BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 06:47 GMT 11:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: کرفیو ختم، حالات معمول پر

لال چوک فائل فوٹو
پولیس اور نیم فوجی عملے نے لاٹھی چارج کر کے ہجوم کو منتشر کر دیا
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے احتجاجی تحریک کو عارضی طور پر معطل کرنے کے فوراً بعد حکام نے دو روز تک جاری کرفیو کو ہٹا لیا ہے۔ اس طرح منگل کی صبح سے وادی میں حالات معمول پر آگئے ہیں۔

تاہم حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے تحریک کو معطل کرنے کا اعلان نہیں کیا جیسا کہ میڈیا میں بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’رابطہ کمیٹی کی میٹنگ بدھ یا جمعرات کو ہو گی جس میں تحریک کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے حکام نے چھہ اکتوبر کو لالچوک میں ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کو روکنے کے لیے اتوار کی صبح سے ہی وادی کے دس اضلاع میں کرفیو نافذ کیا تھا۔

سوموار کو لالچوک کے گرد سخت ترین محاصرے اور کرفیو کی وجہ سے مجوزہ مارچ نہیں ہوسکا اور شام کو حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق نے عوام سے اپیل کی وہ منگل سے معمول کا کام کاج بحال کریں۔ اس کے فوراً بعد انتظامیہ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام اضلاع سے مکمل طور پر کرفیو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

میرواعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ واضح طور پر پُرامن مارچ کے خلاف حکومت کی طرف سے کرفیو اور سختیوں کا نفاذ ’قوم کی اخلاقی فتح ہے۔‘

مسٹر گیلانی نے بی بی سی کوبتایا : ’ہم نے فی الحال احتجاجی تحریک کو عارضی طور پر معطل کیا ہے، لیکن جمعرات یعنی نو اکتوبر کو رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں اکتوبر مہینے کے لئے اگلے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔‘

’آزادی مارچ‘ کا اعلان بائیس اگست کو علیحدگی پسندوں نے سرینگر میں منعقدہ ایک بھاری عوامی ریلی کے دوران کیا تھا اور لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پچیس اگست کو تمام اضلاع سے شہر کے تجارتی مرکز لالچوک پہنچیں جہاں وہ حق خودارادیت کے لیے تجدید عہد کرینگے۔ لیکن حکام نے چوبیس اگست کو ہی کرفیو نافذ کیا تھا جو گیارہ روز تک جاری رہا اور اس دوران مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادموں میں کئی ہلاکتیں ہوئیں۔

اس کے بعد علیٰحدگی پسندوں نے لالچوک مارچ کے لیے چھ اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی لیکن حکام نے دوبارہ کرفیو نافذ کیا۔ لیکن اس بار لوگوں نے خلاف ورزی کرنے سے احتراز کیا ۔

کرفیو کے دوران امن پسندی کا ثبوت دینے پر علیحدگی پسندوں اور حکام نے لوگوں کو مبارک باد دی ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا : ’لوگوں نے قیادت کی عدم تشدد پر مبنی پالیسی کی لاج رکھی اور حکومت کو ایک اخلاقی چیلنج دیا، یہ ہم سب کی اخلاقی فتح ہے۔‘

صوبائی انتظامیہ کے سربراہ یا چیف سیکریٹری ایس ایس کپور نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا : ’میں لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے امن وقانون کو بحال کرنے میں انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کیا۔‘

جموں سےتجارت نہیں
جموں اور کشمیر کے درمیان تجارت بند؟
 غلام نبی کرفیو کے نام پر
’کشمیری شہریوں پر زیادتیاں ہوئیں‘
میر واعظ عمر فاروق کی تصویر(فائل فوٹو) ’کچھ لو کچھ دو‘
کشمیر: کیا مُقیّد حریت قیادت مان جائے گی؟
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
اسی بارے میں
زرداری کی ’خوشخبری‘
19 September, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد