BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 October, 2008, 06:13 GMT 11:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر: کرفیو، حریت رہنما گرفتار

لال چوک فائل فوٹو
لال چوک کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں کے ’آزادی مارچ‘ کے موقع پر پولیس نے سرینگر کے لال چوک کی جانب جانے والے تمام راستے’سیل‘ کر دیے ہیں جبکہ وادی میں اتوار کی صبح سے ہی غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے چھ اکتوبر کو ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کو ناکام بنانے کے لیے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور حریت تحریک کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

صوبائی ناظم مسعود سامون نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے سوموار کو ’آزادی مارچ‘ کے دوران تشدد کے خدشہ کے پیش نظر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنیچر کو صوبائی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیکورٹی صورتحال اور علیٰحدگی پسندوں کے اہتمام سے ہونے والے لال چوک مارچ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ ’عام لوگوں کی سلامتی کے لیے اتوار کی صبح سے ہی کرفیو نافذ کیا جائے‘۔

پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہزاروں جوانوں نے لال چوک کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور علاقے کے تمام داخلی و خارجی راستے خاردار تاریں اور دیگر رکاوٹیں لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔ سرینگر شہر کے علاوہ دیگر مضافاتی علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔

پولیس حکام نے سرینگر اور وادی کے دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں لاؤڈ سپیکرز پر اعلان کر کے عوام سے اپنے گھروں تک محدود رہنے کو کہا ہے۔اتوار کو صبح ساڑھے چار بجے سرینگر کے بڑے بازاروں اور اندروانی بستیوں میں لاؤڈ سپیکر لگی پولیس گاڑیوں نے اعلان کیا کہ’لوگ گھروں میں ہی بیٹھے رہیں اور باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں‘۔ اس دوران کسی بھی جگہ پانچ افراد کے اجتماع پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے کرفیو کے نفاذ کو غیر جمہوری قرار دیا ہے اور میر واعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی نے بی بی سی کے ساتھ الگ الگ گفتگو میں اس فیصلہ کی مذمت کی ہے۔

مظاہروں کی حالیہ لہر دو ماہ قبل شروع ہوئی تھی

سرینگر پولیس نے سنیچر کو رات گئے علیحدگی پسند رہنما یٰسین ملک کے علاوہ حریت قیادت کے متعدد رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا جبکہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کی ان کے گھروں میں نظربندی کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔ واضح رہے کہ شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی، آسیہ اندرابی اور دیگر درجنوں حریت کارکن پہلے ہی زیرِ حراست ہیں۔

یہ گزشتہ چند ماہ میں دوسرا موقع ہے کہ پولیس نے لال چوک میں کسی ریلی کے انعقاد سے قبل وادی میں کرفیو نافذ کیا ہے۔ اس سے قبل جب حریت رابطہ کمیٹی نے پچیس اگست کو لال چوک میں آزادی مارچ کا اعلان کیا تھا تو حکومت نے چوبیس اگست کی شام سے کرفیو نافذ کر دیا تھا جوگیارہ روز تک جاری رہا تھا۔

واضح رہے کہ کشمیر میں گزشتہ دو ماہ سے بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

جموں سےتجارت نہیں
جموں اور کشمیر کے درمیان تجارت بند؟
 غلام نبی کرفیو کے نام پر
’کشمیری شہریوں پر زیادتیاں ہوئیں‘
میر واعظ عمر فاروق کی تصویر(فائل فوٹو) ’کچھ لو کچھ دو‘
کشمیر: کیا مُقیّد حریت قیادت مان جائے گی؟
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
اسی بارے میں
زرداری کی ’خوشخبری‘
19 September, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد