سرینگر:’آزادی مارچ‘ نہیں ہو سکا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو کے نفاذ اور سکیورٹی فورسز کے سخت حفاظتی انتظامات کے باعث علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے شہر کے تجارتی مرکز میں کیا جانے والا مجوزہ ’آزادی مارچ‘ ایک مرتبہ پھر منعقد نہیں ہو سکا ہے۔ کرفیو کے باوجود کچھ جگہوں پر لوگوں نے جلوس نکالنے کی کوششیں کیں جنہیں فوری طور نیم فوجی عملے نے لاٹھی چارج کے ذریعہ منتشر کر دیا۔ ادھر حریت رہنما سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک تاحال نظر بند اور زیرِ حراست ہیں۔ وادی میں کرفیو کے دوسرے روز بھی عام زندگی مفلوج رہی اور لوگ گھروں میں رہے۔ لال چوک جانے والے تمام راستے بند کر دیےگئے اور چوک میں موجود گھنٹا گھر ایک بار پھر ’سیل‘ کر دیا گیا ہے۔ تمام شاہراہوں کے علاوہ شہر کے اندرونی گلی کوچوں میں بھی نیم فوجی عملہ کو تعینات کیا گیا ہے۔ کرفیو کے باعث سرینگر سے شائع ہونے والے اردو اور انگریزی اخبارات کی اشاعت بھی معطل ہے جبکہ حکومت نے مقامی کیبل ٹی وی پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وادی میں پرتشدد واقعات کے خدشات کے پیشِ نظر کرفیو لگایا گیا ہے جبکہ پچھلے کئی ہفتوں سے علیٰحدگی پسند قیادت خاص طور پر سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک یہ اصرار کرتے رہے تھے کہ یہ مارچ انتہائی پُرامن ہوگا، اس میں اشتعال انگیز نعرے بازی نہیں ہوگی اور پتھراؤ کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ رابطہ کمیٹی نے محمد یٰسین ملک کی سربراہی میں نظم و ضبط کے حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی، جس کے تحت ایک ہزار رضاکاروں کو مارچ کے دوران ’شرپسند عناصر‘ پر نظر رکھنے کے لیے مامور کیا گیا تھا۔ تاہم ان یقین دہانیوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اتوار کی صبح ہی حکام نے کرفیو کا اعلان کیا اور تینوں رہنماؤں کو نظر بند کردیا۔ اگست کے گیارہ روزہ کرفیو کے مقابلے اس بار کرفیو کے دوران مجموعی طور حالات پُرامن رہے تاہم سرینگر اور بعض دوسرے اضلاع میں لوگوں نے محاصرہ توڑ کر لال چوک کی طرف پیش قدمی کی کوششیں کیں لیکن پولیس اور نیم فوجی عملے نے لاٹھی چارج کر کے ہجوم کو منتشر کر دیا۔ کرفیو کی خلاف ورزی اور جلوس نکالنے کی کوششوں کے واقعات سرینگر کے حبہ کدل، نوہٹہ اور رعناواری میں بھی پیش آئے جبکہ بارہ مولہ اور جموں کے بانہال قصبہ میں بھی لوگوں نے آزادی کے حق میں مظاہرے کرنے کی کوشش کی جسے نیم فوجی عملے نے ناکام بنا دیا۔
دریں اثنا پائیں شہر کے چھتہ بل اور نوہٹہ علاقہ میں جامع مسجد کے قریب نوجوانوں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی تو اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ کی جس کے بعد مظاہرین گھروں کو لوٹ گئے۔ ادھر نظر بند حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ تو ہماری جیت ہے۔ ہم واضح کر چکے تھے کہ اس مارچ کے دوران کوئی نعرے بازی یا پتھراؤ نہیں ہوگا، لیکن حکومت نے قیادت کو نظربند کیا اور کرفیو نافذ کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ہماری اخلاقی فتح ہے‘۔ اِدھر سرکاری ذرائع کے مطابق سرینگر میں پولیس، نیم فوجی عملے اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کا اجلاس جاری ہے جس میں کرفیو میں ڈھیل دینے سے متعلق غور کیا جارہا ہے۔ ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’اگست میں کرفیو کے دوران کافی تشدد ہوا۔ اس بار تو حالات مجموعی طور پرامن رہے۔ لیکن ہم پھر بھی تمام امکانات کا جائزہ لے کر آج دیر رات تک کوئی فیصلہ کریں گے‘۔ کشمیر انتظامیہ کے سینئر افسر انِل گوسوامی نے کرفیو کے دوران کئی مرتبہ سرکاری ٹیلی ویژن پر اعلان کیا ہے کہ’لوگ کرفیو اُٹھانے میں تعاون کریں۔ اگر لوگ جلسے جلوس نکالیں گے تو امن و امان خراب ہوگا اور فورسز ردعمل بھی دکھائیں گی‘۔ |
اسی بارے میں آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات04 October, 2008 | انڈیا کشمیر:’ کوئی پتھراؤ نہ کرے‘19 September, 2008 | انڈیا زرداری کی ’خوشخبری‘19 September, 2008 | انڈیا جموں، کشمیر کے درمیان تجارت بند؟18 September, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ13 September, 2008 | انڈیا کشمیر: تازہ جھڑپوں میں دو ہلاک12 September, 2008 | انڈیا کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ06 September, 2008 | انڈیا کشمیر:حریت رہنما پھر نظر بند 05 September, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||