BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 09:12 GMT 14:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کالا آزار: بہار کا سیاہ قاتل

کالا آزار
بھرت پاسوان کا علاج مظفرپور کے سرکاری ہسپتال میں چل رہا ہے
بھرت پاسوان دس دنوں سے نحیف الحالی میں مظفرپور میں ہسپتال کے بستر پر پڑے ہیں۔ قریب پینتیس سالہ بھرت کو کالا آزار ہے۔ گھر (ضلع چھپرہ) میں بیوی اور پانچ بچے ہیں۔ یہاں ان کے بھائی جے سو پاسوان اور ان کی والدہ تیمارداری میں لگے ہیں۔ جے سو پاسوان کہتے ہیں کہ ’ہم تو یہاں بھائی کو بچانے میں لگے ہیں، گھر پر بچے بھوکے ہیں یا کوئی انہیں کچھ کھانے کو دے رہا ہے پتہ نہیں۔‘

یہ مسئلہ صرف بھرت پاسوان کا نہیں۔ ریاست بہار میں ہزاروں افراد ہر سال کالا آزار میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس بخار سے ہر سال ہزاروں افراد بشمول بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اس بیماری میں جلد کا رنگ کالا پڑ جاتا ہے اور اسی مناسبت سے اس کا نام کالا آزار بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کالا آزار میں پیٹ درد، جگر کے بڑھنے اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یرقان کی شکایات ہوتی ہیں۔

کالا آزار یا لیش مینیاسس پر قابو پانے کے لیے حکومت بہار نے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ اس ٹاسک فورس کے سربراہ سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر سی پی ٹھاکر نے ہمیں بتایا کہ عالمی تناسب میں کالا آزار کے اسی فی صد مریض بہار میں پائے جاتے ہیں۔

بھرت پاسوان کا علاج ریاست کے شمالی شہر مظفرپور کے بڑے سرکاری ہسپتال شری کرشن میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل (ایس کے ایم سی ایچ) میں چل رہا ہے۔ اس ہسپتال میں مشرقی و مغربی چمپارن، سیتامڑھی، شوہر، سمستی پور، ویشالی اور دوسرے اضلاع سے بھی کالا آزار کے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔

کالا آزار
مریضوں کی تعداد کئی بار ہسپتال میں موجود بستروں سے زیادہ ہو جاتی ہے
یہاں بچوں کے وارڈ میں کوئی ساٹھ بچے داخل ہیں جن میں سے چالیس کو کالا آزار کی شکایت ہے۔ یہاں موجود سسٹر کنچن کہتی ہیں کہ یہ تعداد بڑھ جاتی ہے کم نہیں ہوتی۔

’مریضوں کی تعداد کئی بار ہسپتال میں موجود بستروں سے زیادہ ہو جاتی ہے اور مجبوری میں ایک ہی بیڈ پر ایک سے زیادہ بچوں کو رکھا جاتا ہے۔کئی بار بڑے مریضوں کی فرش پر سلانے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔‘

شیوہر ضلع سے آئے محمد فاروق کے پانچ سالہ لڑکے محمد کبیر کو ایک ماہ سے کالا آزار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ محنت مزدوری سے گھر چلاتے تھے لیکن جب سے ہسپتال آئے ہیں آمدنی کا ذریعہ بند ہے۔

فاروق نے بڑی مشکل سے کہا ’بچہ بچ جائے یہی بہت ہے۔‘

کالا آزار ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹرسی پی ٹھاکر نے بتایا کہ گزشتہ سال تیس ہزار لوگ کالا آزار کے علاج کے لیے مختلف ہسپتالوں میں داخل ہوئے جن میں سے کم از کم پانچ ہزار افراد موت کی نیند سو گئے۔

بقول ڈاکٹر ٹھاکر ’ کالا آزار بہار کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس عارضہ میں مبتلا ہونے والے اور اس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے لیکن اس جانب بقیہ امراض کی نسبت بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ریاست کے اڑتیس اضلاع میں سے اکتیس میں کالا آزار کے مریض ملتے ہیں لیکن شمالی بہار میں ان کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

ایس کے ایم سی ایچ کے ڈاکٹر سنیل کمار کہتے ہیں کہ کالا آزار عام طور پر ان خاندانوں میں ہوتا ہے جو مویشی پروری پر انحصار کرتے ہیں اور مچھروں سے بچاؤ کا انتنظام نہیں کر پاتے۔انہوں نے بتایا کہ کالا آزار ان مچھروں کے کاٹنے سے ہوتا ہے جنہیں ’سینڈ فلائی‘ کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر سنیل کے مطابق ’سینڈ فلائی‘ گوبر اور مرغیوں کے فضلے میں پایا جاتا ہے۔

کالا آزار ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر ٹھاکر نے بتایا کہ یہ بیماری عام طور پر دلت برادریوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو معاشی اور سماجی لحاظ سے بے حد کمزرو ہیں۔ ڈاکٹر ٹھاکر کے مطابق یادو (گوالے) برادری کے علاوہ مسلمانوں کے اس طبقے میں بھی یہ بیماری عام ہے جو مرغی اور بطخ وغیرہ پالتے ہیں۔

ریاستی حکومت کی جانب سے کالا آزار پر قابو پانے کے لیے کئی اعلانات کیے گیے ہیں۔ حکومت نے کالا آزار کے مریضوں اور ان کے ایک تیماردار کو روزانہ پچاس روپے دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس کے علاوہ کالا آزار کے مریض کو ہسپتال تک لانے کے لیے ہر گاؤں میں ایک ’کالا آزارسینانی‘ کی تقرری کی بھی تجویز ہے جنہیں فی مریض معاوضہ دیا جائے گا۔

ایس کے ایم سی ایچ کے ڈاکٹر سنیل کمار کے مطابق اکثر کالا آزار کے مرض کی تشخیص میں تاخیر کے سبب علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ بقول ڈاکٹر کمار ’جس طبقے کے لوگ کالا آزار کا شکار ہوتے ہیں ان کے لیے ہسپتال پہنچنا بھی مشکل ہوتا ہے، اس لیے کالا آزار سینانی کی تقرری سے مدد مل سکتی ہے۔‘

کالا آزار ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر ٹھاکر کہتے ہیں کہ کالا آزار پر قابو پانے کے لیے ڈی ڈی ٹی کا چھڑکاؤ بہت ضروری ہے مگر اس میں کوتاہی کی وجہ سے کالا آزار اب تک ہزاروں لوگوں کو شکار بنا رہا ہے۔

بہار کی حکومت نے سنہ دو ہزار دس تک کالا آزار کو قابو میں کرنے کا ہدف طے کیا ہے۔یہ ہدف حاصل ہو جائے تو بہار کے ہزاروں لوگوں کو اس سیاہ قاتل سے نجات مل سکے گی۔

بِہار میں پھیلتا ایڈز
ایڈز،ایچ آئی وی کے مریض بڑھ گئے
بہار کا سانپ ہسپتال
مریضوں کا علاج پتھر اور جڑی بوٹیوں سے
بہاربہار کی مشکل
اطلاعات تک رسائی، توقعات میں اضافہ
’جنگل راج کا دور‘انڈیا میں’جنگل راج‘
’لوگوں کا انصاف کے نظام سے یقین اٹھ رہا ہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد