کنٹرول لائن: تجارت آج سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان نصف صدی کے بعد پہلی بار کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کے لیے آج منگل سے راستہ کھول رہے ہیں۔ ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے گذشتہ ماہ نیویارک میں اپنی ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان اکیس اکتوبر سے تجارت کا آغاز کیا جائے گا۔ اب سے چند گھنٹوں بعد مال بردار ٹرک مظفرآباد سرینگر روڈ پر سفر کرتے ہوئے چکوٹھی کے مقام پر کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول کو عبور کریں گے۔ اس مقام پر ایل پل ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے الگ کرتا ہے۔ حکام کے مطابق چاول، لہسن، پیاز مصالے، خشک پھل اور پشاوری چپل سے لدے ہوئے چودہ ٹرک منگل کو مظفرآباد سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جائیں گے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان ان مال بردار ٹرکوں کو چکوٹھی سے روانہ کریں گے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مظفرآباد سے سرینگر 183 کلومیڑ کا فاصلہ ہے لیکن اس فاصلے کو طے کرنے کے لیے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک انتظار کرنا پڑا ہے۔ نصف صدی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مال گاڑیاں لائن آف کنڑول آر پار جاسکیں گی۔ ایک سو تراسی کلو میڑ لمبی یہ سڑک جو دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے ملاتی ہے۔
یہ سڑک کشمیر پر ہندو ڈوگرہ حکمرانی کے دور میں اٹھارویں صدی کے آخر میں تعمیر کی گئی تھی۔ سرینگر اور راولپنڈی کے درمیان سن 1947 میں اس وقت آمد و رفت بند ہوگئی تھی جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر پہلی جنگ ہوئی۔ اس سے قبل کشمیر کو برصغیر کے ساتھ ملانے والی یہ واحد سڑک تھی جو پورا سال آمد ورفت کے لیے کھلی رہتی تھی۔ سن دو ہزار پانچ میں بس سروس کے آغاز تک ستاون برسوں میں اس سڑک کے ذریعے کوئی آر پار نہیں جاسکا۔ مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان چلنے والی بسیں لائن آف کنڑول عبور نہیں کرسکتیں اور ان بسوں کے مسافر پیدل لائن آف کنڑول عبور کرکے کشمیر کے دونوں حصوں میں داخل ہوتے ہیں۔ لیکن مال بردار ٹرکوں کو متازعہ کشمیر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان ٹرک ڈرائیوروں کو ہندوستان اور پاکستان کی طرف سے باہمی تجارت کے لئے سہولتیں فراہم کرنے کی خاطر افسروں نے خصوصی اجازت نامہ جاری کئے ہیں۔یہ سنگل انڑی پرمٹ ہوگا یعنی اس پرمٹ پر ان ڈرائیوروں کو ایک دفعہ لائن آف کنڑول عبور کرنے کی اجازت ہوگی۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مظفرآباد سے جانے والے ٹرک لائن آف کنڑول سے بیس کلومیڑ کے فاصلے پر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسلام آباد کے مقام پر مال اتار کر واپس آئیں گے اور وہاں سے بھارت کے ٹرک اس مال کو سرینگر پہنچائیں گے۔
اس طرح سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والے ٹرک لائن آف کنڑول عبور کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرحدی قصبہ چکوٹھی کے مقام پر مال اتار کر واپس جائیں گے اور وہاں سے پاکستان کے ٹرک مال آگے پہنچائیں گے۔ مظفرآباد کے محمد عارف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ان چودہ ٹرک ڈرائیوروں میں ایک ہیں جو منگل کو مال بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لے کر جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میری ہمیشہ خواہش رہی کہ میں مقبوضہ کشیر( بھارت کے زیر انتظام ) جاؤں اور اللہ نے میری خواہش پوری کردی‘۔ عارف کا کہنا ہے کہ’ میں خوشی کولفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ میرا خواب پورا ہوگیا‘۔ دونوں ملکوں کے معاہدے کے مطابق ہفتے میں دو دن یعنی منگل اور بدھ کو تجارت ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دو دونوں میں مال گاڑیاں لائن آف کنڑول عبور کرسکیں گی۔ کشمیر کے دونوں حصوں میں فی الحال اکیس اشیاء کی تجارت کی اجازت دی گئی ہے اور ان میں بیشتر ایک ہی طرح کی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے معاہدے کے مطابق کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان صرف ان اشیاء کی تجارت ہوگی جو کشمیر کے دونوں حصوں میں پیدا ہوتی ہیں یا تیار کی جاتی ہیں اور یہ تجارت فی الحال کشمیر کے دونوں حصوں تک ہی محدود ہوگی۔
اس تجارت میں کئی مشکلات اور پابندیوں کے باوجود پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیمبر آف کامرس کے چیئرمین ذوالفقار عباسی نے دونوں کشمیروں کے درمیان تجارت کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ’ کشمیر کے دونوں حصوں کے مابین تجارت ایک اچھا آغاز ہے اور اس سے کشمیر کے دونوں حصوں کے عوام کا ایک بڑا مطالبہ پورا کیا گیا۔ اس کے لئے ہم ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کے شکر گذار ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’ساٹھ سال تک دونوں کشمیر کے درمیان دروازرے بند رہے ہیں اور اب یہ دروازے کھل رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے مابین تجارت کامیاب رہے گی اور پھلے پھولے گی‘۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرینگر مظفرآباد سڑک کو تجارت کے لیےکھولنا بہت معنی خیز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک تو یہ سڑک بارہ مہنے کھلے رہتی جبکہ سرینگر کو بھارت کے ساتھ ملانے والی شاہراہ سردیوں میں برف باری کی وجہ سے بند ہوجاتی ہے اور دوسرا یہ ہے کہ سرینگر سے مظفرآباد کے درمیان فاصلہ بھی بہت کم ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کے علاوہ حزب مخالف کی کئی جماعتیں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کے آغاز کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تجارت کے باعث نہ صرف کشمیریوں کو اقتصادی فائدہ ہوگا بلکہ یہ دونوں حصوں کے لوگوں کو اور قریب لانے میں مدد گار ثابت ہوگی اور مسئلہ کشمیر کے حل میں بھی مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا کشمیر ٹرین:خدشات اور توقعات11 October, 2008 | انڈیا پاکستانی تاجر وفد سری نگر میں10 October, 2008 | انڈیا کشمیر:منموہن کی آمد پر مظاہرے10 October, 2008 | انڈیا کشمیر پر زرداری کے بیان کاخیرمقدم06 October, 2008 | انڈیا آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات04 October, 2008 | انڈیا کشمیر: کرفیو، مظاہرے اور تناؤ13 September, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||