کشمیریوں کو بری کرنے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں سن ترانوے کے بم دھماکوں کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت جج یو ڈی ملا نے پیر کے روز ان دو کشمیریوں کو باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا جنہیں سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی ) ٹیم نیپال سے بم دھماکوں کے مفرور ملزمین سمجھ کر گرفتار کر کے ممبئی لائی تھی۔ ریاض احمد لون اور اشفاق احمد ٹاک کو عدالت نے بری کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی جنہیں سنگین ملزمان سمجھ کر لائی ہے وہ بے قصور ہیں اور سی بی آئی اب انہیں نیپال ان کے گھر تک چھوڑنے جائے۔ گرفتار کشمیریوں کو سی بی آئی نے بم دھماکوں کا ملزم ریاض کھتری سمجھ لیا تھا اور اشفاق کو سلیم عبدالغنی بتا کر سی بی آئی انہیں پہلے دہلی لے گئی اس کے بعد انہیں ممبئی لایا گیا۔ ان دونوں گرفتار شدگان کی پیروی کر رہی وکیل فرحانہ شاہ نے جرح کے دوران بتایا کہ ریاض تقریباً بیس سال سے نیپال میں رہ رہے ہیں۔ان کا ایک تیرہ سالہ بیٹا بھی ہے۔ وہ گھر سے افطار کر کے باہر نماز پڑھنے نکلے تھے کہ نیپال کی کرائم ڈویژن نے انہیں مفرور ملزم کھتری کہہ کر حراست میں لے لیا۔ سی بی آئی نے کھتری اور سلیم کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا ہے۔ فرحانہ نے گرفتار اشفاق احمد ٹاک کے بارے میں بتایا کہ وہ جموں کے رہنے والے ہیں۔ سن پچانوے تک سعودی عرب کے سپر مارکیٹ میں ملازم تھے۔اس کے بعد وہ نیپال چلے آئے جہاں انہوں نے شادی کر لی تھی۔
سی بی آئی کے وکیل اجول نکم کے مطابق انہیں نیپال پولیس نے بتایا تھا کہ مفرور ملزمان ان کی تحویل میں ہیں اور اس لیے سی بی آئی نے انہیں نیپال سے گرفتار کر لیا۔ نکم نے عدالت سے ان کی شناخت معلوم کرنے کے لیے تین دن کی پولیس حراست کی اپیل کی تھی جسے جج نے ٹھکرا دیا اور کہا کہ پہلے ان کے بارے میں پختہ ثبوت لاؤ تب حراست کی اجازت ملے گی۔ وکیل صفائی فرحانہ شاہ نے بی بی سی سے بات کے دوران حیرت کا اظہار کیا کہ سی بی آئی کے پاس بم دھماکہ کے ہر ملزم کا پورا ریکارڈ ہے۔انہوں نے ریاض کھتری سے مہینوں پوچھ گچھ کی تھی۔ وہ تین برس تک ٹاڈا جیل میں تھا۔ سن پچانوے میں ٹاڈا جج جے این پٹیل کی جانب سے ضمانت ملنےکے بعد سے کھتری لاپتہ ہے اس لیے اگر سی بی آئی کسی معصوم کو ملزم بنا کر اسی طرح پیش کرتی رہی تو سی بی آئی سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ ریاض لون اور اشفاق ٹاک کو اب یہ فکر ستا رہی ہے کہ کہیں اگر ان کی گرفتاری کی خبر سماج میں پھیل چکی ہو گی تو کہیں ملازمت سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔ فرحانہ کا کہنا تھا کہ اسی طرح بم دھماکوں میں گرفتار ملزمان جب عدالت سے بے قصور ثابت ہوئے تب بھی آج تک انہیں کسی جگہ ملازمت نہیں ملی ہے اور وہ آج تک ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں۔ | اسی بارے میں 93 دھماکے: کسٹم افسران کو سزائیں23 May, 2007 | انڈیا ’ پانچ بری، ایک قصوروار‘28 September, 2006 | انڈیا چھاپے مگر ’ابھی سراغ نہیں‘12 July, 2006 | انڈیا دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||