’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نومبر اور دسمبر میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ تاہم بیس برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ کونسل نے انتخابات کے موقع پر پرتشدد کارروائیوں کی دھمکی نہیں دی اور متحدہ جہاد کونسل کا لب و لہجہ ماضی کے برعکس نسبتاٌ نرم ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سترہ نومبر سے چوبیس دسمبر تک سات مرحلوں میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہورہے ہیں۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ساڑھے سات لاکھ فوج کی موجودگی میں انتخابات کا انعقاد ایک ڈھونگ ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بھارت کی طرف سے اس کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کرانے کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے اور یہ تاثر دینا ہے کہ ریاست میں حالات نارمل ہیں۔ سید صلاح الدین نے عام لوگوں، سرکاری ملازمین، تاجروں اور محنت کشوں سے اپیل کہ وہ’ انتخابات میں حصہ نہ لیں اور نہ ہی وہ کسی طرح سے ان انتخابات میں مددگار اور معاون بنیں‘۔ ساتھ ہی انہوں نے انتخابی سیاست کرنے والے بھارت نواز سیاست دانوں کو ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ وہ ان کا سماجی بائیکاٹ کریں۔ سن انیس سو ننانوے میں بھارت کے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر متحدہ جہاد کونسل نے اپنے بیان میں صاف الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ کوئی بھی شخص جو بطور امیدوار یا ووٹر الیکشن میں حصہ لے گا یا اس کے لئے ٹرانسپورٹ مہیا کرے اس سے غدار تصور کیا جائے اور اس کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ سن دو ہزار دو میں ریاست کے قانون ساز اسمبلی کے موقع پر انتخابات کے موقع پر بھی کئی عسکری تنظیموں نے انتخابات میں حصہ لینے اور مدد کرنے والوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے یہ کہا تھا کہ اگر بھارتی فوج نے لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا تو وہ فوج کے خلاف کاروائی کریں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ متحدہ جہاد کونسل کے لب و لہجہ میں نرمی اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان قیام امن کے عمل کے بعد ان کو اس طرح کی عسکری برتری حاصل نہیں رہی۔ بھارت سے کشمیر کے آزادی کے حق میں سیاسی اور عسکری تنظیموں انتخابات مخالفت کرتی آرہی ہیں کیوں کہ ان کو یہ موقف ہے کہ انتخابات تنازع کشمیر کا حل نہیں اور نہ ہی یہ کشمیریوں کے حق خودارایت کا نعم البدل ہیں۔ لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی علحیٰدگی پسندوں کے تمام دھڑوں نے بھی انتخابی عمل کو مسترد کیا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والے انتخابات کے خلاف بائیکاٹ مہم چلائیں گے۔ | اسی بارے میں کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : حریت کا بائیکاٹ 19 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا کشمیر انتخابات سات مرحلوں میں19 October, 2008 | انڈیا کشمیر ٹرین:خدشات اور توقعات11 October, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو ختم، حالات معمول پر07 October, 2008 | انڈیا سرینگر:’آزادی مارچ‘ نہیں ہو سکا06 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||