کشمیر: کرفیو ختم، حالات معمول پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے احتجاجی تحریک کو عارضی طور پر معطل کرنے کے فوراً بعد حکام نے دو روز تک جاری کرفیو کو ہٹا لیا ہے۔ اس طرح منگل کی صبح سے وادی میں حالات معمول پر آگئے ہیں۔ تاہم حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے تحریک کو معطل کرنے کا اعلان نہیں کیا جیسا کہ میڈیا میں بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’رابطہ کمیٹی کی میٹنگ بدھ یا جمعرات کو ہو گی جس میں تحریک کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے حکام نے چھہ اکتوبر کو لالچوک میں ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کو روکنے کے لیے اتوار کی صبح سے ہی وادی کے دس اضلاع میں کرفیو نافذ کیا تھا۔ سوموار کو لالچوک کے گرد سخت ترین محاصرے اور کرفیو کی وجہ سے مجوزہ مارچ نہیں ہوسکا اور شام کو حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق نے عوام سے اپیل کی وہ منگل سے معمول کا کام کاج بحال کریں۔ اس کے فوراً بعد انتظامیہ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام اضلاع سے مکمل طور پر کرفیو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ میرواعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ واضح طور پر پُرامن مارچ کے خلاف حکومت کی طرف سے کرفیو اور سختیوں کا نفاذ ’قوم کی اخلاقی فتح ہے۔‘ مسٹر گیلانی نے بی بی سی کوبتایا : ’ہم نے فی الحال احتجاجی تحریک کو عارضی طور پر معطل کیا ہے، لیکن جمعرات یعنی نو اکتوبر کو رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں اکتوبر مہینے کے لئے اگلے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔‘ ’آزادی مارچ‘ کا اعلان بائیس اگست کو علیحدگی پسندوں نے سرینگر میں منعقدہ ایک بھاری عوامی ریلی کے دوران کیا تھا اور لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پچیس اگست کو تمام اضلاع سے شہر کے تجارتی مرکز لالچوک پہنچیں جہاں وہ حق خودارادیت کے لیے تجدید عہد کرینگے۔ لیکن حکام نے چوبیس اگست کو ہی کرفیو نافذ کیا تھا جو گیارہ روز تک جاری رہا اور اس دوران مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادموں میں کئی ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے بعد علیٰحدگی پسندوں نے لالچوک مارچ کے لیے چھ اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی لیکن حکام نے دوبارہ کرفیو نافذ کیا۔ لیکن اس بار لوگوں نے خلاف ورزی کرنے سے احتراز کیا ۔ کرفیو کے دوران امن پسندی کا ثبوت دینے پر علیحدگی پسندوں اور حکام نے لوگوں کو مبارک باد دی ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا : ’لوگوں نے قیادت کی عدم تشدد پر مبنی پالیسی کی لاج رکھی اور حکومت کو ایک اخلاقی چیلنج دیا، یہ ہم سب کی اخلاقی فتح ہے۔‘ صوبائی انتظامیہ کے سربراہ یا چیف سیکریٹری ایس ایس کپور نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا : ’میں لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے امن وقانون کو بحال کرنے میں انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کیا۔‘ |
اسی بارے میں آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات04 October, 2008 | انڈیا کشمیر:’ کوئی پتھراؤ نہ کرے‘19 September, 2008 | انڈیا زرداری کی ’خوشخبری‘19 September, 2008 | انڈیا جموں، کشمیر کے درمیان تجارت بند؟18 September, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ13 September, 2008 | انڈیا کشمیر: تازہ جھڑپوں میں دو ہلاک12 September, 2008 | انڈیا کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ06 September, 2008 | انڈیا کشمیر:حریت رہنما پھر نظر بند 05 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||