’جدائی کا کرب وہی جانے جو جدا ہو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان نے جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن کو کھول کر دونوں طرف رہنے والے منقسم خاندانوں کو تو آپس میں ملا دیا لیکن غلام محمد جاوید جیسے لوگ آج بھی اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ جاوید لداخ کے علاقے ترتک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن یہ علاقہ 1971 تک پاکستان کے زیرِ انتظام تھا۔ غلام جاوید ان دنوں گیارہ سال کے تھے ۔ وہ حصول تعلیم کے لیے پاکستانی پنجاب کے شہر لائلپورگئے تھے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ بھارتی فوج نے ترتک کے علاقہ پر قبضہ کر لیا اور یہ علاقہ ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کا حصہ بن گیا۔ جاوید کے ماں، باپ، بھائی اور بہن ہندوستانی شہری ہوگئے لیکن جاوید پاکستان کے شہری رہ گئے۔ وہ اپنوں سے ملنے کے لیے تڑپتے رہے لیکن ملاقات کی کوئی صورت نہیں نکلی۔ غلام محمد جاوید ان دنوں کو یاد کر کے کہتے ہیں کہ’جدائی کا کرب کیا ہوتا ہے وہی جانتے ہیں جو اپنوں سے الگ ہو جاتے ہیں‘۔
دو سال قبل سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع ہوئی تو غلام جاوید کے دل میں بھی امید پیدا ہوئی لیکن انہیں جلد ہی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بس میں سفر کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے انہیں کشمیر کی مستقل باشندگی کا سرٹیفیکٹ پیش کرنا تھا۔ لیکن چونکہ وہ جموں و کشمیر کے گلکت، بلتستان علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جسے پاکستان نےمتنازعہ ریاست(جموں و کشمیر ) سے الگ کر کے شمالی علاقہ جات قرار دیا ہے۔ جاوید کے پاس کشمیر کی باشندگی کا سرٹیفیکٹ نہیں ہے اور وہ سرینگر مظفر آباد بس میں سفر نہیں کر سکے۔ بالآخر انہوں نے پچھلے سال بھارتی ہائی کمیشن ميں ویزے کی درخواست بھیجی۔ ایک سال بعد انہیں اطلاع دی گئی کہ انہیں ویزا دیا جائے گا لیکن جلدی ہی ان کی خوشی اس وقت کافور ہوگئی جب ہائی کمیشن کے افسران نے انہیں بتایا کہ انہیں ترتک جانے کی اجازت نہیں ہوگي۔ انہوں نے لیہہ جانے کی اجازت مانگی تھی وہ بھی نہیں ملی لیکن جاوید سرینگر تک آنے کے لیے آمادہ ہوگئے۔ وہ گزشتہ چار روز سے سرینگر میں ہیں۔ ان کی والدہ چوبیس گھنٹے کے سفر کے بعد اپنے بیٹے سے ملنے آئی ہیں لیکن ان کے والد اپنے بیٹے سے ملنے نہیں آسکے۔ جاوید کو اب بھی یہ امید ہے کہ بھارتی حکام انہیں اپنے آبائی علاقہ ترتک جانے کی اجازت دیں گے۔
ان سے ملنے والوں میں ان کا ایک چھوٹا بھائی عبدالقادر بھی ہے جو بھائی سے جدا ہونے کے وقت صرف دو ماہ کا تھا۔ عبدالقادر کا کہنا ہے کہ والدین اور بھائی بہنوں نے پاسپورٹ حاصل کیے ہيں لیکن پاکستان جانے کے لیے ویزا حاصل نہ کر سکے ۔ اب عبدالقادر دلی جانے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ’ہم دلی چلے تو جائيں لیکن دلی بہت بڑا شہر ہے‘۔ | اسی بارے میں کشمیر: باشندگی کا بل منظور نہیں ہوا27 August, 2004 | انڈیا ’مثبت ہے‘ ، ’ نہیں فریبِ نظر ہے‘17 November, 2004 | انڈیا بس سروس، کوئی خوش، کوئی ناراض16 February, 2005 | انڈیا لاپتہ: ہزاروں اقرباء سڑکوں پر12 February, 2007 | انڈیا کشمیر: دلّی کا چار نکاتی فارمولہ تیار19 May, 2007 | انڈیا کشمیر ٹرین تین سال لیٹ ہوگئی19 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||