ڈھائی لاکھ صفحوں کا جواب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل یعنی پی ایم سی ایچ کی جانب سے اطلاعات حاصل کرنے کے حق کے تحت طلب کی گئی بعض جانکاری کے لیے پانچ لاکھ روپے کا بل دیا گیا ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ اطلاع دی ہے کہ جوابات ڈھائی لاکھ سے زائد صفحات پرمشتمل ہیں۔ پی ایم سی ایچ سے یہ جانکاری ’ہم لوگ‘ ٹرسٹ کی محترمہ پروین امان اللہ نے طلب کی ہے۔ محترمہ پروین ریاست کے داخلہ سیکریٹری افضل امان اللہ کی اہلیہ ہیں۔ محترمہ پروین نے پی ایم سی ایچ انتظامیہ سے جن امور کی جانکاری طلب کی تھی ان میں وہاں کام کر رہے ڈاکٹروں کی تعداد، انکے نام، آنے جانے کے اوقات اور انکی حاضری وغیرہ کی جانکاری طلب کی تھی۔ بہار میں بڑے پیمانے پر ڈاکٹر سرکاری نوکری میں رہتے ہوئے بھی نجی پریکٹس کرتے ہیں اور کئی بار ان کے وقت پر سرکاری ہسپتال میں نہ پہنچنے کی شکایات ملتی ہیں۔اس تناظر میں یہ جانکاری طلب کی گئی ہے۔ پروین امان اللہ نے یہ اطلاع مانگی ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جونیئر ڈاکٹر کتنی بار ہڑتال پر گئے، دوران ہڑتال کیا ڈاکٹروں کو تنخواہیں دی گئیں، اگر ہاں تو اسکے لیے کون ذمہ دار ہے اور ہڑتال سے ہسپتال پر کیا اثر پڑا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ہڑتال کے دوران علاج نہ ہونے کے سبب مرنے والے مریضوں کے اہل خانہ کو معاوضہ کون دیگا۔ ریاست میں بارہا ہسپتال کے ڈاکٹر ہڑتال پر چلے جاتے ہیں اور ان اوقات میں علاج کے بناء پر مریضوں کے اموات کی اطلاع ملتی ہے۔ پی ایم سی ایچ سے ایسی اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش میں پروین امان اللہ کے ساتھ ساتھ نائب وزیراعلٰی سشیل کمار مودی کی کزن ریکھا مودی بھی پیش پیش رہی ہیں۔ بعض اوقات دونوں خواتین نے ہسپتال کا معائنہ بھی کیا تو انتظامیہ سے ان کی تلخ کلامی کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ اطلاعات تک رسائی کے حق کا استعمال کرتے ہوئے پروین امان اللہ نے پی ایم سی ایچ میں آپریشن تھیئٹر اور دیگر سامان کی بھی اطلاعات طلب کی ہیں۔ بہار میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت محض دس روپے میں اطلاعات حاصل کرنے کا قانون نافذ ہے لیکن اسکے لیے پانچ لاکھ کا بل بنانے پر لوگوں کو حیرت ہوئی ہے۔ مسز امان اللہ کا کہنا ہے کہ پی ایم سی ایچ انتظامیہ در اصل اطلاعات چھپانا چاہتی ہے اس لیے انتظامیہ نے ڈھائی لاکھ صفحات پر مبنی جواب تیار کرنے کی اطلاع بھجوائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم سی ایچ سوالات کا جواب نہ دیکر غیر واضح دستاویز کی عکسی کاپیاں لینے کو کہہ رہی ہے جسکا کوئی مطلب نہیں۔ دوسری جانب پی ایم سی ایچ کے پبلک انفارمیشن آفیسر ڈاکٹر آر کے سنگھ کا کہنا ہے کہ جو اطلاعات طلب کی گئی تھیں وہ ڈھائی لاکھ صفحات میں تیار ہوئی ہیں۔ مسز پروین نے اس جواب کو لینے سے انکار کر دیا ہے اور انہوں نے ریاستی انفارمیشن کمیشن میں اپیل داخل کر کےضروری اطلاعات مناسب طریقے سے فراہم کروانے کو کہا ہے۔اس اپیل پر جلد ہی سماعت ہونی ہے۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹروں کی ہڑتال میں جزوی کمی15 November, 2004 | انڈیا ’طبی سیاحت کے لیے بھارت آئیں‘29 September, 2004 | انڈیا کالا آزار: بہار کا سیاہ قاتل14 September, 2007 | انڈیا بِہار ایڈز:’مریضوں میں باون فیصد اضافہ‘23 May, 2007 | انڈیا بہار میں خشک سالی کا خطرہ02 August, 2005 | انڈیا بہار میں موت کی دوڑ20 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||