کشمیر میں دوسرے دن بھی کرفیو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آزادی کے حق میں عوامی ریلیوں پر حکومت کی مکمل پابندی کے بعد ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں نے سترہ نومبر سے ہونے والے اسمبلی انتخابات کے خلاف ’عوامی مزاحمت ‘ کا اعلان کیا ہے۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اُن علاقوں میں مارچ کریں جہاں انتخابات منعقد ہورہے ہوں۔ علیحدگی پسندوں نے پہلے ہی انتخابات کے خلاف بائیکاٹ مہم کا اعلان کیا تھا۔ سترہ نومبر سے جموں کشمیر میں مرحلہ وار الیکشن شروع ہو رہے ہیں۔ اس دوران آج یعنی جمعہ کو دوسرے روز بھی سخت ترین محاصروں اور حدبندیوں کی وجہ سے عام زندگی مفلوج رہی جبکہ میرواعظ عمر فاروق سمیت متعدد حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔ تناؤ کی تازہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوگئی جب علیحدگی پسند گروپوں، تاجر انجمنوں، وکلاء اور سرکاری ملازمین کی رابطہ کمیٹی نے اُنیس سو سینتالیس میں مارے گئے مسلمانوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لئے چھہ نومبر کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں عوامی مارچ کا اعلان کیا۔ اس مارچ کو روکنے کے لئے حکام نے پوری وادی میں بغیر اعلان کے کرفیو نافذ کیا۔ چنانچہ رابطہ کمیٹی نے یہ مارچ دوسرے روز یعنی جمعہ کوکرنے کا اعلان کیا تو حکومت نے اس روز بھی وادی میں عام سرگرمیوں پر روک لگا دی۔ علیحدگی پسندوں نے الیکشن کے خلاف مزاحمتی مہم کا فیصلہ حکومت کی اسی سخت پالیسی کے رد عمل میں لیا ہے۔ رابطہ کمیٹی کے شریک چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’ہم پُرامن اور جمہوری طرز پر اپنی بات کہتے تھے اور لوگ بھی پُرامن ہیں۔ لیکن حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اب عوامی مارچ جاری رہینگے۔‘ ’ہم ہر دن جامع مسجد پہنچنے کی کوشش کرینگے۔ ہم نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جہاں جہاں الیکشن ہوگا وہاں کی طرف مزاحمتی مارچ ہوگا۔‘
اس دوران عام لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل آج بھی بند رہی جبکہ کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل ہوگئیں۔ جامع مسجد محصور رہنے کی وجہ سے وہاں جمعہ کی نماز نہیں ہوسکی جس پر مقامی آبادی میں غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ ودادی میں متعدد شادیاں منسوخ ہوگئیں اور عازمین حج کو ایئرپورٹ پہنچنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دریں اثناء جنوبی ضلع اننت ناگ میں مشتعل نوجوانوں نے ایک پولیس افسر کی گاڑی پر پتھراؤ کیا جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔ بارہ مولہ میں بھی کئی مقامات پر نماز جمعہ کے بعد مقامی نوجوانوں نے پولیس اور نیم فوجی عملے پر پتھراؤ کیا۔ اس کے جواب میں پولیس نے فائرنگ کی اور اشک آور گیس کے گولے داغے۔ پولیس کاروائی میں کم از کم ساتھ افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں بعض پولیس اہلکار بھی ہیں۔ تاہم اس دوران بانڈی پورہ، کولگام اور شوپیان اضلاع میں حالات معمول پر تھے اور کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔ اِدھر صوبے کے گورنر این این ووہرا نے خبردار کیا ہے کہ الیکشن میں رخنہ ڈالنے کی اجازی کسی کو نہیں دی جائے گی۔ اس اعلان سے باور کیا جاتا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت رویہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شبیر احمد شاہ اور محمد یٰسین ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس قانون کی رُو سے کسی کو بھی بغیر عدالتی پیشی کے دو سال تک قید کیا جاسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیر: یواین ڈے پرہڑتال،گرفتاریاں24 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا کنٹرول لائن: تجارت آج سے21 October, 2008 | انڈیا کشمیر انتخابات سات مرحلوں میں19 October, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : حریت کا بائیکاٹ 19 October, 2008 | انڈیا کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا کشمیر سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ13 October, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||