ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | کشمیریوں کی گرفتاریوں سے متعلق جو رپورٹ کو پولیس نے ضبط کرلیا |
انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے سرگرم بھارتی شہریوں کے ایک وفد نے وادی میں دس روز تک قیام کے بعد کشمیریوں کے حق خودارادیت کی وکالت کی ہے اور حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ پُرامن اجتماعات پر عائد پابندی ختم کی جائے۔ وفد میں خاص طور پرکولکتہ یونیورسٹی کے امِت بھٹاچاریہ، دہلی یونیورسٹی کے سید عبدالرحمٰن گیلانی، چنئی کے پروفیسر اے مارکس، پانڈی چیری کے ایڈوکیٹ سوگوماران، کولکتہ کے پروفیسر پرنب نائیک اور راجہ شارکیل، جنوبی ہند کے کیرلا صوبے کے صحافی مدھیامام اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی تحقیق کار رونا وِلسن شامل تھے۔ پروفیسر امِت بھٹاچاریہ اور وفد کے دوسرے ارکان نے سوموار کو پریس کانفرنس کے دوران دس روزہ مشاہدہ پر مبنی رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں فوجی موجودگی، محاصروں اور پُرامن اجتماعات پر فائرنگ جیسے واقعات کی مذمت کی گئی ہے۔ اس میں فوج کے زیرقبضہ وسیع زمینوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں حکومت ہند کے سامنے سات مطالبات رکھے گئے ہیں جن میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے، پُرامن اجتماعات پر سے پابندی ہٹانے، سخت قوانین کا خاتمہ کرنے، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور وادی میں ضروری ادویات اور نوزائدہ بچوں کی غذائی ضروریات کی سپلائی کو بحال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
 | | | ایک لاپتہ شہری کی اہلیہ اشک بار |
مسٹر بھٹاچاریہ نے انکشاف کیا کہ بھارتی شہریوں کے اس وفد کو وادی پہنچنے پر ائرپورٹ سے ہی حراست میں لیا گیا اور کئی گھنٹوں تک ایک پولس تھانہ میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وادی اور وادی سے باہر کشمیریوں کی گرفتاریوں سے متعلق جو رپورٹ وہ ساتھ لائے تھے اسے پولیس نے ضبط کرلیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہماری اس رپورٹ میں محض قیدیوں کی رہائی کے مطالبہ کی سفارش کی گئی تھی۔ ہمارے جو ساتھی سرینگر پہنچے ان کو ہوٹل سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان کے کمروں پر باہر سے تالے لگا دیے گئے جبکہ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں ہوٹل کے باہر گشت کرتے رہے‘۔ |