کرفیو راج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں موسم سرما تین ادوار سے گزرتا ہے۔ چلۂ کلاں یا ’بڑا جاڑہ‘ چالیس روز تک یخ بستہ فضاؤں سے لوگوں کو گھروں میں مقید رہنے پر مجبور کرتا ہے، پھر چلۂ خورد، جو بیس روز تک جاری رہتا ہے، پگھلتی برف کی صورت میں سرما کی چادر کو بکھیر دیتا ہے، اور آخر میں چلۂ بچہ یعنی ’چھوٹا جاڑہ ‘، جو دس روز کے اپنے دور میں باد و باراں کے ساتھ ساتھ بہار کی آمد کی خبر بھی دیتا ہے۔ اب چھٹیاں ختم ہوتی ہیں، بچے دو تین ماہ کے تعطل کے بعد سکول جانے لگتے ہیں، اورگئے دنوں میں چیری اور بادام کے شگوفے تین چار ماہ کی سرد مہری سے نکل آنے والی مخلوق کی مسکراہٹوں کا باعث بھی ہوا کرتے تھے۔ انیس جنوری، انیس سو نوے کو چلۂ کلاں کی کٹھور سردی میں اس وقت یکدم حرارت پیدا ہوگئی جب وادی کی باگ دوڑ سخت طبیعت کے مالک کہے جانے والے بھارتی گورنر جگموہن کے حوالے کر دی گئی۔ کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعلی فاروق عبداللہ استعفی دے کر ریاست کو وقتی طور پر خیر باد کہہ کر چلےگئے۔ جگموہن پہلے بھی بھارتی صدر کے نمائندے کے طور پر انیس سو چوراسی میں جموں و کشمیر کے گورنر رہ چکے تھے۔ حافظ آباد (پاکستان) میں پیدا ہونے والے گورنر جگموہن آئے، صورتحال کا جائزہ لیا، اور یہ فیصلہ کر کے کہ کمشیر آزادی اور بھارت سے علیحدگی کے دہانے پر کھڑا ہے، سخت ترین کرفیو نافذ کر کے وادی کا مکمل محصارہ کر دیا۔ اگلے روز، یعنی اکیس جنوری کو، سرینگر کے تاریخی لال چوک سے چند ہی سو میٹر دور دریائے جہلم پر واقع پرانےگاؤ کدل پل پر ایک جلوس پر سی آر پی ایف نے دونوں طرف سے فائرنگ کی، اور کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ واقع کشمیر کی موجودہ تاریخ میں ایک علامتی باب کے طو ر پر رقم ہو چکا ہے: لاشوں کے ڈھیر یا تو پل پر تھے یا سی آر پی ایف کی ٹرکوں میں لادے ہوئے۔ منتشر جوتوں اور چپلوں کے انبار بھی قرب میں ہی تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق نیم فوجیوں نے اپنی بندوقوں کی نوکوں سے گرپڑے لوگوں کو چیک کیا اور پھر نیم بِسملوں کو بھی سلا دیا۔ چند لوگ پل کے نیچے بہتے جہلم کےگندمی پانی میں خون کی متوازی سطور کا منظر بھی یاد کرتے ہیں، اور ایک چشم دید کو کسی مرے یا ادھمرے کے بازو کے ساتھ ایک کتے کی کشمکش کی تصویر نہیں بھولتی۔ کشمیریوں کے خیال میں بھارتی حکومت نے انیس سو نوے میں گورنر جگموہن کو اسی طرز کا ’فری رن‘ دیا جو عام طور پر پاکستانی یا جنوبی امریکی فوجی آمروں کو حاصل ہوتا ہے، اور جس کی پہلی مشق انہوں نے وادی میں بائیس روز تک مسلسل اور پھر تواتر کے ساتھ دو ماہ تک جاری رہنے والے بدترین کرفیو کی شکل میں کی۔ محصور، اعتاب زدہ، بنیادی ضرورتوں سے محروم عوام جگموہن کے کرفیو میں ظاہر بھارت کے ’فولادی ہاتھ‘ والی پالیسی کبھی نہیں بھولے۔
