BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 21:13 GMT 02:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بِہار ایڈز:’مریضوں میں باون فیصد اضافہ‘

’اضافہ مریضوں میں نہیں بلکہ اعداد و شمار میں ہوا ہے‘
بھارت کی ریاست بہار میں کیے جانےوالے ایک سرکاری سروے میں ایک سال کے دوران ایڈز اور ایچ آئی وی پازیٹو لوگوں کی تعداد میں قریباً باون فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بہار ایڈز کنٹرول سوسائٹی کے جوائنٹ ڈائرکٹر وشال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اپریل سنہ دو ہزار چھ سے اس سال مارچ تک ایچ آئی وی جانچنے کے مراکز پر ایچ آئی وی پازیٹو یا ایڈز کے کل چار ہزار دو سو چون کیس سامنے آئے جبکہ سنہ دو ہزار پانچ اور چھ کے درمیان یہ تعداد دو ہزار سات سو چھیاسی تھی۔

ریاستی ایڈز کنٹرول سوسائٹی نے سینٹینل سرویلنس رپورٹ بھی جاری کی ہے جس کے مطابق ایڈز کے شکار یا ایچ آئی وی پازیٹو لوگوں کی تعداد کچھ نئے علاقوں میں بڑھی ہے اور نیپال کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سرکاری اہل کار ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریضوں میں اضافے کو تشویش ناک بتا رہے ہیں لیکن اس حوالے سے کام کرنے والے بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ اضافہ مریضوں میں نہیں بلکہ اعداد و شمار میں ہوا ہے۔

بہار میں ایڈز کے سلسے میں بیداری مہم چلا رہی تنظیم ’سمیک’ کے اہلکار سنجے دیو کہتے ہیں کہ ایڈز اور ایچ آئی وی پازیٹو کے مریض پہلے بھی بہت تھے مگر حکام اس حقیقت کو تسلیم کرنے سےگریز کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا’دوسری بات یہ بھی ہے کہ بیداری مہم کی وجہ سے لوگ اب تشخیصی مراکز پر پہنچ رہے ہیں جس کے نتیجے میں اعداد و شمار میں اضافہ ہو رہا ہے‘۔

سروے میں مظفر پور ضلع کو سب سے زیادہ متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ مظفر پور کے شری کرشن میڈیکل کالج ہسپتال میں ہی ایڈز کے مریضوں کے لیے ’اینٹی ریٹرو وائرل سنٹر‘ قائم ہے جو ریاست کا دوسرا ایسا مرکز ہے۔

اس مرکز کے ڈاکٹر سنیل کہتے ہیں کہ اس طرح کے اعداد و شمار سے یہ پتہ چلنا مشکل ہوتا ہے کہ ایڈز اور ایچ آئی وی پازیٹو کے معاملے بہار کے رہائشیوں کے ہیں یا ان لوگوں کے ہیں جو بہار سے باہر مزدوری کے لیے جاتے ہیں اور وہاں سے بیماری لے کر لوٹتے ہیں۔

سنجے دیو کہتے ہیں کہ بیداری مہم ان علاقوں میں تیز کرنے کی ضرورت ہے جہاں لوگ بہار چھوڑ کر جاتے ہیں اور سال میں ایک دو بار گھر لوٹتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے لوگ ’غیر محفوظ سیکس’ میں ملوث ہوتے ہیں اور خود ایچ آئی وی کا شکار ہونے کے ساتھ اپنی بیوی اور بچے کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد