BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 December, 2006, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت میں ایڈز کا پھیلاؤ کتنا؟
ایڈس سے متاثہ ماں بیٹے
نئےسروے کےمطابق ایچ آئی وی سےمتاثرہ افراد کی تعداد تخمینے سے بہت کم ہے
ہندوستان میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد پتہ کرنے کے لیے جن طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان پر شکوک و شبہات ظاہر کئے گیے ہیں۔

ایک نئےجائزے کے مطابق بھارت میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی جو تعداد بتائی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اسکے مطابق بھارت میں 57 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔

لیکن برطانیہ کے بی ایم سی میڈیسین نامی رسالے میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ ہندوستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی جو تعداد بتائی گئي ہے اس میں سے صرف 40 فیصد لوگ ہی متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس جائزے کے سامنے آنے پر محکمہ صحت کے اہلکاروں نے ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
حال ہی میں امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے ہندوستان کو عالمی ایڈز کی وبا کا مرکز قرار دیا تھا۔

نیا سروے ہندوستان کی جنوبی ریاست آندھراپردیش کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے گنتور میں کیا گيا ہے۔

جائزہ لینے والوں نے اپنی رپورٹ ضلع کے 15 سے 49 سال کی عمر کے 12617 افراد کے خون کے نمونوں کی جانچ کے بعد تیار کی ہے۔

اس جائزے کے مطابق گنتور ضلع میں 45900 افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں جبکہ سرکاری طریقوں سے حاصل کیے گئے جائزے کے مطابق یہاں 112600 افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔

اس سروے کے مطابق ہندوستان میں 32 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

جا‎ئزے کے مطابق ایسا ممکن ہے ’ہندوستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد جاننے کے لیے سرکاری سطح پر جو طریقہ اپنا یا گیا ہے اس کے سبب متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ بتائی گئی ہو۔‘

سروے کرنے والے ڈاکڑ للت ڈنڈونا نے کہا ’ ہو سکتا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد کم ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پریشانی پر قابو پا لیا گیا ہے۔‘

سرکاری جائزے میں حاملہ عورت، جنسی بیماری کے کلینک اور عام ہسپتالوں سے نمونے حاصل کئے جاتے ہیں اور اسی بنیاد پر رپورٹ تیار کی جاتی ہے کہ ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد کیا ہے۔

جبکہ نئے سروے میں لوگوں کے خون کے نمونے براہ راست طور پر لیے گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ایسو سی ایٹیڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کے ایڈز کےادارے کے سربراہ ڈاکڑ ڈینیس براؤن نے اس جائزے کو بہتر اور کارآمد قرار دیا ہے۔
لیکن ان کا کہنا ہے’ اگر یہ رپورٹ گنتور کے لیے ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہی طریقہ پورے بھارت کے لیے درست ہو۔‘

حال ہی میں جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر بھات میں تیزی سے پھیلتے ایڈز پر قابو نہیں پایاگیا تو اس کی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
ایڈز پر کلنٹن کی پہل
01 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد