متاثرین ایک سال سے امداد کے منتظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے سال آٹھ اکتوبر کو زلزلے سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شمال میں ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک اور پچاس ہزار لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔ ایک برس گزرنے کے بعد بھی بیشتر متاثرین امداد کا انتظار کر رہے ہیں۔ کنٹرول لائن سے ملحقہ قصبہ اڑی کے متعدد گاؤں میں لوگ مفلسی اور بے رحم موسم کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں۔ قصبہ کے بالائی گاؤں جھولا کے پینتالیس سالہ اختر کھٹانہ کی بیوی اور اُنیس سالہ بیٹی زلزلہ کے روز لکڑیاں سمیٹ رہیں تھیں کہ ایک بہت بڑی چٹان نے انہیں آدبوچا۔ کھٹانہ صرف بیٹی کی لاش دیکھ سکا اور بیوی کا جسم تو پس چکا تھا۔ وہ فوجی ٹرک میں سرینگر آیا ہے کیونکہ اسکے پاس کرایہ کے لیئے کچھ بھی نہیں تھا۔ کھٹانہ پہلے ڈپٹی کمشنر کے آفس یہ فریاد لے کر گیا کہ اسے معاوضہ ملا نہ گھر تعمیر کرنے کے لیئے مالی امداد، لیکن یہاں اسے بتایا گیا کہ اسے بارہمولہ ڈی سی آفس جانا پڑے گا۔ نو سالہ بیٹے کے مستقبل کے لیئے فکر مند کھٹانہ کہتے ہیں ’منسٹر تو اڑی آتے جاتے ہیں۔ میں اُن کو بتاتا کہ میرا کیا ہوگا، لیکن کوئی آگے جانے ہی نہیں دیتا۔ وہاں صرف کچھ لوگ تالیاں بجاتے ہیں اور بعد میں منتری لوگ چلے جاتے ہیں۔ بندہ کس سے کہے، کس کو سنائے۔ میں تو جان پر کھیل کر فوجی ٹرک میں یہاں آیا۔ کہیں حملہ ہوجاتا تو؟ اب یہ لوگ کہتے ہیں بارہمولہ جاؤ‘۔ اوڑی کے ہی دوسرے گاؤں سلطان ڈھکی میں زلزلہ سے زیادہ تر مرد ہلاک ہوگئے ہیں نتیجتا محتاج بیواؤں کی بڑی تعداد کی بحالی یہاں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ چار سو کنبوں پر مشتمل اس بستی کے ایک باشندے دین محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے پہلے جو مالی امداد فراہم کی تھی وہ روزانہ اخراجات میں صرف ہوئی اور گھروں کی حالت وہی ہے جو پچھلے سال آٹھ اکتوبر کو تھی۔
دین محمد کا کہنا ہے کہ علاقے میں بیواؤں کی بحالی کا کام سرینگر کے ایک دینی ادارے نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے لیکن اس کام کے لیئے بے پناہ وسائل درکار ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ’ہم تو امداد کا صرف شور سنتے ہیں، امداد کہاں ہے۔ ہم سے کہا جا رہا ہے کہ پانچ لاکھ کا گھر چالیس ہزار میں تعمیر کرو، کیا ایسا ہو سکتا ہے‘؟ وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے پچھلے سال حکومت سنبھالنے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ متاثرین کو ایک ایک لاکھ فی کنبہ کے حساب سے مالی امداد دی جائے گی اور اس سلسلے میں چالیس ہزار کی پہلی قسط جنوری میں تقسیم کی گئی تھی۔ مسٹر آزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ باقی کے ساٹھ ہزار روپے دو قسطوں میں دیئے جانے کا منصوبہ تھا لیکن متاثرین کی حالت دیکھ کر اب یہ رقم ایک ساتھ چھبیس ہزار ایک سو اٹھاسی متاثرہ کنبوں میں تقسیم کی جائیگی۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا ان کی حکومت متاثرین کی امداد اور بحالی کے حوالے سے ناکام کیوں ہوگئی وزیر اعلٰی نے بتایا کہ ’یہ تو ہندوستان میں قدرتی آفات کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ریاست میں متاثرین کو ایک لاکھ پینتیس ہزار سے دو لاکھ تک کی امداد دی کی گئی ہو۔ گجرات، لاتور اور تامل ناڑو وغیرہ میں تو دس سے چالیس ہزار تک سرکاری امداد ملتی ہے، چاہے نقصان کتنا بھی ہو‘۔
اُدھر ضلع کپواڑہ کے تحصیل کرناہ میں، جو کنٹرول لائن کے ساتھ واقع ہے، بحالیات کا مسئلہ ایک حد تک حل ہوچکا ہے لیکن باون ہزار نفوس پر مشتمل آبادی بجلی اور پانی کی عدم دستیابی سے بے حد پریشان ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پوری آبادی کو بجلی فراہم کرنے والا پنگلنہ پاور سٹیشن زلزلے میں تباہ ہوگیا تھا اور اسے ابھی تک بحال نہیں کیا گیا ہے۔ کشمیر انتظامیہ کے اعلی افسر بشارت احمد کہتے ہیں کہ امداد اور بحالیات کا کام مطلوبہ رفتار سے جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک متاثرین میں چار سو بہتر کروڑ روپے کی امداد تقسیم کی گئی ہے جس میں چار سو چونتیس کروڑ روپے ’مرکزی سرکار‘ نے فراہم کیئے ہیں۔ انتظامیہ کے متعلقہ افسروں کے مطابق حکومت ہند کو آٹھ سو ستّتر کروڑ روپے کا امدادی پرپوزل پیش کیا جائے گا جسکی مدد سے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر، کپواڑہ اور بارہمولہ میں سرکار کے انتظامی ڈھانچے کی بحالی اور اوڑی کے ساتھ ساتھ جموں کے پونچھ ضلع میں انچاس دیہات کی ازسرنو تعمیر کی جائے گی۔ |
اسی بارے میں ممنوعہ علاقے میں پروازوں کی اجازت 16 October, 2005 | انڈیا اڑی و ٹنگڈار میں امداد نہیں پہنچی 15 October, 2005 | انڈیا زلزلہ: انتہا پسندی میں کمی نہیں15 October, 2005 | انڈیا 'مشرف مانتے توجانیں بچ جاتیں'15 October, 2005 | انڈیا زلزلہ: امدادی پیکج کا اعلان14 October, 2005 | انڈیا پانچ ارب کی امداد کا اعلان: منموہن11 October, 2005 | انڈیا بھارت: ہلاکتوں میں مزید اضافہ10 October, 2005 | انڈیا بھارت: 600ہلاک، 1000 زخمی09 October, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||