BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 October, 2008, 13:00 GMT 18:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیرالیکشن : حریت کا بائیکاٹ

فائل فوٹو
حالیہ دنوں میں حریت نے آزادی کے لیے بڑی بڑی ریلیاں کی ہیں

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اتوار کو انتخابات کے اعلان پر مقامی علیحدگی پسندوں کے تمام دھڑوں نے انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کے خلاف’بائیکاٹ مہم‘شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق سترہ نومبر سے چوبیس دسمبر تک سات مرحلوں کے دوراں صوبے کے تمام خطوں میں انتخابات منعقد ہونگے۔ اس کے بعد جنوری کے پہلے ہفتے میں نئی حکومت انتظامی کام کاج سنبھالے گی۔

سینیئر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی جو فی الوقت نئی دلّی کے ایسکارٹ ہسپتال میں زیرعلاج ہیں، نے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’یہ انتخابات موجودہ تحریک کے تناظر میں غیرمتعلق ہیں۔ جو یہ انتخابات لڑنے جارہے ہیں، میں ان سے ذاتی گزارش کروں گا کہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی نہ کریں اور اس عمل سے دوُر رہیں۔‘

 اس سے بہتر تھا کہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جاتا۔ مجھے لگتا ہے کہ حکومت ہند عالمی رائے عامہ کو یہ تائثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ جموں کشمیر میں جمہوری عمل بحال کیا جارہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں عام آدمی محفوظ نہیں اور پھر الیکشن کے بعد کوئی تبدیلی ناممکن ہے کیونکہ پالیسی تو پھر بھی دلّی والوں کی ہی چلے گی۔
حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق
مسٹر گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ اس انتخابی مہم کے خلاف ہمہ گیر بائیکاٹ مہم چلائیں گے۔

حریت کانفرنس کے دوسرے دھڑے کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے اپنے ردعمل میں بتایا کہ ’الیکشن کی تاریخوں کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے کہ نئی دلّی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ موجودہ حالات میں تو ہندنواز لیڈر عوام کا سامنا تک نہیں کرسکتے، آپ خود اندازہ لگائیے کہ ان انتخابات کی اعتباریت کیا ہوگی۔‘

مسٹر عُمر نے مزید کہا: ’اس سے بہتر تھا کہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جاتا۔ مجھے لگتا ہے کہ حکومت ہند عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ جموں کشمیر میں جمہوری عمل بحال کیا جارہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں عام آدمی محفوظ نہیں اور پھر الیکشن کے بعد کوئی تبدیلی ناممکن ہے کیونکہ پالیسی تو پھر بھی دلّی والوں کی ہی چلے گی۔‘

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک سمجھتے ہیں کہ ’عام کشمیریوں کے لئے الیکشن کوئی معنی نہیں رکھتا۔ آج لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی تین نسلیں مسئلہ کشمیر میں کنزیوم (صرف) ہوگئیں، اور اب وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے بھی وہی کچھ نہ دیکھیں جو ان کی تین نسلیں دیکھ چکی ہیں۔‘

 بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے امن عمل کی بنیاد ڈالی اور موجودہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اسی پالیسی کو آگے بڑھایا اور لوگوں سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا وعدہ کیا۔ ہم نے اس عمل کی حمایت بھی کی۔ اب موجودہ تحریک کے دوران بھی لوگوں نے تشدد کو خیرباد کہہ کر عدم تشدد کا راستہ اپنا کر بھارت کو اپنا وعدہ یاد دلانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کے بدلے میں انہیں باون لاشیں اور سینکڑوں زخمی ملے۔ پھر بھی لوگوں نے حکومتی تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ عدم تشدد کی اس تحریک کو اگر کامیاب ہونے دیا جائے تو یہ پوری دُنیا میں جاری تشدد کی تحریکوں کے لئے انسپریشن بن جائے گی۔
جے کے ایل ایف کے رہنما یسین ملک
مسٹر ملِک نے بھی میرواعظ کے ہی لہجہ میں مذاکراتی عمل کو الیکشن کا متبادل قرار دیتے ہوئے کہا: ’بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے امن عمل کی بنیاد ڈالی اور موجودہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اسی پالیسی کو آگے بڑھایا اور لوگوں سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا وعدہ کیا۔ ہم نے اس عمل کی حمایت بھی کی۔ اب موجودہ تحریک کے دوران بھی لوگوں نے تشدد کو خیرباد کہہ کر عدم تشدد کا راستہ اپنا کر بھارت کو اپنا وعدہ یاد دلانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کے بدلے میں انہیں باون لاشیں اور سینکڑوں زخمی ملے۔ پھر بھی لوگوں نے حکومتی تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ عدم تشدد کی اس تحریک کو اگر کامیاب ہونے دیا جائے تو یہ پوری دُنیا میں جاری تشدد کی تحریکوں کے لئے انسپریشن بن جائے گی۔‘

یٰسین ملک نے بھی گھر گھر بائیکاٹ مہم کا اعلان کیا ہے۔ شبیر احمد شاہ، جنہیں گیارہ اگست کو ’ مظفرآباد مارچ‘ کے بعد جیل بھیج دیا گیا تھا، کے ساتھی مولانا عبداللہ طاری نے بتایا :’ شاہ صاحب کا بھی موقف وہی ہے جو اجتماعی قیادت کا ہے۔ ہم گھر گھر بائیکاٹ کی مہم چلائینگے۔‘

حریت دھڑوں اور دیگر علیحدگی پسندوں کی رابطہ کمیٹی سے لاتعلق پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے بتایا : ’انتخابات کا اعلان کشمیریوں کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ میں تو اس عمل کے خلاف گھر گھر جاکر مہم چلاؤں گا۔ اور اس سلسلے میں عنقریب پروگرام مشتہر کیا جائے گا۔‘

واضح رہے کہ دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد سید علی گیلانی نے مسٹر لون پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے آزاد اُمیدواروں کو میدان میں اُتار کر بالواسطہ طور الیکشن میں حصہ لیا۔ اس الزام کی مسٹر لون نے شدید الفاظ میں تردید کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد