BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 October, 2008, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: باہمی تجارت کل سے

(فائل فوٹو ) کشمیر کنٹرول لائن
کنٹرول لائن پر تجارت کے دوران سلامتی کے بھی انتظامات کئے جارہے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے تاجر اور کاشتکار سرینگر۔مظفرآباد شاہراہ کے راستے کشمیر کے منقسم حصوں کے درمیان تجارت کی بحالی پر خوش ہیں۔

سیب، زعفران اور مخصوص کشمیری شال دوشالوں کی کھیپ سے لدے ٹرکوں کے کارواں کو صوبے کے گورنر این این ووہرا منگل یعنی اکیس اکتوبر کی صبح اُوڑی کے کراسنگ پوائنٹ سے ہری جھنڈی دِکھا کر روانہ کريں گے۔

کنٹرول لائن کے راستے تجارت کے نگراں افسر پون کوتوال نے بی بی سی کو بتایا ’جو ٹرک یہاں سے تجارتی اشیاء لے کر کنٹرول لائن عبور کریں گے، وہ پاکستانی کشمیر کے چکوٹی علاقہ میں مال اُتاریں گے، وہاں سے پاکستانی ٹرکوں میں مال آگے جائے گا۔ یہی عمل اُس پار سے بھی ہے۔ ان کے ٹرک ہمارے یہاں کمان پوسٹ پر ٹھہریں گے اور یہاں سے ان کا مال ہماری گاڑیوں میں سرینگر اور دوسرے مقامات کی طرف جائے گا۔‘

گو کہ یہاں کی تاجر برادری کئی دہائیوں بعد شروع ہونے والی اس تجارت کی حد بندیوں سے پریشان ہے، تاہم وہ اس فیصلے کو کشمیریوں کے لیے ایک نفسیاتی راحت بھی سمجھتے ہیں۔

بارہمولہ کے تاجروں کی انجمن کے جنرل سیکریڑی بشیر احمد کنرو نے بی بی سی کو بتایا’ ہم ٹرکوں کو دلہنوں کی طرح سجا رہے ہیں۔ یہ تجارت پوری شان سے شروع ہوگی۔ ساری تاجر برادری اس موقعہ پر یہاں سے مال روانہ کرے گی اور آزاد کشمیر سے آنے والے ٹرکوں کا استقبال کرے گی۔ لیکن ہمیں ابھی بھی تحفظات ہیں کیونکہ یہ تجارت چند اشیاء تک محدود ہے اور پھر آزاد تجارت کے اصولوں کے تحت بے روک ٹوک تجارتی آمدورفت کی اجازت بھی نہیں ہے۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تاجروں کا ایک وفد اسی مہینے بھارت کے زیر انتظام کشمیر آیا تھا

مسٹر بشیر کا کہنا تھا کہ حال ہی میں مظفرآباد سے تاجروں اور صنعت کاروں کا جو وفد یہاں آیا تھا ان کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق یہاں سے سیب، شال دوشالے اور زعفران مظفرآباد بھیجا جارہا ہے جبکہ اُس پار سے ’بلیک مشروم‘ ،چاول اور پیشاوری چپلوں کی کھیپ وادی وارد ہو رہی ہے۔

واضح رہے ستمبر میں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے درمیان نیویارک میں ہوئی ملاقات کے بعد دونوں نے کنٹرول لائن کو تجارت کے لیے نرم کرنے پر اتفاق کرلیا تھا۔

وادی کشمیر میں جاری عوامی تحریک کے دوران حالیہ دنوں ہوئی ہلاکتوں کے بعد اس تاریخی فیصلے پر عوامی حلقوں میں خاص جوش و خروش نہیں پایا جارہا ہے، تاہم دانشوروں اور تجزیہ نگاروں نے اس فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

کنٹرول لائن پر تجارت کے دوران سلامتی کے بھی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اوڑی میں کنٹرول لائن کے قریب جو ٹرانزِٹ پوائنٹ تعمیر کیا گیا ہے اس میں جدید طرز کا ایکسرے یونٹ خصوصی طور پر سورت سے منگوایا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد