کشمیر:منموہن کی آمد پر مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی کشمیر آمد کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور کم از کم چھ زخمی ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کی کشمیر آمد کے خلاف علیحدگی پسندوں نے دو روز کے احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ جب مظاہرین نے پولیس پر پتھر پھینکنے شروع کیے تو پولیس نے فائر کھول دیا۔ علیحدگی پسند جماعتوں نے سنیچر کو مکمل ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ جمعہ کے روز جموں کشمیر کے دو روزہ دورے پر جموں پہنچے جہاں انہوں نے متنازعہ بگلیہار منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد وہ سرینگر پہنچے۔ منموہن سنگھ سنیچر کو وادی میں چلنے والی پہلی ریل کا افتتاح کریں گے۔
جموں کے علاقے میں دریائے چناب پر کافی عرصہ بعد تیار ہونے والے بگلیہار پن بجلی پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب کے موقعہ پر وزیع اعظم نے مختصر تقریر میں کہا ’یہ پروجیکٹ سندھ طاس آبی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے، جیسا کہ کہا جارہا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں ہندوستان اور پاکستان کو جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ یہاں رہنے والے عام لوگوں کی فلاح و بہبود ممکن ہوسکے۔ ہم جموں کشمیر میں آئندہ بھی ایسے پروجیکٹ شروع کرینگے تاکہ اس ریاست کی اقتصادی حالت بہتر ہوجائے۔‘ واضح رہے کہ بگلیہار بجلی پرو جیکٹ کی ابتدائی پیداواری صلاحیت ساڑھے چار سو میگاواٹ ہے۔ پروجیکٹ کے بارے میں پاکستان یہ کہہ کر اعتراض کرتا رہا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے جو بند تعمیر کیا گیا ہے اس کی اونچائی اُنیس سو ساٹھ میں دونوں ملکوں کے درمیان سندھ طاس آبی معاہدے کی رو سے بہت زیادہ ہے، جس کے سبب پاکستان کی زرعی زمینیں بنجر ہوسکتی ہیں۔‘ لیکن ورلڈ بینک کے غیر جانبدار معائنہ کار نے بند کا جائزہ لے کر پاکستانی الزامات کو مسترد کیا تھا تاہم بھارتی حکومت ہند سے بند کی اونچائی میں کمی کرنے کو بھی کہا گیا۔ سرینگر اور بعض دوسرے مقامات پر جمعہ کی نماز کے بعد نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور پولیس نے انہیں لاٹھی چارج اور اشک آورگولے داغ کر منتشر کردیا۔ لال چوک میں سینکڑوں لوگوں نے ایک علامتی جلوس نکالا جس کی سربراہی علیحدگی پسند رہنما محمد یٰسین ملک نے کی۔ انہوں نے اس موقعہ پر عوام سے اپیل کی کہ ہندوستانی وزیر اعظم کی آمد پر جو ہڑتال کی جارہی ہے اس کا مقصد ڈاکٹر سنگھ کو وہ وعدہ یاد دلانا ہے جس میں انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے’زیرو ٹالرنس‘ کی بات کی تھی۔ یٰسین ملک کا کہنا تھا: ’ جس بے رحمی اور شدت کے ساتھ ہندوستانی فورسز نے کشمیر میں پچھلے دنوں عام لوگوں پر ظلم ڈھایا ہے اس سے ثابت ہوا کہ کشمیر کے معاملے میں بھارتی وزیراعظم کا وعدہ کتنا معتبر ہوتا ہے۔ لہٰذا سنیچر کے روز لوگوں کو ایسا ہی منظر پیش کرنا ہوگا جیسا یہاں کرفیو کے دوران ہوتا ہے۔‘ سنیچرکو وزیر اعظم من موہن سنگھ سرینگر کے نواح میں واقع نوگام علاقہ سے وادی میں داخلی مسافت طے کرنی والی پہلی ریل گاڑی کا افتتاح کرینگے۔ تقریباً دس ہزار کروڑ مالیت کے اس ریل سروس پروجیکٹ کی تکمیل کا ہدف دسمبر دو ہزار سات مقرر کیا گیا تھا، لیکن دشوار گزار پہاڑیوں میں سرنگیں تعمیر کرنے میں مشکلات کے بعد کہا گیا کہ اس میں مزید وقت درکار ہوگا۔ لیکن اب شمالی اور جنوبی کشمیر کے بعض قصبوں کو جوڑنے کے لیے ریلوے لائن بالکل تیار ہے، جس پر ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سنیچر کے روز علامتی سفر کر کے اسے عوام کے لیے وقف کرینگے۔ مسٹر سنگھ کی آمد پر ہڑتال اور مظاہروں کی کال کی وجہ پوچھنے پرحُریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا ’ہماری تحریک مراعات کی تحریک نہیں ہے۔ حقِ خودارادیت کا نعم البدل سبسڈی، مالی پیکیج یا ریلوے لائن نہیں ہوسکتیں۔ عوام قربانیاں ان چھوٹے مفادات کے لیے نہیں دیتے۔ یہ تو ان کا حق ہے۔ وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ہماری قربانیاں حقِ خودارادیت اور مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کی خاطر ہیں۔‘ | اسی بارے میں مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا ’کشمیر سے انخلا، قیاس آرائیاں ہیں‘04 March, 2007 | انڈیا کشمیرگول میز 24 اپریل کو ہو گی14 April, 2007 | انڈیا کشمیر ٹرین تین سال لیٹ ہوگئی19 June, 2007 | انڈیا نہ عمرعبداللہ خوش نہ مفتی سعید12 June, 2007 | انڈیا ’مشرف کی مشکل نہیں بڑھانا چاہتے‘10 June, 2007 | انڈیا وزیراعظم کے فنڈ سے پیسہ غائب24 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||