اطلاعات تک رسائی اور توقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ظلم اور زیادتی کے خاتمے اور ترقی کے لیے اطلاعات تک رسائی کے قانون کو ہتھیار بتا کر تحریک چلانے والا طبقہ بہار میں اس قانون پر ہو رہے عمل درآمد کوسُست لیکن امید افزا قرار دے رہا ہے۔ حال ہی میں اپنی تاسیس کا پہلا سال مکمل کرنے والے بہار انفارمیشن کمیشن کے بعض فیصلوں کو ریاست میں مثبت نشانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمیشن نے اپنے حالیہ فیصلے میں بیگوسرائے ضلع کے ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ پر اس وقت تک ڈھائی سو روپے روزانہ کے حساب سے جرمانہ عائد کیا ہے جب تک کہ وہ متعلقہ فرد کے ذریعہ مانگی گئی اطلاع نہیں دے دیتے۔ بہار میں رائٹ ٹو انفارمیشن تحریک سے منسلک پروفیسر پربھاکر سنہا کہتے ہیں کہ بہار کو اس طرح کے کئی گنا زیادہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ریاستی کمیشن میں اپیل کرے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ اور دیگر نوجوان اس قانون کا سہارا لے رہے ہیں۔ بیگوسرائے ضلع کے پون کمار مہتو نے اپنی پنچایت میں اساتذہ کی تقرری سے متعلق اطلاع حاصل کرنی چاہی تھی۔ یہ اطلاع نہ دیئے جانے پر مسٹر مہتو نے کمیشن میں اپیل دائر کی تھی۔ کمیشن نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کیا ہے کہ ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ نے اطلاع دینے کے بجائے بہانے بنائے۔ ریاستی انفارمیشن کمشنر شکیل احمد کہتے ہیں کہ ایسے فیصلوں سے ریاست کے لوگوں کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کمیشن کے سیکریٹری ایس کے مشرا کے مطابق ریاستی کمیشن نے نومبر سے اپیل کی سماعت شروع کی ہے اور اب تک قریب آٹھ سو معاملے اسکے پاس پہنچے ہیں۔ مسٹر مشرا کے مطابق قریب سولہ معاملوں میں متعلقہ اہلکاروں پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اطلاعات تک رسائی کی تحریک چلانے والے پروفیس پربھاکر ٹھاکر کہتے ہیں کہ سرکاری اہلکار اب بھی بہانے بناتے ہیں۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ پولس ہیڈکوارٹر سے پولیس کے ذریعہ فائرنگ کی تعداد جاننے کے لیۓ آٹھ ماہ سے عرضی دے رکھی ہے لیکن انہیں یہ اطلاع نہ مل سکی ہے۔ اس بابت ریاستی انفارمیشن کمشنر شکیل احمد کہتے ہیں کہ بعض دفعہ اطلاعات ڈھونڈنا بھی مشکل ہوتا ہے اور اس وجہ سے تاخیر ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیادہ پرانی اطلاع دینے میں تاخیر ہونا لازمی ہے۔ ریاستی انفارمیشن کمیشن کا پہلا سال مکمل ہونے پر منعقد پروگرام میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی اعتراف کیا کہ اطلاعات دینے میں اہلکار پرانی ذہنیت کی وجہ سے ٹال مٹول کرتے ہیں۔ سینئر صحافی شریکانت کہتے ہیں کہ جس ریاست میں کوئی افسر خود کو عوام کے سامنے جوابدہ ہی نہیں مانتا وہاں رائٹ ٹو انفارمیشن قانون بہت امید افزا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اہلکار اب بھی ٹال مٹول کرتے ہیں لیکن جرمانہ عائد کرنے اور اس طلاع کو عوامی بنانے سے کافی مثبت اثر پڑے گا۔ | اسی بارے میں بہار: ایڈز کے مریضوں کی مشکل13 August, 2007 | انڈیا بہار: ایف آئی آر بذریعہ ای میل بھی22 August, 2007 | انڈیا بہار: ڈریس کوڈ کی پابندی کا حکم26 August, 2007 | انڈیا لوکل کرائم، گلوبل تشویش، نتیجہ صفر29 August, 2007 | انڈیا وزیراعٰلی کی آواز نہ پہچاننے پرتبادلہ29 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||