BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 August, 2006, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اطلاعات تک رسائی، عوامی احتجاج

’ہم عوام کو بیدار کرنے کے لیے تحریک چلا رہے ہیں‘
انڈیا میں اطلاعات تک رسائی کے قانون میں مجوزہ ترمیم کی مخالفت رفتہ رفتہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ معلومات تک رسائی کے قانون میں ترمیم لانے کی کوشش کو احتجاج کرنے والے سرکاری خامیوں کو چھپانے کی کوشش بتا رہے ہیں۔

گزشتہ برس ہندوستان کی پارلیمان نے سرکاری معلومات حاصل کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔ صرف ایک درخواست کے ذریعے اس قانون کی مدد سے حکومت کے کام کاج کی تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ عوام اس قانون کے ذریعے سرکار کے تمام منصوبوں اور سکیموں کے بارے میں پتہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن اب حکومت اس قانون میں ترمیم لانا چاہتی ہے۔

ترامیم کی مخالف کرنے والے میگسیسے ایوارڈ سے نوازے گئے سندیپ پانڈے احتجاج کے طور پر گزشتہ چھ روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔اس تحریک میں انّا ہزارے اور ارونا رائے جیسے معروف سماجی کارکن بھی شامل ہیں۔

پانڈے کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترامیم نہ لائی گئیں تو سرکار کی اصلیت سامنے آجائے گی اور اس قانون میں کوئی تبدیلی کی گئی تو لوگ یہ نہیں جان سکيں گے کہ سرکار ٹھیکے کسے دیتی ہے اور تبادلے اور تقرریاں کس طرح انجام دی جاتی ہے۔

مجوزہ ترامیم میں آفیشل نوٹنگ کو قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ مجوزہ ترمیم کے بعد سرکاری فائلوں میں کئے گئے تبصروں کے بارے میں معلومات کا حق قانون کے دائرے سے باہر ہو جائے گا۔ سماجی کارکن ژان درس کے مطابق ترامیم کے سلسلے میں عوام کسی غلط فہمی میں نہ رہیں اسی لیے یہ تحریک چلائی جا رہی ہے۔

’ابھی یہ مسئلہ ہے کہ فائل نوٹنگس کے بارے میں عوام کو کنفیوز کیا جا رہا ہے۔ فائل نوٹنگ کو جاننے کی اجازت پہلے تھی لیکن مجوزہ ترمیم میں اسے واپس لینے کی کوشش کی جا رہی ہے اس لیے عوام کو بیدار کرنے کے لیے ہم تحریک چلا رہے ہیں‘۔

معلومات تک رسائی کے قانون میں ترمیم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان ترامیم کی تجویز واپس نہیں لیتی احتجاج جاری رہے گا اور اگر بھوک ہڑتال سے بھی حکومت پر کوئی اثر نہ ہوا تو وہ احتجاج کے دوسرے طریقوں سے تحریک میں شدت لائیں گے

ملک گیر تحریک میں شامل دیگر سماجی کارکن ارونا رائے کے مطابق فی الوقت جو قانون موجود ہے، عوام اس قانون کی طاقت کو آہستہ آہستہ سمجھ رہے ہیں۔
موجودہ قانون سے عوام کو حکومت گرانے تک کی طاقت مل سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب یہ سب کو واضح ہو گیا ہے کہ یہ آزادی کی دوسری جنگ ہے۔ قانون میں ترمیم کے خلاف دلی کے علاوہ ممبئی میں بھی احتجاج جاری ہے۔

وہاں اس تحریک کی ذمہ داری سماجی کارکن انّا ہزارے نے سنبھال رکھی ہے۔

ماضي میں بھی بزرگ کارکن انّا ہزارے سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں۔ معلومات تک رسائی کے قانون میں ترمیم کے خلاف احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان ترامیم کی تجویز واپس نہیں لیتی ان کا احتجاج جاری رہے گا اور اگر بھوک ہڑتال سے بھی حکومت پر کوئی اثر نہ ہوا تو وہ احتجاج کے دوسرے طریقوں سے تحریک میں شدت لائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد