BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 October, 2008, 10:15 GMT 15:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات

فائل فوٹو
پولیس کا کہنا ہے کہ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے تمام تر مناسب اقدامات اُٹھائے جایئنگے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس چھ اکتوبر کو لال چوک میں ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے کڑے حفاظتی انتطامات کر رہی ہے۔

ادھر’ آزادی مارچ‘ کا اہتمام کرنے والی تاجر انجمنوں اور علیحدگی پسندوں کی حمایت یافتہ رابطہ کمیٹی کے سینئر رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مارچ کے دوران اشتعال انگیز نعرے بازی اور پتھراؤ سے احتراز کیا جائے۔

سید علی گیلانی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر اس روز حکومت نے مارچ روکنے کے لیے کرفیو بھی نافذ کیا تو یہ لوگوں کی فتح ہوگی۔ اس بیان سے یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ حالیہ رجحان کے برعکس علیٰحدگی پسند قیادت اس بار کرفیو کی خلاف ورزی کے حق میں نہیں ہے۔

 گیارہ اگست کے بعد بارہ، سولہ ، اٹھارہ اور بائیس اگست کو بھی وادی کے دسیوں ہزاروں لوگوں نے جلوسوں کی صورت میں سرینگر پہنچ کر آزادی کے حق میں مظاہرے کیے۔ اس کے بعد پچیس اگست کو لال چوک میں آزادی مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن حکومت نے چوبیس اگست کی شام سے کرفیو نافذ کیا جو گیارہ روز تک جاری رہا۔ اس دوران مجموعی طور پچاس سے زائد افراد پولیس اور نیم فوجی عملے کی گولیوں سے ہلاک ہوگئے۔ اب رابطہ کمیٹی نے ایک بار پھر لوگوں کو لال چوک بلایا ہے، جہاں آزادی کے حق میں مظاہرے ہونگے۔

تاہم سرکاری سطح پر چھ اکتوبر کے حوالے جو تیاریاں جاری ہیں ان سے لگتا ہے کہ علیٰحدگی پسندوں کے امن پسندانہ اشاروں سے سیکورٹی ایجنسیاں متاثر نہیں ہوئی ہیں۔

حکومت نے رابطہ کمیٹی کی حمایت کرنے والی تاجر انجمن چیمبر آف کافرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ڈاکٹر مبین شاہ کا پاسپورٹ ضبط کرلیا ہے جبکہ مزید کئی علیحدگی پسند لیڈروں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔

واضح رہے شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی، آسیہ اندرابی اور دیگر درجنوں حریت کارکن پہلے ہی زیرِ حراست ہیں جبکہ عید کے فوراً بعد پوری وادی میں مقامی آئین کے مطابق چار سے زائد افراد کےاجتماع کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

سرینگر ضلع کے پولیس سربراہ افہاد المجتبیٰ نے بی بی سی کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران بتایا کہ ’ہمیں تو پورا یقین ہے کہ لیڈروں کی تاکید کے باوجود جلوس میں شامل ایک مخصوص طبقہ اس روز توڑ پھوڑ اور آتش زنی کریں گے۔ ہم ان کی اپیلوں پر اعتبار نہیں کر سکتے کیونکہ سولہ اور اٹھارہ اگست کو ہوئے مظاہروں میں بھی تشدد ہوا تھا۔ میں جب اگست میں گیلانی صاحب سے ملا تو میں نے ان سے یہی کہا کہ صاحب آپ تو پُرامن رہنے کی کال دیتے ہیں لیکن اس کال پر سو فیصد عمل نہیں ہوتا ‘۔

افہاد المجتٰبی کا کہنا تھا کہ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر مناسب اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔

خدشہ
 ’ہمیں تو پورا یقین ہے کہ لیڈروں کی تاکید کے باوجود جلوس میں شامل ایک مخصوص طبقہ اس روز توڑ پھوڑ اور آتش زنی کرینگے۔ہم ان کی اپیلوں پر اعتبار نہیں کرسکتے کیونکہ سولہ اور اٹھارہ اگست کو ہوئے مظاہروں میں بھی تشدد ہوا تھا۔ میں جب اگست میں گیلانی صاحب سے ملا تو میں نے ان سے یہی کہا کہ صاحب آپ تو پُرامن رہنے کی کال دیتے ہو لیکن اس کال پر سو فی صد عمل نہیں ہوتا
افہاد المجتبی

واضح رہے گیارہ اگست کو کنٹرول لائن کی جانب مارچ کرنے والے ہزاروں افرادپر پولیس اور نیم فوجی عملے کی فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں حریت لیڈر شیخ عبدالعزیز بھی شامل تھے جبکہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائنن نے سرینگر کے دورے کے دوران کہا تھا کہ عزیز کی موت علیحدگی پسندوں کے گروہی تصادم کا نتیجہ تھی۔

گیارہ اگست کے بعد بارہ، سولہ ، اٹھارہ اور بائیس اگست کو بھی وادی کے دسیوں ہزاروں لوگوں نے جلوسوں کی صورت میں سرینگر پہنچ کر آزادی کے حق میں مظاہرے کیے۔ اس کے بعد پچیس اگست کو لال چوک میں آزادی مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن حکومت نے چوبیس اگست کی شام سے کرفیو نافذ کیا جو گیارہ روز تک جاری رہا۔ اس دوران مجموعی طور پچاس سے زائد افراد پولیس اور نیم فوجی عملے کی گولیوں سے ہلاک ہوگئے۔ اب رابطہ کمیٹی نے ایک بار پھر لوگوں کو لال چوک بلایا ہے، جہاں آزادی کے حق میں مظاہرے ہونگے۔

کچھ سرکاری حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت کو لال چوک کے آزادی مارچ کی اجازت دے کر عوام کو ’غصہ نکالنے‘ کا موقع فراہم کرنا چاہیے تاکہ بعد میں حالات معمول پر آجائیں لیکن حکومت اور پولیس کا اصرار ہے کہ ایسے مظاہرے سو فیصد پرامن نہیں رہتے۔

ایس ایس پی مجتبیٰ کہتے ہیں: ’عید کے روز تو کسی مظاہرے کی کال نہیں تھی، پھر بھی نوہٹہ میں پتھراؤ ہوا۔ سوال یہ ہے کہ جب لیڈر لوگ جلوس کی قیادت کرتے ہیں تو ان کے حمایتی ہجوم میں شامل نوجوان سمجھتے ہیں کہ پولیس جوانوں کو زدوکوب کرنا، پولیس تھانوں کو نذرآتش کرنا اور دوسری قسم کی توڑ پھوڑ کرنا ان کا اخلاقی حق ہے۔ اس کی اجازت تو نہیں دی جائے گی۔‘

جموں سےتجارت نہیں
جموں اور کشمیر کے درمیان تجارت بند؟
 غلام نبی کرفیو کے نام پر
’کشمیری شہریوں پر زیادتیاں ہوئیں‘
میر واعظ عمر فاروق کی تصویر(فائل فوٹو) ’کچھ لو کچھ دو‘
کشمیر: کیا مُقیّد حریت قیادت مان جائے گی؟
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
اسی بارے میں
زرداری کی ’خوشخبری‘
19 September, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد