سرینگر: کرفیو، حریت رہنما گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں کے ’آزادی مارچ‘ کے موقع پر پولیس نے سرینگر کے لال چوک کی جانب جانے والے تمام راستے’سیل‘ کر دیے ہیں جبکہ وادی میں اتوار کی صبح سے ہی غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے چھ اکتوبر کو ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کو ناکام بنانے کے لیے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور حریت تحریک کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ صوبائی ناظم مسعود سامون نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے سوموار کو ’آزادی مارچ‘ کے دوران تشدد کے خدشہ کے پیش نظر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنیچر کو صوبائی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیکورٹی صورتحال اور علیٰحدگی پسندوں کے اہتمام سے ہونے والے لال چوک مارچ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ ’عام لوگوں کی سلامتی کے لیے اتوار کی صبح سے ہی کرفیو نافذ کیا جائے‘۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہزاروں جوانوں نے لال چوک کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور علاقے کے تمام داخلی و خارجی راستے خاردار تاریں اور دیگر رکاوٹیں لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔ سرینگر شہر کے علاوہ دیگر مضافاتی علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام نے سرینگر اور وادی کے دیگر مسلم اکثریتی علاقوں میں لاؤڈ سپیکرز پر اعلان کر کے عوام سے اپنے گھروں تک محدود رہنے کو کہا ہے۔اتوار کو صبح ساڑھے چار بجے سرینگر کے بڑے بازاروں اور اندروانی بستیوں میں لاؤڈ سپیکر لگی پولیس گاڑیوں نے اعلان کیا کہ’لوگ گھروں میں ہی بیٹھے رہیں اور باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں‘۔ اس دوران کسی بھی جگہ پانچ افراد کے اجتماع پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے کرفیو کے نفاذ کو غیر جمہوری قرار دیا ہے اور میر واعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی نے بی بی سی کے ساتھ الگ الگ گفتگو میں اس فیصلہ کی مذمت کی ہے۔
سرینگر پولیس نے سنیچر کو رات گئے علیحدگی پسند رہنما یٰسین ملک کے علاوہ حریت قیادت کے متعدد رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا جبکہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کی ان کے گھروں میں نظربندی کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔ واضح رہے کہ شبیر احمد شاہ، محمد اشرف صحرائی، آسیہ اندرابی اور دیگر درجنوں حریت کارکن پہلے ہی زیرِ حراست ہیں۔ یہ گزشتہ چند ماہ میں دوسرا موقع ہے کہ پولیس نے لال چوک میں کسی ریلی کے انعقاد سے قبل وادی میں کرفیو نافذ کیا ہے۔ اس سے قبل جب حریت رابطہ کمیٹی نے پچیس اگست کو لال چوک میں آزادی مارچ کا اعلان کیا تھا تو حکومت نے چوبیس اگست کی شام سے کرفیو نافذ کر دیا تھا جوگیارہ روز تک جاری رہا تھا۔ واضح رہے کہ کشمیر میں گزشتہ دو ماہ سے بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات04 October, 2008 | انڈیا کشمیر:’ کوئی پتھراؤ نہ کرے‘19 September, 2008 | انڈیا زرداری کی ’خوشخبری‘19 September, 2008 | انڈیا جموں، کشمیر کے درمیان تجارت بند؟18 September, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ13 September, 2008 | انڈیا کشمیر: تازہ جھڑپوں میں دو ہلاک12 September, 2008 | انڈیا کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ06 September, 2008 | انڈیا کشمیر:حریت رہنما پھر نظر بند 05 September, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||