جموں، کشمیر کے درمیان تجارت بند؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے جموں اور کشمیر خطے کے درمیان امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین کے معاملے پر پیدا ہونے والی خلیج کے بعد اب دونوں خطوں کے درمیان ہونےوالی تجارت متاثر ہونے جا رہی ہے۔ کشمیر کے ایوان صنعت و تجارت کے ادارے کشمیر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا کہ چوں کہ امرناتھ شرائن بورڈ کو دی گئی زمین کی واپسی کے خلاف احتجاج کے دوران جموں کے تاجروں نے وادی کے لیے اقتصادی ناکہ بندی کی تھی اس لیے کشمیر نے جموں خطے سے اپنے تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں۔ ادارے کے صدر ڈاکٹر مبین شاہ نے سرینگر سے ٹیلی فون پر بتایا’ کشمیر کے لوگ جموں کے ساتھ کوئی تجارتی تعلقات رکھنا نہیں چاہتے ہیں تو ہم کس طرح لوگوں کے جذبات کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی ناکہ بندی سے وادی کے لوگوں کو گہرا دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ اس کے سبب وادی میں کھانے پینے کی بنیادی اشیاء کی قلت ہو گئی تھی، اسی لیے اب کشمیریوں کو جموں والوں کے ساتھ کوئی تجارت نہيں کرنی ہے۔ شاہ کا کہنا تھا کہ 1990 میں شدت پسندی کے عروج سے قبل باضابطہ طور پر مینو فیکچررز اور کمپنیوں کے ساتھ تجارت کی جاتی تھی تو اب کیوں نہیں کی جا سکتی؟ لیکن جموں کے تاجروں کے خیال میں ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ دونوں خطے تجارت کے معاملے میں ایک دوسرے سے کافی حد تک جڑے ہوئے ہیں۔ جموں چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر رام سہائے کا کہنا ہے’جموں کے ساتھ تجارت نہ کرنے کا یہ نعرہ محض ایک سیاسی نعرہ ہے۔ تجارتی کاروبار جاری ہے اور صرف دواؤں کے دو ٹرکوں کو گذشتہ ہفتے جموں واپس بھیجا گیا ہے۔ سہائے کے مطابق صرف جموں میں ہی کشمیر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی موجود ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امرناتھ شرائن بورڈ کے معاملے کے سبب دو مہینے تک جاری رہنے والے احتجاج کے دوران جموں کی جانب سے کبھی اقتصادی ناکہ بندی نہیں کی گئی تھی ۔’ احتجاج اور مظاہروں کے سبب تھوڑے وقفے کے لیے رخنہ پڑا تھا لیکن ہم نے انتظامیہ سے نیشنل ہائی وے پر فوج تعینات کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ بنا کسی رکاوٹ کے سپلائی جاری رکھی جا سکے۔‘ سہائے کا کہنا تھا کشمیری خود اقتصادی ناکہ بندی کر رہے ہیں اور اگر عید آنے سے پہلے کشمیریوں کو ضروری اشیاء کی کسی قسم کی دقت پیش آئی تو اس کے ذمےدار خود کشمیر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ہی ہوگی۔ سہائے کے مطابق یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ کشمیری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ساتھ تجارت کرنا شروع کر دیں گے’یہ کیسے ممکن ہے ؟ یہاں کے مقابلے وہاں چیزیں کافی مہنگی ہیں۔ کیا کشمیری پاکستان سے ایک کلو آٹا پچاس روپے ميں خریدیں گے؟‘ |
اسی بارے میں کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس01 July, 2008 | انڈیا کشمیر میں حُکمراں اتحاد ٹوٹ گیا 28 June, 2008 | انڈیا زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟27 June, 2008 | انڈیا ’یاترا کا انتظام مقامی پنڈت کریں‘23 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاترا پر تنازعہ14 June, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||