سرینگر: انتخابی امیدوار غائب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جموں وکشمیر میں جب ریاستی انتخابات کا اعلان ہوا تو حالیہ بڑے بڑے عوامی مظاہروں کے پیش نظر اس بات کا امکان دکھائی دے رہا تھا کہ اُمیدوار بڑی تعداد میں سامنے نہیں آئیں گے اور انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیں گے۔ ریاست کی مقامی سیاسی جماعتوں میں جہاں کارکنوں کو مینڈیٹ دینے پر اندرونی خلفشار رہا وہیں قومی پارٹیوں کے لیے اُمیدوار ڈھونڈنا اور مرکزی شہروں میں دفاتر قائم کرنا مشکل مرحلہ ثابت ہوا۔ بعض مقامی اخباروں نےایسی خبریں شائع کیں جن میں ان پارٹیوں کے رہنما بیروزگار نوجوانوں کو موٹی رقم اور روزگار کے عوض انتخابی امیدوار بننے کی جانب راغب کر رہے تھے۔ کشمیر میں بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح سن سنتالیس سے انتخابی عمل جاری ہے اور ان میں عوام کے بڑے طبقے نے حصہ بھی لیا ہے۔
معصوم ووٹر اس کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑ کر جذبات میں آکر انہیں ووٹ دیا کرتے تھے۔ویسے شیخ عبداللہ قران شریف کی تلاوت سے بھی لوگوں کے جذبات بھڑکانے کے ماہر تھے۔ شیخ عبداللہ کے جانیشیں فاروق عبداللہ کے دور میں تلاوت کے بدلے انتخابی عمل پر زیادہ تر بالی وڈ چھایا رہا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد بیشتر کشمیری آزادی یا الحاق پاکستان کا خواب بھول گئے اور بقیہ ریاستوں کی طرح انتخابی عمل میں شریک رہے۔ انیس سو ستاسی میں راجیوگاندھی فاروق عبداللہ معاہدے کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی مبینہ انتخابی دھاندلیوں نے عوام کو نہ صرف بدظن کردیا بلکہ بھارتی حکومت کی اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کرنے پر شکوک بھی پیدا ہوگئے۔ اُن دنوں یہ خبر گرم تھی کہ چند نوجوان زیر زمین مہم چلارہے ہیں۔ ستاسی کے ریاستی انتخابات میں نوجوانوں کی نئی سیاسی تنظیم مسلم یونایٹڈ فرنٹ نے انتخابات میں حصہ لیا۔
ان نوجوانوں کی مار پیٹ ہوئی کچھ قید ہوئے، کچھ فرار ہوگئے اور چند برسوں بعد بندوق برداروں کی شکل میں دوبارہ نمودار ہوگئے۔ مسلح تحریک کے دوران انتخابات کرانا انتہائی مشکل ہوگیا مگر نیشنل کانفرنس نےہمیشہ کی طرح بھارتی حکومت کی مشکلوں کو آسان کردیا اور انتخابی عمل کے لیے راضی ہوگئی، حالانکہ پارٹی کے تمام بڑے رہنما مسلح تحریک کے پیش نظر وادی سے باہر چلے گئے کیونکہ بیشتر کارکن ’تشدد‘ کا بھی نشانہ بنے تھے۔ مسلح تحریک نے ایک طرف لوگوں میں جذبہ آزادی کو دوبارہ اُبھارا تو دوسری طرف تشدد کے خلاف حکومت کی کارروائی نے لوگوں کو بھارت سے دور کر دیا اور بھارت مخالف لہر مظبوط ہوتی گئی جو امرناتھ شرائن بورڈ کے قضیہ کے بعد اور گہری ہوگئی ہے۔ بیشتر قومی پارٹیوں کویہ تمنا رہی کہ وہ خوبصورت وادی میں اپنا دفتر قائم کرسکیں مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا اور اب یہ عالم ہے کہ بے روزگار نوجوان بھی انتخابی امیدوار بننے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس مقامی جماعتوں کے دفاتر کے باہر یہ کہنے کے باوجود کہ وہ انتخابات کے لیے ماحول سازگار نہیں امیدواروں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر بیشتر ووٹرانتخابات میں شریک نہیں ہونگےتو کیا اسے بڑی جمہوریت کا جمہوری عمل کہا جاسکتا ہے اور کیا بھارت پھر اس شدید مسئلے کو دبا کر کشمیریوں کا دل جیت سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘27 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا کنٹرول لائن: تجارت آج سے21 October, 2008 | انڈیا کشمیر انتخابات سات مرحلوں میں19 October, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : حریت کا بائیکاٹ 19 October, 2008 | انڈیا کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب14 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||