BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 October, 2007, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈھائی لاکھ صفحوں کا جواب

پٹنہ میڈیکل کالج
ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق جو اطلاعات طلب کی گئی تھیں وہ ڈھائی لاکھ صفحات میں تیار ہوئی ہیں
پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل یعنی پی ایم سی ایچ کی جانب سے اطلاعات حاصل کرنے کے حق کے تحت طلب کی گئی بعض جانکاری کے لیے پانچ لاکھ روپے کا بل دیا گیا ہے۔

ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ اطلاع دی ہے کہ جوابات ڈھائی لاکھ سے زائد صفحات پرمشتمل ہیں۔

پی ایم سی ایچ سے یہ جانکاری ’ہم لوگ‘ ٹرسٹ کی محترمہ پروین امان اللہ نے طلب کی ہے۔ محترمہ پروین ریاست کے داخلہ سیکریٹری افضل امان اللہ کی اہلیہ ہیں۔

محترمہ پروین نے پی ایم سی ایچ انتظامیہ سے جن امور کی جانکاری طلب کی تھی ان میں وہاں کام کر رہے ڈاکٹروں کی تعداد، انکے نام، آنے جانے کے اوقات اور انکی حاضری وغیرہ کی جانکاری طلب کی تھی۔

بہار میں بڑے پیمانے پر ڈاکٹر سرکاری نوکری میں رہتے ہوئے بھی نجی پریکٹس کرتے ہیں اور کئی بار ان کے وقت پر سرکاری ہسپتال میں نہ پہنچنے کی شکایات ملتی ہیں۔اس تناظر میں یہ جانکاری طلب کی گئی ہے۔

پروین امان اللہ نے یہ اطلاع مانگی ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جونیئر ڈاکٹر کتنی بار ہڑتال پر گئے، دوران ہڑتال کیا ڈاکٹروں کو تنخواہیں دی گئیں، اگر ہاں تو اسکے لیے کون ذمہ دار ہے اور ہڑتال سے ہسپتال پر کیا اثر پڑا۔

انہوں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ہڑتال کے دوران علاج نہ ہونے کے سبب مرنے والے مریضوں کے اہل خانہ کو معاوضہ کون دیگا۔

پی ایم سی ایچ انتظامیہ در اصل اطلاعات چھپانا چاہتی ہے اس لیے انتظامیہ نے ڈھائی لاکھ صفحات پر مبنی جواب تیار کرنے کی اطلاع بھجوائی ہے
مسز امان اللہ

ریاست میں بارہا ہسپتال کے ڈاکٹر ہڑتال پر چلے جاتے ہیں اور ان اوقات میں علاج کے بناء پر مریضوں کے اموات کی اطلاع ملتی ہے۔

پی ایم سی ایچ سے ایسی اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش میں پروین امان اللہ کے ساتھ ساتھ نائب وزیراعلٰی سشیل کمار مودی کی کزن ریکھا مودی بھی پیش پیش رہی ہیں۔ بعض اوقات دونوں خواتین نے ہسپتال کا معائنہ بھی کیا تو انتظامیہ سے ان کی تلخ کلامی کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

اطلاعات تک رسائی کے حق کا استعمال کرتے ہوئے پروین امان اللہ نے پی ایم سی ایچ میں آپریشن تھیئٹر اور دیگر سامان کی بھی اطلاعات طلب کی ہیں۔

بہار میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت محض دس روپے میں اطلاعات حاصل کرنے کا قانون نافذ ہے لیکن اسکے لیے پانچ لاکھ کا بل بنانے پر لوگوں کو حیرت ہوئی ہے۔

مسز امان اللہ کا کہنا ہے کہ پی ایم سی ایچ انتظامیہ در اصل اطلاعات چھپانا چاہتی ہے اس لیے انتظامیہ نے ڈھائی لاکھ صفحات پر مبنی جواب تیار کرنے کی اطلاع بھجوائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم سی ایچ سوالات کا جواب نہ دیکر غیر واضح دستاویز کی عکسی کاپیاں لینے کو کہہ رہی ہے جسکا کوئی مطلب نہیں۔

دوسری جانب پی ایم سی ایچ کے پبلک انفارمیشن آفیسر ڈاکٹر آر کے سنگھ کا کہنا ہے کہ جو اطلاعات طلب کی گئی تھیں وہ ڈھائی لاکھ صفحات میں تیار ہوئی ہیں۔

مسز پروین نے اس جواب کو لینے سے انکار کر دیا ہے اور انہوں نے ریاستی انفارمیشن کمیشن میں اپیل داخل کر کےضروری اطلاعات مناسب طریقے سے فراہم کروانے کو کہا ہے۔اس اپیل پر جلد ہی سماعت ہونی ہے۔

ڈاکٹروں کی ہڑتال ختم
بہار: تحفظ کی یقین دہانی پر ہڑتال کا خاتمہ
بہار میں ایڈزایڈز کے بدحال مریض
بہار میں ایڈز کے مریضوں کی کسمپرسی
بہار کا سانپ ہسپتال
مریضوں کا علاج پتھر اور جڑی بوٹیوں سے
انکفلائٹس کا قہر
بہار میں انکفلائٹس سے متعدد بچے ہلاک
اسی بارے میں
بہار میں موت کی دوڑ
20 April, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد