تمل ناڈو:’خواتین کنڈوم‘ کی تقسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو ميں خواتین کے درمیان ایڈز کی بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر ’خواتین کنڈوم‘ تقسیم کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے ایڈز کو روکنے کے لیے پروگرام کے تحت ریاست میں ابتدائی چار ہفتوں میں تقریباً تین ہزار جسم فروشوں میں چھ ہزار ’خواتین کنڈوم‘ تقسیم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ’خواتین کنڈوم‘ تقسیم کرنے کا یہ پروگرام ’تمل ناڈو ریاستی ایڈز کنٹرول سوسائٹی‘ اور ’ہندوستان لیٹکس خاندان منصوبہ بندی پرموشن ٹرسٹ‘ کے باہمی اشتراک سے جاری ہے۔ تمل ناڈو محکمہ صحت کے سیکرٹری وی کے کوپّوراج کا کہنا ہے ’ اس پروگرام کا مقصد تمل ناڈو میں آسانی سے ایڈز کے خطرے کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد میں کمی لاناہے‘۔ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کی پراجیکٹ ڈائریکٹر محترمہ سوپریا ساہو کا کہنا ہے’خواتین کنڈوم پہلی بار خواتین کی رضامندی پر تقسیم کیے جا رہے ہیں تاکہ عورتیں اپنے بچہ پیدا کرنے کے اختیار کو حاصل کر سکیں‘۔ حالانکہ اس سے قبل بھی ریاست میں بعض کمپنیوں کی جانب سے خواتین کنڈوم فروخت کیے گئے تھے لیکن زیادہ قیمت کےسبب اس سے خواتین نے استفادہ نہیں کیا تھا۔ خیال رہے کہ مردوں کا کنڈوم کافی سستاہے جبکہ خواتین کنڈوم کی قیمت ایک سو روپے سے بھی زیادہ تھی۔ بہرحال ایڈز کنٹرول سوسائٹی نے قیمتوں کی پریشانی سے نمٹنے کے لیے فی کنڈوم تین روپے کے حساب سے چھ ہزار خواتین کنڈوم خریدے ہیں جبکہ اس کی اصل قیمت پچاس روپیہ ہے۔ خواتین کو یہ کنڈوم پانچ روپے میں دستیاب ہوں گے اور جو منافع ہوگا اسے سیکس ورکز کے درمیان بیداری پھیلانے والوں کو مراعات کے طور پر دیا جائےگا۔ پانچ ہزار سیکس ورکز کے درمیان کام کرنے والے ایک رضاکار تنظیم کےسربراہ ڈاکٹر لکشمی بائی کا کہناہے کہ خواتین کے درمیان ایڈز سے بچنے کے لیے خواتین کنڈوم ایک بہتر طریقہ ہے۔ان کا کہنا ہے’اگر ہم اس پروگرام میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ سیکس ورکز کے لیے اچھا ہوگا کیونکہ انہیں روزانہ تشدد اور سیف سیکس کو لیکر مردوں سے بات چیت کرنے میں پریشانی ہوتی ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا’مرد اکثر کنڈوم پہنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں اور ایسے حالات ميں خواتین کنڈوم پیشہ ور سیکس روکز کے لیے ایک ببہتر متبادل ہے‘۔ ریاست ميں خواتین کنڈوم کی تقسیم دراصل قومی ایڈز کنٹرول تنظیم کی جانب سے آٹھ ریاستوں میں ان کنڈومز کی تقسیم کی مہم کا حصہ ہے۔ اس فہرست میں ممکنہ طور پر ایڈز کے خطرے سے زیادہ دوچار ریاستیں مہاراشٹر، آندھرا پردیش، کرناٹک، گجرات، مغربی بنگال اور اتر پردیش شامل ہیں۔ | اسی بارے میں شادی کے لیے ایڈز ٹیسٹ ضروری19 December, 2006 | انڈیا بھارت میں ایڈز کا پھیلاؤ کتنا؟13 December, 2006 | انڈیا کونڈوم انڈین مردوں کے لیے بڑے08 December, 2006 | انڈیا آندھرا: ایڈز سےمتاثرہ دوسری بڑی ریاست02 December, 2006 | انڈیا ایڈز اب بھارت کے دیہاتوں میں بھی01 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||