بےلگام طاقت کا استعمال، ہفتوں، مہینوں کا حصار، شہر شہر ناکہ بندی، ’کیچ اینڈ کِل‘ اور ایسی تیزی سے پنپتے مزارِ شہدا جیسے نئی نویلی رہائشی کالونیاں ہوں، ان گنت گرفتاریاں اور جن میں سے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کئی ہزار اب بھی فائیلوں میں گمشدہ ہیں۔۔۔یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن سے عام کشمیری گورنر راج کو یاد کرتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ کچھ مختلف نہیں۔ اب جب کہ اٹھارہ برس بعد کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک پھر زوروں پر ہے، اور ایک اور بھارتی گورنر پھر حاکمِ کل ہے، بھارتی حکومت کی پالیسی کافی حد تک اسی کرفیو اور حصار پر مرکوز ہے جو نوے کی دہائی کے اوائل میں کشمیر کے شب و روز پر حاوی تھی۔ اس برس گرمیوں میں از سر نو بیدار ہونے والی ’تحریک‘ کے ابتدا میں کشمیریوں کو یوں لگا کہ شاید بھارتی پالیسی ساز گزشتہ دو دہائیوں کے وسیع تجربے کے بعد نئی حکمت عملی، کوئی نیا طرز عمل اپنائیں گے۔ اب جنگجو بھی میدان میں نہیں ہیں، پاکستان نے بھی اپنا رول ’رول بیک‘ کیا ہوا ہے (یہاں تک کہ نئے پاکستانی صدر بھی ایسی باتیں کرتے ہیں گویا بھارتی حکومت کا کوئی مقامی حلیف ہو یا پھر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کا ترجمان) ، عام لوگ خود اپنے قائد بنے ہیں، اور ساری مہم پرامن مظاہروں پر مرکوز ہے۔ یعنی جبکہ کشمیر اور کشمیریوں کی ’جہتِ آزادی‘ میں واضح تبدیلی آچکی ہے، مبصر شیخ قیوم کے مطابق امید کی جا رہی تھی کہ بھارت کی کشمیر پالسی میں بھی موثر تبدیلی آسکتی تھی۔۔ تاہم حکمت عملی اب بھی صرف ایک بات پرگھومتی نظر آرہی ہے: کرفیو راج۔ لوگ تھک کر ہار جائیں گے اور اسی طرح چند سال مزید نکل جائیں گے۔ تو بھارت کی کشمیر پالیسی میں اٹھارہ برس کے بعد بھی کوئی با معنی تبدیلی کیوں نہیں آئی؟ نامور بھارتی مصنف اور مضمون نگار پنکج مشرا کا ماننا ہے کہ ایک پرامن تحریک کے جواب میں کرفیو کا نفاذ کشمیر میں بھارتی پالیسی کے اخلاقی انتشار اور سٹرٹیجک دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے۔‘
اکثر کشمیری پوچھتے ہیں کہ یہ کیسی پالیسی ہے کہ جب بندوق اٹھاؤ تو کرفیو، جب نہ اٹھاؤ تو کرفیو۔ کشمیری صحافی اور مصنف بشارت پیر جن کی جلد شائع ہونے والی کتاب کا عنوان ’کرفیوُڈ نائٹ‘ ہے، کہتے ہیں کہ ’یہ بھارتی ریاست کی مکمل ناکامی ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہر کو صرف اس لیے قید کیا جائے کہ اس نے ایک جلوس نکالنے کی سوچی۔ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں اور یہ اب عوام ہیں، نہ کہ غیراہم ہوتی عسکریت پسندی، جنہیں بھارت قابو میں لانا چاہتا ہے۔‘ تاہم کشمیر پرگزشتہ کئی سال سے لکھنے والے بھارتی صحافی پروین سوامی کی نظر میں ’ریاست میں بڑے پیمانے پر حالیہ مظاہروں کی وجوہات سے نمٹنے کے لیے کئی سیاسی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں ایل او سی پر تجارت، جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفِک کی مکمل بحالی اور نئے گورنر این این ووہرا کی طرف سے برملا گروہوں کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش شامل ہیں۔ سوامی کا ماننا ہے کہ ’ کرفیو وسیع پیمانے پر فسادات اور جانوں کا ضیاع روکنے میں کامیاب ہوا ہے۔۔۔‘ اور یہ کہ کشمیر میں تازہ ترین ’تشدد اور مصائب کے لیے کافی حد تک علیحدگی پسندوں کا "میکسملسٹ" یا انتہاپسندانہ موقف ذمہ دار ہے یعنی مظاہرے تب تک جاری رہیں گے جب تک کہ آزدای حاصل نہیں ہوتی۔ ’غیر معینہ مدت کے کرفیو‘ کو، جو کہ شہر کے کوچوں میں لاؤڈ سپیکروں سے آنے والی ایک دہشتناک غیبی تنبیہ جیسی ہوتی ہے، ریاستی سوچ کی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اور وہ سوچ یا پالیسی اکثر ایک سکیورٹی ریسپانس پر مبنی ہوتی ہے، یعنی فوجیوں کے کسی میٹنگ روم میں ایک گرڈ والے نقشے پر ترتیب دیا جانے والا طرز عمل۔ کئی کشمیری صحافیوں اور مبصرین سے گفتگو کے بعد ایک بات مرکزی دھار کے طور پر ابھر آتی ہے: ’یہ کیسا اٹوٹ انگ ہے کہ جس کی ذرا سی جنبش پر اسے سانس لینے سے روک دیا جاتا ہے؟‘ انٹلیجنس ادارے آئی بی کے سابق ڈائریکٹر اے کے ڈوُول کرفیو کو تکنیکی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ’کرفیو کبھی پالیسی نہیں ہوتی، صرف "لا اور لیجسلیشن" کا حصہ ہوتا ہے۔۔۔ جسے صرف غیر معمولی حالات میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ جمہوری اور شہری حقوق پر پابندی تبھی لگائی جا سکتی ہے اگر جان و مال کے نقصان کا خدشہ ہو۔ اس کا استعمال احتیاط سے کیا جانا چاہیے۔‘
کشمیر میں حکومتی رائے اسی "لا اینڈ آرڈر" والی بات پر مرکوز ہے کہ امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے کرفیو کا نفاذ ضروری ہوجاتا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جانی نقصان ہو۔۔۔ یعنی اس کا استعمال کسی بھی ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا جا سکتا ہے جو حکومت کو ناپسندیدہ ہو، مثلاً جلسے جلوس، آزادی کے حق میں اجتماع، بھارت مخالف نعرے بازی۔۔۔ تاہم سری نگر میں بی بی سے کے ہمارے ساتھی الطاف حسین کی نظر میں بھارت نے کشمیر کو ہمیشہ فوجی قوت اور عیاری سے ’ڈیل‘ کیا ہے، بھارتی قیادت نے نہ تو ایک عام کشمیری کےگہرے عدم تحفظ کے احساس کو سمجھا ہے اور نہ ہی اس کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔‘ چھ اکتوبر کی شام ایک لکھاری دوست کرفیو پاس کے سہارے لال چوک کا صحافتی چکر لگا کر گھر جارہے تھے کہ انہوں نے وہی پرانا اعلان سنا: ’کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گولی مار دی جائے گی۔۔۔‘ اور انہیں یقین ہوگیا کہ کشمیر پر بھارت کا فوجی کنٹرول کتنا مکمل اور موثر ہے۔ موسم سرما آنے کو ہے، کرفیو کے ایام پھر آچکے ہیں۔ شیخ قیوم کا کہنا ہے کہ پتا نہیں اس برس سرما کتنا دشوار گزار ہو۔۔۔ کشمیریوں کے محاصرہ کا موسم انیس سو نوے میں شروع ہوا تھا، اب بھی جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||