کشمیر انتخابات سات مرحلوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے قومی الیکشن کمیشن نے جموں کشمیر میں سترہ نومبر اور چوبیس دسمبر کے درمیان سات مرحلوں میں اسمبلی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کے روز دلی میں الیکشن کمشنر این گوپالا سوامی نے ایک نیوز کانفرنس میں میں بتایا کہ مرکزی حکومت جموں کشمیر میں انتخابات کے دوان بڑی تعداد میں سکیورٹی کا بند وبست کرنے پر راضی ہوگئی ہے۔ مسٹر گوپالا سوامی نے کہا: ’جموں کشمیر میں سترہ نومبر سے لیکر چوبیس دسمبر تک سات مرحلوں میں پولنگ کا کام پورا ہوگا اور اٹھائیس دسمبر کو ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی۔ ہم اکتیس دسمبر تک انتخابات کا عمل پوری طرح مکمل کر لیں گے۔‘ سترہ نومبر کو پہلے مرحلے میں باندی پورہ، لیہہ، کارگل اور پونچھ کی دس اسمبلی حلقے کے لیے انتخابات ہوں گے۔ تئیس نومبر کو دوسرے مرحلے میں گاندر بل اور رجوری ضلع کی چھ اسمبلی حلقوں میں پولنگ ہوگی جبکہ تیس نومبر کو تیسرے مرحلے میں کپوڑاہ کے پانچ حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ سات دسمبر کو چوتھے مرحلے میں بارہ مولہ، بڈگام، ریاسی اور اودھم پورکی اٹھارہ نشستوں میں ووٹ پڑیں گے۔ تیرہ دسمبر کو پانچویں دور میں پلوامہ، شوپیان اور کٹھوا کی گیارہ اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 17 دسمبر کو چھٹے دور کی پولنگ ہوگی جس میں کلگام، اننت ناگ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن کی سولہ سیٹوں کے لیے ووٹ پڑيں گے۔ چوبیس دسمبر کو آخری مرحلے میں سری نگر اور جموں کی اکیس سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ وادئ کشمیر میں دسمبر کا مہینہ بہت سرد ہوتا ہے اور برفباری کے بھی امکانات ہوتے ہیں۔ ایسے میں میں انتخابی مہم اور ووٹ ڈالنے کے عمل میں مشکلیں آسکتی ہیں۔ الیکشن کمیشن نےگزشتہ ہفتے ہی پانچ ریاستوں میں اسبملی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا تھا لیکن اس وقت کشمیر کے انتخابات کے متعلق اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔ انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ حالیہ میٹنگ میں کشمیر کی تاریخوں پر اتفاق ہوگیا ہے اس لیے اس کا اعلان کیا گیا ہے۔ انتخابات کے اعلان پر مقامی علیحدگی پسندوں کے تمام دھڑوں نے انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کے خلاف’بائیکاٹ مہم‘شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینیئر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی جو فی الوقت نئی دلّی کے ایسکارٹ ہسپتال میں زیرعلاج ہیں، نے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’یہ انتخابات موجودہ تحریک کے تناظر میں غیرمتعلق ہیں۔ جو یہ انتخابات لڑنے جارہے ہیں، میں ان سے ذاتی گزارش کروں گا کہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی نہ کریں اور اس عمل سے دوُر رہیں۔‘ | اسی بارے میں کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا کشمیر ٹرین:خدشات اور توقعات11 October, 2008 | انڈیا پاکستانی تاجر وفد سری نگر میں10 October, 2008 | انڈیا کشمیر:منموہن کی آمد پر مظاہرے10 October, 2008 | انڈیا کشمیر پر زرداری کے بیان کاخیرمقدم06 October, 2008 | انڈیا آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات04 October, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ13 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||