BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2008, 08:14 GMT 13:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: یواین ڈے پرہڑتال،گرفتاریاں

فائل فوٹو
انتخابات مخالف مہم چلانے پر یسین ملک کو گرفتار کر لیا گیا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے یوم تاسیس (یو این ڈے ) کے موقع پر رائے شماری کا مطالبہ دوہرانے کے لئے پوری وادی میں عام ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔

اس دوران انتخابات کے خلاف بائیکاٹ مہم چھیڑنے کی پاداش میں مقامی پولیس نے سینیئر علیحدگی پسند رہنما محمد یٰسین ملک سمیت کئی حریت لیڈروں کو گرفتار کیا ہے جس کے بعد تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

گرفتاریوں کے خلاف سرینگر میں مظاہرے ہوئے ہیں ۔ مظاہرین کے خلاف پولیس نے اشک آور گیس کے گولوں کا استعمال کیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ہڑتال کی کال علیحدگی پسندوں اور تاجر انجمنوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی نے دی ہے۔ کمیٹی کے شریک چئیرمین سید علی شاہ گیلانی، جو نئی دلّی کے ایسکارٹز ہسپتال میں زیرعلاج ہیں، نے ایک پیغام میں کہا ہے :’ یہ ہڑتال اقوام متحدہ میں حق خودارادیت کے جمہوری فارمولے کو عمل میں لانے کا مطالبہ دوہرانے اور دس لاکھ افواج کی موجودگی میں الیکشن کا بگل بجانے کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے ہے۔‘

 ان گرفتاریوں کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، کیونکہ ووٹ ڈالنا یا نہ ڈالنا ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ ہم اس لئے بائیکاٹ کی مہم چلا رہے ہیں کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں افواج کے ہوتے ہوئے بھی حکومت نے الیکشن کے لئے سی آر پی ایف کی چھ سو مزید کمپنیاں یہاں تعینات کی ہیں۔ اس ماحول میں الیکشن انعقاد ایک مذاق بن جاتا ہے۔
حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی

ہڑتال کے دوران ٹرانسپورٹ اور عام کاروباری سرگرمیاں بند ہیں جبکہ تعلیمی اور سرکاری اداروں میں بھی کام کاج معطل ہے۔

دریں اثنا سید علی گیلانی اور دیگر حریت رہنماؤں نے یٰسین ملک سمیت کئی علیحدگی پسندوں کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ مسٹر گیلانی نے دلّی سے بی بی سی کو فون پر بتایا :’ ان گرفتاریوں کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، کیونکہ ووٹ ڈالنا یا نہ ڈالنا ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ ہم اس لئے بائیکاٹ کی مہم چلا رہے ہیں کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں افواج کے ہوتے ہوئے بھی حکومت نے الیکشن کے لئے سی آر پی ایف کی چھ سو مزید کمپنیاں یہاں تعینات کی ہیں۔ اس ماحول میں الیکشن انعقاد ایک مذاق بن جاتا ہے۔‘

میرواعظ عمر فاروق نے اپنے ردعمل کہا :’حکومت عوامی تحریک کی کامیابی سے بوکھلا گئی ہے۔ لیکن گرفتاریوں اور ظلم کے دوسرے ہتھکنڈوں سے بائیکاٹ مہم نہیں رُکے گی۔‘

اس دوران جموں کشمیر پولیس کے سربراہ کلدیپ کُمار کھُڈا نے اعلان کیا ہے کہ ’الیکشن میں رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی، کیونکہ قانون کی خلاف ورزی ایک جُرم ہے اور جُرم کی اجازت نہیں ہوگی۔‘

واضح رہے کہ بدھ کے روز کشمیر کی سب سے بڑی ہند نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس نے ضلع بڈگام سے انتخابی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس موقع پر نیشنل کانفرنس کے صدر اور ہندوستان کے نائب وزیرخارجہ رہ چُکے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’ علیحدگی پسندوں کو پورا حق ہے کہ وہ بائیکاٹ کی مہم چلائیں۔‘

اسی روز لبریشن فرنٹ سربراہ محمد یٰسین ملک نے شمالی کشمیر کے حاجن علاقہ سے بائیکاٹ مہم شروع کی۔ چنانچہ پولیس نے جمعرات کی صبح محمدیٰسین ملک ان کے ساتھی مولانا شوکت شاہ اور وادی میں سید علی گیلانی کی حریت کانفرنس کے قائم مقام چیئرمین غلام نبی سمجھی کو گرفتار کرلیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد