BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 March, 2007, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: ایڈز کے مریضوں کی بدحالی

بہار میں ایڈز
بہار میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے زیادہ تر مریض غریب مزدور ہیں
رام کمار کو ایڈز ہے اور ہسپتال کے وارڈ کے اندر جگہ نہیں اس لیے باہر زمین پر بستر بچھا لیا ہے۔ انہیں دو روز سے اس بات کا انتظار ہے کہ کوئی نرس انہیں انجکشن کے ذریعہ وہ دوا چڑھا دے جو ڈاکٹر نے لکھی ہے۔

رام کمار کے بھائی جب کسی ’سسٹر ‘ کو اس کام کے لیے تیار نہ کر سکے تو خود ہی ہمت کر کے نرس سے پوچھا کہ کس جگہ انجکشن لگانا ہے اور یوں رام کمار کو وہ دوا مل سکی۔

اسی وارڈ کے باہر دوسری جانب سشیلا دیوی بھی ہیں جو ایڈز میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ حاملہ بھی ہیں۔ ان کے گھر والے نرس کے آگے پیچھے لگے ہیں۔ انجکشن لگنا ہے اور نرس کو پورے معاملے کا پتہ بھی ہے۔ نرس انکار بھی نہیں کرتی لیکن اس کا آخری جواب ہوتا ہے ’میری ڈیوٹی ختم ہوگئی ہے، دوسری ’سسٹر ‘ سے دلوا لو‘۔ جب دوسری نرس آتی ہے تو اس کا جواب ہوتا ہے ’سوئی تو صبح لگنی تھی، اب کل لگوا لینا۔‘ آخر کار کسی سینئیر نرس کو یہ کام کرنا پڑتا ہے۔

یہ دونوں مثالیں مظفرپور کے شری کرشن میڈیکل کالج ہسپتال کی ہیں جہاں ایڈز کے مریضوں کے لیے ’اینٹی ریٹرو وائرل ٹریٹمینٹ‘ دستیاب ہے۔ مظفرپور کے علاوہ ایسا ’اے آر ٹی‘ سینٹر صرف پٹنہ میڈیکل کالج ہسپتال میں ہے۔

مریضوں کو ہسپتال کے برآمدوں میں جگہ ملتی ہے

اے آر ٹی سینٹر مظفرپور کے ڈاکٹر امت داس کہتے ہیں کہ بیداری مہم کے باوجود مریضوں کے علاج میں اس طرح کی شکایتیں ملتی رہتی ہیں۔ شری کرشن میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل میں نرسوں کی میٹرن اروندھتی کہتی ہیں کہ جن نرسوں کو تربیت دی گئی ہے وہ تو ایڈز کے مریضوں کو انجکشن یا سلائن دینے سے انکار نہیں کرتیں لیکن اکثر نئی نرسوں کو اس کے لیے تیار کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

اروندھتی کہتی ہیں کہ کئی بار معیاری دستانے نہ ہونے اور کام زیادہ ہونے کے سبب بھی ایڈز کے مریضوں کی نگہداشت مشکل ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سرکاری ہسپتال کی نرسیں ہی ایڈز سے متاثرہ حاملہ خواتین کی زچگی کی ذمہ داری سنبھالنے کو تیار ہوتی ہیں۔ ان کے بقول نجی میٹرنٹی سنٹرز اس طرح کے کیس تو لیتے ہی نہیں ہیں۔

ڈاکٹر داس کے مطابق ’اے آر ٹی‘ شروع کرنے کے بعد دوا کا ایک دن بھی ناغہ ہونے سے پورا علاج متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’اس معاملے کے دوسرے پہلوؤں کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔جس تیزی سے ایچ آئی وی اور ایڈز کے کیسیز میں اضافہ ہو رہا ہے اس تناسب سے ہسپتال کے عملے میں اضافہ نہیں ہوا ہے اس لیے بھی ایسی مشکلات پیش آتی ہیں‘۔

مظفرپور کے علاوہ ’اے آر ٹی‘ سینٹر صرف پٹنہ میڈیکل کالج ہسپتال میں ہے۔

مسٹر داس کہتےہیں’پوری ریاست میں صرف دو اے آر ٹی سینٹر ہونے کی وجہ سے کئی بار مریض اس لیے مفت ملنے والی دوا لینے مظفرپور یا پٹنہ نہیں پہنچ پاتے کہ اس کے پاس آنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے ہیں‘۔

بہار ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں ایڈز کا پہلا معاملہ سنہ انیس سو بانوے میں سامنے آیا تھا۔ سنہ دو ہزار پانچ میں ریاست میں ایچ آئی وی پازیٹو کے سات ہزار مریض تھے لیکن سنہ دو ہزار چھ میں یہ تعداد گیارہ ہزار سے زائد ہوگئی۔

ایچ آئی وی اور ایڈز پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’سمیک ‘ کے سنجے دیو کہتے ہیں کہ بہار میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے زیادہ تر مریض ریاست سے باہر رہنے والے غریب مزدور ہیں۔

سنجے دیو کہتے ہیں کہ پٹنہ اور مظفرپور جیسی بڑی جگہوں کو چھوڑ دیا جائے تو سیتامڑھی، مدھوبنی، پورنیا اور کشن گنج جیسے علاقوں میں نرس تو کیا ڈاکٹر بھی ایڈز میں مبتلا مریضوں کو دیکھنے سے صاف منع کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد