کشمیر: تازہ جھڑپوں میں دو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واددی میں ہونے والے مظاہروں کے دوران دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاکتوں کا پہلا واقعہ شوپیاں میں پیش آیا جہاں پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں پولیس کےمطابق ایک نوجوان ہلاک اور پندرہ سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس لے علاوہ سرینگر سے بھی ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ آزادی کے حق میں احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان یہ تازہ تصادم جنوبی ضلع شوپیاں کی مرکزی جامع مسجد کے باہر جمعہ کی نماز کے فوراً بعد ہوا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نماز کے بعد نوجوانوں کا ایک ہجوم جامع مسجد کے باہر جمع ہو کر احتجاج کرنے لگا۔ فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان کے بھائی گلزار احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا : ’جب ہم لوگ آزادی کے حق میں مظاہرہ کرنے لگے تو مقامی ڈی ایس پی نے کئی نوجوانوں کو مارا پیٹا۔ اس سے حالات بگڑ گئے اور نوجوان مشتعل ہوگئے‘۔ گلزار کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے اشتعال کو دیکھ کر پولیس نے گولیوں کے سینکڑوں راؤنڈ فائر کیے جس میں سجاد احمدگنائی نامی مقامی نوجوان ہلاک ہوگیا اور پندرہ دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ شوپیان ضلع کے ایس پی جاوید اقبال نے بتایا :’مشتعل نوجوانوں نے پولیس تھانہ اور سٹیٹ بینک کی عمارت پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ حالات کو قابو کرنے کے لیے پولیس کو گولی چلانی پڑی، تصادم میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی ہے۔‘ لوگوں کی بڑی تعداد نے ہلاک شدہ نوجوان کی نماز جنازہ شوپیان چوک میں ادا کی۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ پولیس فائرنگ میں زخمی ہونے والوں کو انتہائی نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ شوپیان میں واقع سرکاری طبی مرکز کے ایک کارکن طارق احمد کے مطابق اکثر زخمیوں کو جسم کے حساس حصوں میں گولیاں لگی ہیں۔ اِدھر سرینگر میں بھی نماز جمعہ کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران درجنوں اشک آور گیس کے گولے داغےگئے۔ ان مظاہروں میں کئی نوجوان معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے سرینگر کی جامع مسجد پہنچے جہاں انہوں نے جمعہ کا خطبہ بیان کیا۔ دریں اثناء جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک اور مذہبی تنظیم جمعیت اہلحدیث کے سربراہ مولوی شوکت شاہ کو بھی جلوس میں شرکت کے دوران چوٹیں آئیں ہیں۔ دونوں کو مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں سے انہیں فوری علاج کے بعد رخصت کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ علیحدگی پسند تنظیموں، تاجر انجمنوں، وکلاء اور بعض سماجی کارکنوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی نے جمعہ کے روز پوری وادی میں احتجاجی ہڑتال کی کال دی تھی۔ وادی میں گیارہ اگست سے مظفرآباد روڈ کو عام تجارت اور آمد و رفت کی شاہراہ بنانے کے لیے عوامی تحریک چل رہی ہے۔ اس تحریک کو کچلنے کے لئے ایک ہفتہ سے زائد عرصہ تک وادی میں سخت کرفیو نافذ رہا جبکہ کشمیری رہنماؤں کو نو روز تک حراست میں رکھا گیا۔ کرفیو کی خلاف ورزی کے مختلف واقعات بھی پیش آئے جن میں پولیس اور سی آر پی ایف کی فائرنگ میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں سرینگر: انتخابی بائیکاٹ کی اپیل07 September, 2008 | انڈیا جموں معاہدہ منظور نہیں: گیلانی04 September, 2008 | انڈیا ’کرفیو نہیں اجتماعی قید تھی‘03 September, 2008 | انڈیا جموں معاہدہ کے بعد وادی میں پھرکرفیو01 September, 2008 | انڈیا کشمیر: ’کچھ لو کچھ دو‘ مذاکرات01 September, 2008 | انڈیا زمین کی دوبارہ منتقلی پر احتجاج 31 August, 2008 | انڈیا کریک ڈاؤن، شبیر شاہ بھی گرفتار29 August, 2008 | انڈیا ’ کشمیر پر یو این تشویش بلاجواز‘28 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||