کشمیرالیکشن : بھائی بہن میں مقابلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں دو معروف خواتین نے اپنے اپنے خانوادوں کے خلاف سترہ نومبر سے ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنے بھائیوں ہی کے خلاف انتخابات میں مہم چلا رہی ہیں۔ چھ سال قبل ایک پراسرار واقعہ میں قتل کیے گئے سینیئر علیحدگی پسند رہنما عبدالغنی لون کی بیٹی شبنم لون شمالی کشمیر کے کپوارہ حلقے سے چناؤ لڑیں گی۔ نیشنل کانفرنس کے بانی رہنما اور سابق ’وزیراعظم‘ شیخ محمد عبداللہ کی بیٹی خالدہ بیگم بھی عبداللہ فیملی کے خلاف انتخابی میدان میں اُترنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ شبنم لون نے سوموار کو کپوارہ میں نامزدگی کے کاغذات داخل کیے اور اعلان کیا: ’ لون صاحب غریبوں اور پسماندہ طبقوں کی امداد اور بحالی کے لئے ساری زندگی سرگرم رہے۔ میں ان ہی کا مشن آگے بڑھانے کے لئے چناؤ لڑوں گی۔‘ واضح رہے کہ مقتول رہنما عبدالغنی لون قریب بیس سال تک ہندنواز سیاست میں سرگرم رہے۔ انہوں نے ستر کی دہائی میں ہی پیپلز کانفرنس نام سے اپنی تنظیم قائم کی اور اس پر کئی بار الیکشن جیتا۔ وہ صوبے میں تعلیم کے وزیربھی رہے۔ لیکن اُنیس سو نوے میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی انہوں نے حُریت کانفرنس میں شمولیت کی اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات کے خلاف بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کی سینیئر وکیل شبنم لون نے چناؤ لڑنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب بلال اور سجاد کے درمیان مفاہت ہوگئی ہے اور دونوں انتخابات کے خلاف حریت کانفرنس کی بائیکاٹ کال کی حمایت کر رہے ہیں۔ سجاد لون اس سلسلے میں کہتے ہیں: ’یہ تو محض لون صاحب کی مقبولیت کا استحصال ہو رہا ہے۔‘ اسی طرح خالدہ بیگم فی الوقت اپنے ہی بھائی ڈاکٹر فاروق عبداللہ، جو کئی مرتبہ صوبے کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، کے خلاف چناؤ میدان میں ہیں۔ خالدہ کے خاوند جی ایم شاہ نے اُنیس سو چوراسی میں کئی اسمبلی ممبران کی حمایت سے فاروق عبداللہ کی حکومت گرادی تھی اور خود اقتدار پر قابض ہوگئے تھے۔ وہ مختصر مدت کے لئے صوبے کے وزیراعلیٰ رہے۔ خالدہ نے ستّر کی دہائی میں بھی اپنے ہی والد شیخ عبداللہ کے خلاف اپنے خاوند جی ایم شاہ کا ساتھ دیا اور ان کے خلاف تقریریں کیں۔ خالدہ کے فرزند مظفرشاہ نے بی بی سی کوبتایا: ’شاہ صاحب چونکہ علیل ہیں، اس لئے ہماری پارٹی عوامی نیشنل کانفرنس نے فیصلہ کیا ہے کہ خالدہ جی چناؤ لڑیں گی۔ لیکن ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے تاہم یہ طے ہے کہ وہ ہماری چناوی مہم کی کلیدی حصہ ہوں گی۔‘ وادی میں جاری عوامی تحریک کی وجہ سے اس بار الیکشن سے قبل کسی قسم کی واضح سیاسی سرگرمی نہیں ہو رہی ہے اور کئی مقامات پر مشتعل ہجوم نے انتخابی امیدواروں پر پتھر بھی برسائے۔ لیکن انتخابات میں دو بڑے سیاسی خانوادوں کی معروف خواتین کا چناوی میدان میں کودنا دلچسپی کا باعث بن رہا ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیرالیکشن : حریت کا بائیکاٹ 19 October, 2008 | انڈیا کشمیر انتخابات سات مرحلوں میں19 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا کشمیر: یواین ڈے پرہڑتال،گرفتاریاں24 October, 2008 | انڈیا ’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘27 October, 2008 | انڈیا یواین : بھٹو قتل کی جانچ کے لیے تیار31 October, 2008 | انڈیا کشمیر میں دوسرے دن بھی کرفیو07 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||