کشمیر:’ کوئی پتھراؤ نہ کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جون سے جاری احتجاجی مہم کے دوران خون خرابہ کا جائزہ لینے کے بعد وادی کی علیٰحدگی پسند قیادت نے عوامی احتجاج کے دوران پولیس یا حکومتی اداروں پر پتھراؤ نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس دوران جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ سنیچر کو مکمل ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ یہاں کے بااثر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے اعلان کیا ہے کہ پولیس اور سرکاری املاک پر پتھراؤ کرنا موجودہ تحریک کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے جمعہ کے روز رابطہ کمیٹی کی کال پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی مناسبت سے ایک بیان میں کہا’ عوامی جلسے جلوسوں میں ہندوستانی ایجنیسوں کے لوگ شامل ہوجاتے ہیں، وہ تشدد کرتے ہیں اور فوج و نیم فوجی عملے کو عام لوگوں پر گولیاں برسانے کا جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔ایسے ایک نوجوان کو لوگوں نے بارہمولہ میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے۔‘ مسٹر گیلانی نے بدھ کو لالچوک علاقہ میں ہوئے ایک پراسرار بم دھماکہ کو بھی’سرکاری ایجنسیوں کی کارستانی‘ قرار دیا اور کہا ’موجودہ پرامن اور عدم تشدد کے اصول پر مبنی تحریک کو تشدد اور خون خرابہ کا رنگ دے کر عوامی جذبات کو کچلنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے، جس کے بارے میں عوام کو ہوشیار رہنا چاہیئے اور احتجاجی مظاہروں کے دوران کسی بھی قسم کے تشدد ، پتھراؤ یا آگ زنی کو تحریکی مفادات کے خلاف سمجھ کر ایسے عناصر کے خلاف صف آرا ہونا چاہیئے۔‘ قابل ذکر ہے کہ اُنیس سو نوّے میں برپا ہوئی مسلح شورش کے مقابلے موجودہ عوامی تحریک واضح طور پر پرامن رہی۔ پاکستان کےزیرانتظام کشمیر میں مقیم کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے پہلے ہی رمضان کے مہینے میں ’سیز فائر‘ کا اعلان کیا ہے، اور ساتھ ہی وادی میں سرگرم عسکریت پسندوں کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ ایسے مقامات پر کارروائیاں کرنے کے گریز کریں جہاں سے عوامی جلسے منعقد ہورہے ہوں۔ | اسی بارے میں کشمیر: کرفیو، فائرنگ، ہلاکتیں27 August, 2008 | انڈیا کشمیر: مظاہرے، ہلاکتیں،گرفتاریاں 25 August, 2008 | انڈیا کشمیر: چار اضلاع میں اب بھی کرفیو 14 August, 2008 | انڈیا کشمیر: برف پگھل گئی، تشدد شروع25 July, 2008 | انڈیا عمرعبداللہ،محبوبہ مفتی پر پتھراؤ 13 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||