دو روپے کی سونامی امداد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے اینڈمان اور نکوبار جزائر میں سونامی سے متاثر ہونے والے افراد نے مقامی حکومت کی طرف سے ملنے والی ’تھوڑی‘ سی امداد کی مذمت کی ہے۔ ایک عورت کو اس کی ناریل کی فصل تباہ ہونے پر صرف دو روپے کا چیک دیا گیا۔ جزائر کے منتظم اعلیٰ یا چیف ایڈمنیسٹریٹر نے اب یہ تسلیم کیا ہے کہ کئی سونامی متاثرین کو ’مضحکہ خیز‘ چیک بھیجے گئے ہیں۔ چھبیس دسمبر کو بحیرہ ہند میں آنے والے سونامی میں جزائر کے ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے اور بہت سے بچ جانے والے افراد بے گھر ہوئے۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے جزائر کے متاثرین کے لیے لاکھوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔
نکوبار کے جزائر کے رہنے والے کئی افراد نے کہا ہے کہ انہیں بہت کم رقم کے چیک ملے ہیں۔ نکوبار کے گاؤں نانکوری میں رہنے والی چیریٹی چیمپئن نے بی بی سی کے نامہ نگار کو ایک چیک دکھایا جو کہ دو روپے کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے ناریل اور سپاری کے 300 کے قریب درخت سونامی میں تباہ ہوئے اور جس نقصان کی قیمت بیس ہزار روپے کے قریب ہے‘۔ ’لیکن اگر حکومت کی طرف سے بھی نقصان کا تخمینہ لگائیں تو یہ پانچ سے چھ ہزار روپے کے قریب آتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’دو روپے تو آپ کھڑکی کے ٹوٹے شیشے کے لیے بھی نہیں دیتے‘۔ بی بی سی کے نامہ نگار سوبھیر بھومک کے مطابق ان کو بینک میں چیک جمع کروانے کے لیے اکاؤنٹ کھولنا پڑے گا اور ان کا قریبی بینک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے پانچ سو روپے مانگتا ہے۔ کار نکوبار جزائر کے ملاکا علاقے کے ڈینیئل یونس کو 41 روپے کا چیک ملا ہے۔ حکومت کے تخمینے کے مطابق یہ 200 سپاری کے اور 300 کیلے کے درختوں کے نقصان کا معاوضہ ہے۔ نکوبار کی ٹرائبل یوتھ آرگنائزیشن کے صدر راشد یوسف نے کہا ہے کہ ’انتظامیہ متاثرین کے ساتھ بڑا مذاق کر رہی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||