگا، پھر ہم امید کرتے ہیں کہ جلد ایسا ہو‘ ۔ بارہمولہ میں تاجروں کی انجمن بیوپار منڈل کے اعلیٰ عہدیدار بشیر احمد کنرو کشمیر ٹرین کو ایک ’بہت بڑی خوشخبری‘ سمجھتے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں نے اپنی زمینیں صرف اس لیے نہیں دی ہیں کہ انہیں ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے کے لیے ریل گاڑی کی سواری میسر کی جائے گی۔ ’اصل کام تو یہ ہے کہ تجارتی ریل ہیڈ قائم ہو۔ ہم یہاں مال لوڈ کریں اور وہ دلّی، کلکتہ اور مدراس پہنچے۔ اندرونی اضلاع کے بیچ ریل سروس چلانے سے کوئی اقتصادی فائدہ نہیں ہوگا۔ مجھے تو لگتا ہے عام مسافروں کو بھی فائدہ نہیں ہوگا‘۔
بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں اگلے سال انتخابات ہورہے ہیں لہٰذا کانگریس پارٹی کشمیر میں تعمیرو ترقی کو ایک انتخابی نعرہ بنانا چاہتی ہے اور اسی لیے ریلوے اور بجلی کے بڑے منصوبوں کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔ تاہم حساس عوامی حلقے اس منصوبے کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ مقامی این جی او ’حمایت ٹرسٹ‘ سے وابستہ سماجی کارکن عرفان ہمدانی کہتے ہیں : ’مجھے لگتا ہے کہ اس ریل سروس کے پیچھے عسکری مقاصد ہیں۔ بارہمولہ اور اسلام آباد کے درمیان فوج اور نیم فوجی عملے کے سفر کو آسان بنانے اور ہتھیار و دیگر سازوسامان لانے لیجانے یا عوامی مزاحمت کے موقع پر کم وقت میں فوج کو متحرک کرنے کے لیے یہ ٹرین شروع کی گئی ہے‘۔ نوجوان طلبا اور پیشہ ور شہریوں کی مجموعی رائے کم و بیش عرفان کی رائے کے مطابق ہی ہے۔ میڈیکل کالج سرینگر کے استاد ڈاکٹر سلیم خان کے مطابق اس منصوبے سے اعتماد سازی کے عمل میں مدد نہیں ملے گی بلکہ نئی دلی کے تیئں مزید شکوک بڑھ جائیں گے۔ ڈاکٹر خان کہتے ہیں’ کشمیر پہاڑوں اور پہاڑیوں سے گھری ایک خوبصورت جگہ ہے۔ یہاں کے روایتی راستے بند پڑے ہیں۔ ان میں سرینگر۔مظفرآباد روڑ اور مغل روڑ زیادہ اہم ہیں۔ اگر ان ہی راستوں کو بحال کیا جاتا اور سرینگر۔جموں شاہراہ کو بھی زیادہ محفوظ بنایا جاتا تو کافی تھا۔ریل تو ہماری جغرافیائی پہچان کو ختم کر دے گی‘۔
بارہمولہ تاجروں کے نمائندہ بشیر کنرو کا کہنا ہے کہ ’لوگوں نے لاکھوں کنال زمین ریلوے لائن کی خاطر سرکار کو معتدل داموں پر بیچ ڈالی ہے۔ انہیں یقین تھا کہ ریلوے لائن انہیں پورے ہندوستان اور دنیا کی تجارت کے ساتھ مربوط کرے گی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت ہند کشمیر ٹرین کو سرکاری مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے‘۔ واضح رہے کشمیری ہمیشہ زمین کے معاملے میں حساس رہے ہیں، اور آٹھ سو کنال یا سو ایکڑ جنگلاتی زمین کی ایک ہندو ٹرسٹ کو منقلی کے معاملے پر ہی حالیہ عوامی تحریک برپا ہوئی تھی۔ لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ ادھمپوراور قاضی گنڈ سے لے کر بارہمولہ تک لاکھوں کنال زمین ریلوے لائن کے مصرف میں آگئی لیکن اس کے خلاف کوئی عوامی ردعمل نہیں ہوا۔ کپوارہ کے غلام رسول شاہ کہتے ہیں کہ جس فراخدلی اور آمادگی کے ساتھ لوگوں نے زمین اور جغرافیائی پہچان کو داؤ پر لگا دیا ہے اس سے ان کی توقعات کی شدّت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ’ظاہر ہے لوگوں کو توقع تھی کہ ایک اقتصادی انقلاب آئے گا۔ لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘ بعض مبصرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ بھارت کو دراصل ہمسایہ ملک چین سے ریلوے لائنوں کی افادیت کا اشارہ ملا ہے۔ کیونکہ چین نے تبّت پر مکمل فوجی کنٹرول حاصل کرنے کے لئے تبّت کے دارالحکومت لہاسہ ریلوے نظام کے ذریعہ چین کے وسیع تر ٹرین سلسلہ کے ساتھ مربوط کردیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت ہند کے محکمہ ریلوے نے یہاں کے مقامی اخبارات میں اس ٹرین سروس کے بارے جو اشتہارات شائع کروائے ہیں، ان میں اسے ’قومی یکجہتی کا ایک انتہائی اہم رابطہ‘ قرار دیتے ہوئے اس نئی ریلوے لائن کو قوم کے نام وقف کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا ’کشمیر سے انخلا، قیاس آرائیاں ہیں‘04 March, 2007 | انڈیا کشمیرگول میز 24 اپریل کو ہو گی14 April, 2007 | انڈیا کشمیر ٹرین تین سال لیٹ ہوگئی19 June, 2007 | انڈیا نہ عمرعبداللہ خوش نہ مفتی سعید12 June, 2007 | انڈیا ’مشرف کی مشکل نہیں بڑھانا چاہتے‘10 June, 2007 | انڈیا وزیراعظم کے فنڈ سے پیسہ غائب24 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||