انڈیا کا ’پہلا کنڈوم ڈسکو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی انڈیا کے شہر چندی گڑھ کے ایک نائٹ کلب نے کنڈوم کے بارے میں بیداری پیدا کرنے سے متعلق ایک نیا خیال پیش کیا ہے۔ اس خیال کے تحت اس کلب میں شراب ایسے جاموں میں پیش کی جاتی ہے جس پر کنڈوم کے اشتہارتی نشان بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ نشان کلب کی تقریبا ہر چیز پر بنے ہوئے ہیں جن میں ویٹرز کے کپڑے بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کلب میں رکھی ہوئی گول میزوں پر نوجوانوں کے لیے کارآمد پیغامات لکھے ہوئے ہیں۔ ان میں ’انجوائے سیفلی‘ یا پھر ’اپنی اور دوسروں دونوں کی حفاظت کریں‘ جیسے پیغامات شامل ہیں۔ اسی طرح بلز میں بقایا رقم میں کھلے پیسوں کی جگہ صارفین کو کنڈوم کے چھوٹے پیکٹس یا پھر کلب کی نشانیاں جن میں پیالے ، ٹی شرٹس اور ٹوپیاں شامل ہیں دی جاتی ہیں۔ ان نشانیوں پر بھی کنڈوم کے اشتہار موجود ہوتے ہیں۔ یہ سکیم سرکاری ادارے چندی گڑھ انڈسٹریل اینڈ ٹورزم کارپوریشن (سیکٹو) کی تازہ ترین کوشش ہے۔
بدھ کو اس کلب کے افتتاح کے موقع پر سیٹکو کے اہلکار نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کوشش انڈیا میں ایچ آئی وی اور ایڈز پر قابو پانے میں مدد فراہم کرے گی۔ کارپوریشن کے سربراہ جسبیر سنگھ بیر کا کہنا تھا ’ کنڈومز کو ایک دوست کی طرح دیکھنا چاہیے نہ کہ اس کے بارے میں بات کرنے میں شرمندگی محسوس کی جائے اور بات ہی نہ کی جائے‘۔ سیٹکو نے بتایا ہے کہ اس کلب تک عام آدمی کی رسائی ممکن بنانے کے لیے یہاں سستی قیمت والے جام پیش کیے جائيں گے اور کھانا بھی سستا ہوگا۔ مسٹر بیر کا کہنا تھا ’ کلب سے ہونے والی آمدنی ایچ آئی وی اور ایڈز کے بارے میں بیداری پیدا کرے گی اور ہم اس سے متعلق پیغامات پھیلائيں گے ‘۔ | اسی بارے میں تمل ناڈو:’خواتین کنڈوم‘ کی تقسیم14 March, 2007 | انڈیا کونڈوم انڈین مردوں کے لیے بڑے08 December, 2006 | انڈیا کنڈوم سےشرم مٹاؤ مہم کا آغاز03 November, 2006 | انڈیا بوتل میں کونڈوم، پیپسی کو جرمانہ27 April, 2006 | انڈیا بنارسی دریافت، کنڈوم کانیااستعمال30 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||