’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں سیاسی پارٹیوں اور مقامی افسران کے طویل اجلاس کے بعد بھارتی الیکشن کمیشنر نے کہا کہ انتخابات میں علیحدگی پسند نہیں بلکہ موسم رخنہ ڈال سکتا ہے۔ بھارت کے چیف الیکشن کمیشنر این گوپالا سوامی نے بدھ کو سرینگر میں کہا کہ جموں کشمیر میں سترہ نومبر سے ہونے والے انتخابات کے خلاف علیحدگی پسندوں کی بائیکاٹ مہم سے نمٹنے کے لئے بھرپور انتظامات کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سلامتی کے خدشات یا علیحدگی پسندوں کی بائیکاٹ مہم میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے البتہ موسم ضرور ایک خطرہ ہے‘۔ چیف الیکشن کمشنر این گوپالا سوامی نے اپنے دو نائب کمشنروں کے ہمراہ یہاں کی کم از کم دس ہندنواز سیاسی جماعتوں اور مقامی سِول و پولیس افسران کے ساتھ الگ الگ نشستوں کے بعد ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مسٹر سوامی کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ چناؤ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے دوران کچھ جماعتوں نے پولنگ بوتھوں پر حملوں کے خدشات ظاہر کئے اور کچھ دیگر نے بالائی علاقوں میں دھاندلیوں کا خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا ’لیکن ہم نے حفاظت کا مکمل بندوبست کیا ہے۔ پولنگ بوتھوں کی حفاظت بھی اور الیکشن لڑ رہے امیدواروں کی ذاتی سلامتی کا بھی پورا انتظام ہے‘۔ قابل ذکر ہے کہ اس سال جون میں ہندو شرائن بورڑ کو زمین کی منتقلی کے معاملے پر تحریک شروع ہونے کے بعد انتہائی کشیدہ ماحول میں حکومت ہند نے انتخابات کا اعلان کیا۔ اس کے ردعمل میں علیحدگی پسندوں کے سبھی دھڑوں نے ان انتخابات کے خلاف یکساں موقف اختیار کرتے ہوئے الیکشن کے دوران پولنگ سٹیشنوں کی طرف مارچ کرنے کی کال دی۔ اس کال کے فوراً بعد محمد یٰسین ملک سمیت کئی علیحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا جبکہ میرواعظ عمر فاروق اور سجاد غنی لون کو اپنے ہی گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔ الیکشن لڑ رہی دو بڑی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے ان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عمرعبداللہ نے ایک انتخابی جلسے میں یہاں تک کہہ دیا کہ، ’ہمارے آئین کے مطابق علیحدگی پسندوں کو بھی الیکشن کے خلاف متوازی مہم چلانے کا حق ہے‘۔ لیکن یہ پوچھنے پر کہ جمہوری اصولوں کے مطابق الیکشن کے خلاف مہم چلانا بھی ہندوستانی آئین کی رُو سے بنیادی حقوق میں شامل ہے، مسٹر سوامی نے بتایا : ’یہ صحیح ہے مگر ووٹنگ کے خلاف مہم چلانا الگ بات ہے جبکہ کسی کو ووٹ نہ ڈالنے پر مجبور کرنا اور اس پر دباؤ ڈالنا الگ بات ہے۔ لہٰذا قانون اپنا کام کرے گا‘۔ مسٹر سوامی نے زور دے کر یہ بات کہی کہ علیحدگی پسندوں کی کال سے نمٹنے کے لئے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس دوران وادی کے دورے پر آئے بھارت کی بری افواج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو بتایا: ’فوج انتخابات کے لئے ماحول کو سازگار بنانے میں کردار نبھائے گی‘۔ اِدھر علیحدگی پسند حریت کانفرنس اور اس سے منسلک کئی جماعتوں کا الزام ہے کہ وادی کے مختلف علاقوں میں پولیس اور فوج نے حریت کارکنوں کو گرفتار کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ واضح رہے کہ جموں کشمیر کے بائیس اضلاع میں سات مرحلوں کے تحت سترہ نومبر سے انتخابات شروع ہورہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں کشمیر کے تین، لداخ کے چار اور جموں کے مسلم اکثریتی خطے کے تین اسمبلی حلقوں کے لئے انتخابات منعقد ہونگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||