آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس چھ اکتوبر کو لال چوک میں ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے کڑے حفاظتی انتطامات کر رہی ہے۔ ادھر’ آزادی مارچ‘ کا اہتمام کرنے والی تاجر انجمنوں اور علیحدگی پسندوں کی حمایت یافتہ رابطہ کمیٹی کے سینئر رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مارچ کے دوران اشتعال انگیز نعرے بازی اور پتھراؤ سے احتراز کیا جائے۔ سید علی گیلانی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر اس روز حکومت نے مارچ روکنے کے لیے کرفیو بھی نافذ کیا تو یہ لوگوں کی فتح ہوگی۔ اس بیان سے یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ حالیہ رجحان کے برعکس علیٰحدگی پسند قیادت اس بار کرفیو کی خلاف ورزی کے حق میں نہیں ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر چھ اکتوبر کے حوالے جو تیاریاں جاری ہیں ان سے لگتا ہے کہ علیٰحدگی پسندوں کے امن پسندانہ اشاروں سے سیکورٹی ایجنسیاں متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ حکومت نے رابطہ کمیٹی کی حمایت کرنے والی تاجر انجمن چیمبر آف کافرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ڈاکٹر مبین شاہ کا پاسپورٹ ضبط کرلیا ہے جبکہ مزید کئی علیحدگی پسند لیڈروں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔ واضح رہے شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی، آسیہ اندرابی اور دیگر درجنوں حریت کارکن پہلے ہی زیرِ حراست ہیں جبکہ عید کے فوراً بعد پوری وادی میں مقامی آئین کے مطابق چار سے زائد افراد کےاجتماع کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ سرینگر ضلع کے پولیس سربراہ افہاد المجتبیٰ نے بی بی سی کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران بتایا کہ ’ہمیں تو پورا یقین ہے کہ لیڈروں کی تاکید کے باوجود جلوس میں شامل ایک مخصوص طبقہ اس روز توڑ پھوڑ اور آتش زنی کریں گے۔ ہم ان کی اپیلوں پر اعتبار نہیں کر سکتے کیونکہ سولہ اور اٹھارہ اگست کو ہوئے مظاہروں میں بھی تشدد ہوا تھا۔ میں جب اگست میں گیلانی صاحب سے ملا تو میں نے ان سے یہی کہا کہ صاحب آپ تو پُرامن رہنے کی کال دیتے ہیں لیکن اس کال پر سو فیصد عمل نہیں ہوتا ‘۔ افہاد المجتٰبی کا کہنا تھا کہ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر مناسب اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔
واضح رہے گیارہ اگست کو کنٹرول لائن کی جانب مارچ کرنے والے ہزاروں افرادپر پولیس اور نیم فوجی عملے کی فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں حریت لیڈر شیخ عبدالعزیز بھی شامل تھے جبکہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائنن نے سرینگر کے دورے کے دوران کہا تھا کہ عزیز کی موت علیحدگی پسندوں کے گروہی تصادم کا نتیجہ تھی۔ گیارہ اگست کے بعد بارہ، سولہ ، اٹھارہ اور بائیس اگست کو بھی وادی کے دسیوں ہزاروں لوگوں نے جلوسوں کی صورت میں سرینگر پہنچ کر آزادی کے حق میں مظاہرے کیے۔ اس کے بعد پچیس اگست کو لال چوک میں آزادی مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن حکومت نے چوبیس اگست کی شام سے کرفیو نافذ کیا جو گیارہ روز تک جاری رہا۔ اس دوران مجموعی طور پچاس سے زائد افراد پولیس اور نیم فوجی عملے کی گولیوں سے ہلاک ہوگئے۔ اب رابطہ کمیٹی نے ایک بار پھر لوگوں کو لال چوک بلایا ہے، جہاں آزادی کے حق میں مظاہرے ہونگے۔ کچھ سرکاری حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت کو لال چوک کے آزادی مارچ کی اجازت دے کر عوام کو ’غصہ نکالنے‘ کا موقع فراہم کرنا چاہیے تاکہ بعد میں حالات معمول پر آجائیں لیکن حکومت اور پولیس کا اصرار ہے کہ ایسے مظاہرے سو فیصد پرامن نہیں رہتے۔ ایس ایس پی مجتبیٰ کہتے ہیں: ’عید کے روز تو کسی مظاہرے کی کال نہیں تھی، پھر بھی نوہٹہ میں پتھراؤ ہوا۔ سوال یہ ہے کہ جب لیڈر لوگ جلوس کی قیادت کرتے ہیں تو ان کے حمایتی ہجوم میں شامل نوجوان سمجھتے ہیں کہ پولیس جوانوں کو زدوکوب کرنا، پولیس تھانوں کو نذرآتش کرنا اور دوسری قسم کی توڑ پھوڑ کرنا ان کا اخلاقی حق ہے۔ اس کی اجازت تو نہیں دی جائے گی۔‘ |
اسی بارے میں کشمیر:’ کوئی پتھراؤ نہ کرے‘19 September, 2008 | انڈیا زرداری کی ’خوشخبری‘19 September, 2008 | انڈیا جموں، کشمیر کے درمیان تجارت بند؟18 September, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ13 September, 2008 | انڈیا کشمیر: تازہ جھڑپوں میں دو ہلاک12 September, 2008 | انڈیا کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ06 September, 2008 | انڈیا کشمیر:حریت رہنما پھر نظر بند 05 September, 2008 | انڈیا جموں معاہدہ منظور نہیں: گیلانی04 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||