چھتیسگڑھ، پولنگ کےدوران تشدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں آج انتالیس سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں جس کے دوران کئی علاقوں میں زبردست تشدد کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ چھتیس گڑھ کے جنوبی علاقے ماؤنوازوں کی سرگرمیوں کی آماجگاہ رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی علاقے میں ماؤنواز باغیوں نے پولنگ کے اہلکاروں پر فائرنگ کی ہے اور انہیں واپس بھیج دیا ہے۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ بعض علاقوں میں ماؤنوازوں نے ووٹنگ مشین بھی چھین لی ہیں۔ ایک جگہ بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا ہے جبکہ کئی جگہ بارودی سرنگیں پھٹنے سے پہلے ہی برآمد کر لی گئی ہیں۔ ماؤنوازوں نے کئی جگہ سڑکیں بھی کاٹ دی ہیں۔ پہلے مرحلے میں چھتیس گڑھ کے بستر کے علاقے کی بھی بارہ سیٹوں پر انتخابات ہورہے ہیں جہاں ماؤنوازوں کا زیادہ اثر و رسوخ ہے اور انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے انتخابات کے لیے سخت حفاظتی بند وبست کیے ہیں اور بستر کے علاقے میں خاص طور پر فوج کے جوان تعینات ہیں جہاں فضائیہ کے نو ہیلی کاپٹر الیکشن کمیشن کے ملازمین کی مدد کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بستر کے علاقے میں پولنگ صبح سات بجے سے دوپہر بعد تین بجے تک کرانے کا حکم دیا ہے تاکہ شام ہونے سے پہلے ہی ووٹنگ مشینوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا سکے۔ باقی علاقوں میں پولنگ کا وقت صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک ہے۔ چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں انتالیس سیٹوں کے لیے پولنگ ہورہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں اکاون نشستوں کے لیے پولنگ بیس نومبر کو ہوگي۔ ووٹوں کی گنتی آٹھ دسمبر کو ہوگی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی وجہ سے چند ہی گھنٹوں میں نتائج حاصل ہوجائیں گے۔ | اسی بارے میں چھتیس گڑھ میں جمعہ سے پولنگ 13 November, 2008 | انڈیا پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب14 October, 2008 | انڈیا کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا یوپی انتخابات: مسلم ووٹرز کا المیہ14 April, 2007 | انڈیا اتر پردیش میں انتخابات شروع13 March, 2007 | انڈیا انتخابات میں کانگریس کو دھچکا27 February, 2007 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||