BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 October, 2007, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیراعظم کے فنڈ سے پیسہ غائب
وزیراعظم منموہن سنگھ کے دفتر کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے
ہندوستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل کیے گئے دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ وزیراعظم کے فنڈ میں سونامی اور کشمیر کے زلزلہ کے لیے عطیہ کی گئی تیس لاکھ سے زيادہ روپے کی رقم غائب ہے۔

مجیب الرحمن نامی ایک شخص نے معلومات کے حق سے متعلق قانون کے تحت ایک عرضی داخل کرنے کے بعد کہا کہ مختلف تباہی سے متاثرہ افراد کے لیے عطیہ کی گئی رقم یا تو کہیں اور چلی گئی یا پھر ویز اعظم کے فنڈ میں جمع ہی نہیں کی گئی۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ 2001 میں گجرات کے زلزلے، 1999 میں کرگل کی جنگ ، اڑیسہ کے طوفان، 2004 میں سونامی اور 2005 میں کشمیر میں آنے والے زلزلے کے دوران عطیہ کی گئی رقم غائب ہے۔

مسٹر رحمن ریاست چھتیس گڑھ میں ایک چیف لیبارٹری ٹکنیشیئن ہیں۔ انہوں نے یہ قدم ملازمین کی تنخواہوں سے تباہی کے موقع پر وزیر اعظم کے فنڈ کے لیے رقم کاٹنے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اٹھایا تھا۔

چیف انفارمیشن کمیشنر کی جانب سے دیے گئے احکامات پر جب وزیر اعظم کے دفتر نے اس متعلق تفتیش کی تو پتہ چلا کہ انہیں وہ رقم حاصل ہی نہیں ہوئی ہے۔

مجیب الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ قدرتی آفات کے وقت ان کی بھی ایک دن کی تنخواہ اسی طرح کٹتی ہے جیسے ملک کے دیگر ملازمین کی۔ ’لیکن اس متعلق ہم سے کبھی پوچھا نہیں جاتا ہے۔‘ مسٹر رحمن کا کہنا ہے کہ ان کا یہ قدم قومی مفاد کے لیے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے ان کی درخواست کے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ لیکن مجیب الرحمن کہتے ہيں کہ ’اس کے لیے شاید حکومت چیف انفارمیشن کمیشنر وجاہت حبیب اللہ کی جانب سے حکم کا انتظار کر رہی ہے۔‘

اس مہم کے دوران مسٹر رحمن اپنے تجربات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مجھے بونس دیر سے ملتا ہے اور میرا تبادلہ کرنے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں لیکن اس دوران مجھے اپنے ان خاموش ساتھی ملازمین کی حمایت حاصل ہوئی ہے جو مجھے کھلے طور تر حمایت فراہم کرنے سے ڈرتے ہیں۔‘

ہندوستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن دو برس قبل نافذ کیا گیا تھا اور اس مدت میں کئی اہم مسائل منکشف ہوئے ہیں۔ لیکن حالیہ معاملہ وزیر اعظم کے دفتر کا پہلا معاملہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد