BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 November, 2008, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر: انتخابی امیدوار غائب

فائل فوٹو
کشمیری سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ انتخابات کے لیے ماحول سازگار نہیں
جموں وکشمیر میں جب ریاستی انتخابات کا اعلان ہوا تو حالیہ بڑے بڑے عوامی مظاہروں کے پیش نظر اس بات کا امکان دکھائی دے رہا تھا کہ اُمیدوار بڑی تعداد میں سامنے نہیں آئیں گے اور انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیں گے۔

ریاست کی مقامی سیاسی جماعتوں میں جہاں کارکنوں کو مینڈیٹ دینے پر اندرونی خلفشار رہا وہیں قومی پارٹیوں کے لیے اُمیدوار ڈھونڈنا اور مرکزی شہروں میں دفاتر قائم کرنا مشکل مرحلہ ثابت ہوا۔

بعض مقامی اخباروں نےایسی خبریں شائع کیں جن میں ان پارٹیوں کے رہنما بیروزگار نوجوانوں کو موٹی رقم اور روزگار کے عوض انتخابی امیدوار بننے کی جانب راغب کر رہے تھے۔

کشمیر میں بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح سن سنتالیس سے انتخابی عمل جاری ہے اور ان میں عوام کے بڑے طبقے نے حصہ بھی لیا ہے۔

بھارت مخالف لہر
 مسلح تحریک نے اگرچہ لوگوں میں جذبہ آزادی کو دوبارہ اُبھارا مگر تشدد کے خلاف حکومت کی کارروائی نے لوگوں کو بھارت سے دور کر دیا اور بھارت مخالف لہر مظبوط ہوتی گئی جو امرناتھ شرائن بورڈ کے قضیہ کے بعد اور گہری ہوگئی ہے
نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ نے ان انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی حالانکہ اکثر ووٹر کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی اپنی تقاریر میں یہ نہیں کہا کہ بھارت کے ساتھ الحاق اٹل ہے بلکہ ان کے قریبی ساتھی محمد افضل بیگ ووٹروں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے انتخابی ریلیوں میں ایک ہاتھ میں سبز رومال اور دوسرے ہاتھ میں پاکستانی نمک رکھا کرتے تھے۔

معصوم ووٹر اس کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑ کر جذبات میں آکر انہیں ووٹ دیا کرتے تھے۔ویسے شیخ عبداللہ قران شریف کی تلاوت سے بھی لوگوں کے جذبات بھڑکانے کے ماہر تھے۔

شیخ عبداللہ کے جانیشیں فاروق عبداللہ کے دور میں تلاوت کے بدلے انتخابی عمل پر زیادہ تر بالی وڈ چھایا رہا۔

بنگلہ دیش بننے کے بعد بیشتر کشمیری آزادی یا الحاق پاکستان کا خواب بھول گئے اور بقیہ ریاستوں کی طرح انتخابی عمل میں شریک رہے۔

انیس سو ستاسی میں راجیوگاندھی فاروق عبداللہ معاہدے کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی مبینہ انتخابی دھاندلیوں نے عوام کو نہ صرف بدظن کردیا بلکہ بھارتی حکومت کی اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کرنے پر شکوک بھی پیدا ہوگئے۔ اُن دنوں یہ خبر گرم تھی کہ چند نوجوان زیر زمین مہم چلارہے ہیں۔

ستاسی کے ریاستی انتخابات میں نوجوانوں کی نئی سیاسی تنظیم مسلم یونایٹڈ فرنٹ نے انتخابات میں حصہ لیا۔

بیروزگار نوجوان
 بیشتر قومی پارٹیوں کویہ تمنا رہی کہ وہ خوبصورت وادی میں اپنا دفتر قائم کرسکیں مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا اور اب یہ عالم ہے کہ بے روزگار نوجوان بھی انتخابی امیدوار بننے سے انکار کر رہے ہیں
مبصر کہتے ہیں کہ ان کی کامیابی نہ صرف ناگزیر تھی بلکہ ساتھ ہی یہ خبریں بھی گشت کرنے لگی کہ نوجوان اسمبلی کے فلور پر آزادی کا اعلان کرنے والے ہیں جس کے پیش نظر حکومت نے خوب زور لگا کر نیشنل کانفرنس کانگریس کو جتوایا۔

ان نوجوانوں کی مار پیٹ ہوئی کچھ قید ہوئے، کچھ فرار ہوگئے اور چند برسوں بعد بندوق برداروں کی شکل میں دوبارہ نمودار ہوگئے۔

مسلح تحریک کے دوران انتخابات کرانا انتہائی مشکل ہوگیا مگر نیشنل کانفرنس نےہمیشہ کی طرح بھارتی حکومت کی مشکلوں کو آسان کردیا اور انتخابی عمل کے لیے راضی ہوگئی، حالانکہ پارٹی کے تمام بڑے رہنما مسلح تحریک کے پیش نظر وادی سے باہر چلے گئے کیونکہ بیشتر کارکن ’تشدد‘ کا بھی نشانہ بنے تھے۔

مسلح تحریک نے ایک طرف لوگوں میں جذبہ آزادی کو دوبارہ اُبھارا تو دوسری طرف تشدد کے خلاف حکومت کی کارروائی نے لوگوں کو بھارت سے دور کر دیا اور بھارت مخالف لہر مظبوط ہوتی گئی جو امرناتھ شرائن بورڈ کے قضیہ کے بعد اور گہری ہوگئی ہے۔

بیشتر قومی پارٹیوں کویہ تمنا رہی کہ وہ خوبصورت وادی میں اپنا دفتر قائم کرسکیں مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا اور اب یہ عالم ہے کہ بے روزگار نوجوان بھی انتخابی امیدوار بننے سے انکار کر رہے ہیں۔

اس کے برعکس مقامی جماعتوں کے دفاتر کے باہر یہ کہنے کے باوجود کہ وہ انتخابات کے لیے ماحول سازگار نہیں امیدواروں کی لائن لگی ہوئی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ اگر بیشتر ووٹرانتخابات میں شریک نہیں ہونگےتو کیا اسے بڑی جمہوریت کا جمہوری عمل کہا جاسکتا ہے اور کیا بھارت پھر اس شدید مسئلے کو دبا کر کشمیریوں کا دل جیت سکتا ہے۔

اسی بارے میں
کنٹرول لائن: تجارت آج سے
21 October, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد