چھتیس گڑھ میں جمعہ سے پولنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جمعہ کو انتالیس نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے ہیں۔ اس کے ساتھ ملک کی چھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے عمل کی باقاعدہ شروعات ہوجائے گی۔ چھتیس گڑھ کی انتالیس سیٹوں کے لیے کل تین سو اناسی امیداور میدان میں ہیں۔ ریاست میں اسمبلی کی کل نوے نشستیں ہیں۔ باقی اکاون سیٹوں پر دوسرے مرحلے میں بیس نومبر کو پولنگ ہوگی۔ چھتیس گڑھ کے کئی اضلاع ماؤ نوازوں کی تحریک سے متاثر ہیں اس لیے انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے ہیں۔ اس مرحلے میں قبائیلیوں والے بستر کے علاقے میں بھی ووٹ پڑنے ہیں جہاں ماؤنوازوں کی سرگرمیاں زور شور سے چلتی رہی ہیں۔ چھتیس گڑھ کی پڑوسی ریاست مدھیہ پردیش میں پولنگ پچیس نومبر کو ہوگي اور یہاں انتخابات ایک ہی مرحلے میں ہوجائیں گے۔ انتیس نومبر کو دلی اور میزورم کی اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ راجستھان میں چار دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ تمام ریاستوں میں انتخابی مہم زور شور سے جاری ہے۔ ان انتخابات میں سب سے زیادہ توجہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان پر ہے۔ تمام ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی آٹھ دسمبر کو ہوگی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی وجہ سے چند ہی گھنٹوں میں نتائج حاصل ہوجائیں گے۔ | اسی بارے میں کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب14 October, 2008 | انڈیا ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز08 July, 2008 | انڈیا ’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘12 November, 2008 | انڈیا ’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘27 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||