کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے انتخابی کمیشن نے جموں کشمیر میں انتخابات کرانے سے متعلق تاریخ کا فیصلہ فی الوقت ٹال دیا ہے لیکن کشمیر کے عوامی حلقوں میں اس کے حوالے سے ایک بحث شروع ہوگئی ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ ایسے وقت جب پاکستان کُھلے عام کشمیر میں عسکری کارروائیوں کی مخالفت کر رہا ہے اور عوامی سطح پر بھی تشدد کی ناپسندیدگی کا جذبہ تیزی سے اُبھر رہا ہے، تو پھر نئی دلّی کو یہاں انتخابات کرانے میں کیا روکاوٹ درپیش ہے؟ منگل کو دلّی میں نامہ نگاروں کی طرف سے پوچھے گئے ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں الیکشن کمشنر آف انڈیا این گوپالا سوامی نے کہا: ’ کشمیر میں الیکشن کرانے سے متعلق سکیورٹی تو ایک ایشو ہے، لیکن بہت سارے پہلو بھی ہیں جن کا ہم جائزہ لے رہے ہیں۔‘ ایسا بھی نہیں کہ کشمیر میں نامساعد حالات کے دوران الیکشن منعقد نہیں کرائے گئے۔ اُنیس سو نوّے کی دہائی میں تشدد اور ماردھاڑ کے بیچ دو مرتبہ ہندوستانی پارلیمنٹ کے لئے ہونے والے انتخابات یہاں بھی ہوئے جس میں ایک کشمیری سیاستداں نےفقط چھ سو تیس ووٹ حاصل کرکے سیٹ جیت لی تھی۔ اُنیس سو چھیانوے میں بھی الیکشن ہوئے، جس میں کافی تشدد ہوا اور سابق عسکریت پسندوں نے ملی ٹینسی کے خلاف’جہاد‘ کا نعرہ بلند کر کے انتخاب لڑا اور جلسے بھی کیے تھے۔ لیکن ان انتخابات میں عوام کی شمولیت بہت ہی کم یا نہ ہونے کے برابر تھی اور علیحدگی پسند قیادت کو جیل بھیجنا پڑا تھا۔ عوامی شمولیت اور علیحدگی پسندوں کے بہت کم اثر کے حوالے سے’ کامیاب‘ سمجھے جانے والے دو ہزار دو کے الیکشن کے دوران بھی تشدد ہوا۔ اس دوران صرف سات ہفتوں کے عرصہ میں دو امیدواروں، ڈیڑھ سو فوجی و نیم فوجی اہلکاروں ، ایک سو ساٹھ راہ گیروں اور پچاس سیاسی کارکنوں سمیت ساڑھے چار سو افراد مارے گئے تھے۔ اگر کشمیر میں انتخابات اس قدر نامساعد حالات میں بھی ہوئے ہیں، تو پھر اِس بار کیا روکاوٹ ہے؟ کالم نگار ایم اے جاوید کا کہنا ہے :’ تشدد کے دوران الیکشن منعقد کرنا آسان ہوتا ہے، کیونکہ اگر بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے نکلے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ بندوق کے ڈر سے نہیں نکلے اور حکومت نے امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کی۔ لیکن اب کی بار کشمیر میں بندوق اِریلونٹ (غیر متعلق) ہوگئی ہے اور عدم تشدد کی تحریک میں حکومت کو اخلاقی چیلنج کا سامنا ہے جو تشدد سے زیادہ کٹھن ہے۔‘ جاوید اور ان کے دیگر ہم خیال مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ عوامی تحریک کے بعد کشمیر میں انتخابات کا تصور بے اعتبار ہوگیا ہے اور بائیکاٹ کے حق میں ایک لہر چل پڑی ہے جس کے دوران کسی بھی الیکشن عمل میں لوگوں کی شمولیت مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ بعض دیگر مبصرین کا خیال ہے کہ اگر واقعی بھارت نے کشمیر میں انتخابات کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ’ نئی دلّی اس بار ماضی کی غلطیاں دوہرانا نہیں چاہتی ہے۔‘ شہر کے ایک سماجی کارکن حاجی عبدالصمد کہتے ہیں : ’ماضی میں بھی خراب حالات کے دوران الیکشن ہوئے، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ الیکشن کا عمل بےاعتبار ہوگیا۔ آج کسی سے بات کیجئے تو کہتے ہیں، ووٹ ڈالو نہ ڈالو، وزیراعلیٰ وہی بنے گا جسے دلّی والے چاہیں گے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ دلّی والے اب اس تاثر کو مٹانا چاہتے ہیں، اگر وہ چاہتے تو آج بھی الیکشن کرسکتے تھے، آپ نے نہیں دیکھا کس طرح اُنیس سو چھیانوے میں چار فی صد ووٹنگ پر سرکار بنی تھی ۔ اب دیکھیں گے کہ حکومت الیکشن پر عوام کا اعتبار بحال کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔‘ جہاں حاجی صمد کے بقول دلیّ والوں کو الیکشن پر عوامی اعتباریت کی حاجت ہے، وہیں یہاں کے ہند نواز حلقوں کو بھی عوام کا سامنا کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ کیونکہ قریب ساڑھے چار ماہ سے جاری عوامی تحریک کے دوران ہندنواز سیاسی نظریہ عوام کے درمیان ایک’ گناہ‘ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے ایک نوجوان لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا :’یہ تو ایک اخلاقی چیلنج ہے، مان لیجئیے الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوا تو میں لوگوں سے کیا کہوں گا؟ اور جس طرح سے یہ تحریک عدم تشدد کو اپنا رہی ہے مجھے لگتا ہے میرے اپنے ہی کارکن مجھے آکر کہیں گے، جناب ہم ووٹ نہیں ڈال رہے، ہماری صلاح ہے آپ بھی نہ ڈالیں۔ آپ بتائیں مجھے کیا کرنا چاہئے۔‘ کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کشمیر میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے کے پیچھے ہندوستان کی قومی سیاست کے محرکات ہیں۔ ان کا کہنا ہے چونکہ حالیہ عوامی تحریک کے دوران جموں اور کشمیر کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی میں بی جے پی اور اس کی حلیف قوتوں نے کافی رول ادا کیا اس لیے بی جے پی چاہتی ہے ہندوتوا نواز لہر کا فائدہ اُٹھایا جائے، اور کانگریس اسے یہ موقع نہیں دینا چاہتی۔ قابل ذکر ہے کہ دو ہزار دو کے انتخابات میں کانگریس نے جموں سے پندرہ نشستیں جیت لی تھیں، جبکہ وادی میں وہ صرف پانچ سیٹوں پر فتح حاصل کرپائی تھی۔ دلچسپ سوال یہ ہے کہ اگر چار یا چھہ ماہ الیکشن ملتوی بھی ہوتے ہیں تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ یہ سوال حکومت اور یہاں کی تحریک چلانے والوں کے لئے یکساں طور پر ایک چیلنج ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ13 October, 2008 | انڈیا کشمیر ٹرین:خدشات اور توقعات11 October, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو ختم، حالات معمول پر07 October, 2008 | انڈیا غیرکشمیری مزدوروں کو نوٹس27 July, 2007 | انڈیا ’غیر کشمیری مزدور واپس جائیں‘25 July, 2007 | انڈیا ہندوستانی آئین کا کشمیری ترجمہ09 July, 2007 | انڈیا کشمیریوں کا ملاجل ردعمل 05 December, 2006 | انڈیا فوجی کیمپ ٹارچر سینٹر ہیں:عمر02 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||