’قرآن شریف کا نسخہ ضرور لانا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہمارے گھر میں تو پچھلے چار روز سے شادی جیسا ماحول ہے۔ میں اپنے کنبے میں ہیرو بن گیا ہوں۔ سب لوگ کہتے ہیں مجھے پاکستان جانا ہے۔ آج مجھے ماں نے سرمہ لگا کر الوداع کہا اور تاکید کی ہے کہ میں اُس کے لیے وہاں سے قرآن شریف کا نسخہ ضرور لاؤں۔‘ یہ الفاظ ہیں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کے لیے ساٹھ سال میں پہلی بار مال سے لدا ٹرک لے جانے والے ڈرائیور ظہور احمد کے۔ بارہمولہ کے رفیع آباد علاقہ سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس سالہ ظہور کا کہنا ہے کہ جب سے اس کی بستی میں یہ خبر عام ہوگئی ہے کہ وہ بھی مظفرآباد جانے والے ٹرکوں کے کارواں میں شامل ہیں وہ اچانک سب کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ظہور کہتے ہیں: ’محلے والوں کے جذبات دیکھ کر تو میں زیادہ ہی جذباتی ہوگیا۔ مان لیجیئے کہ میں اپنے محلے میں منسٹر کی طرح بن گیا۔ ہمارے گھر صبح شام پڑوسی آنے لگے۔ کچھ عمر رسیدہ لوگوں نے تو مجھے بتایا کہ ساٹھ سال قبل یہ راستہ کشمیر کو پوری دُنیا کے ساتھ ملاتا تھا۔ میری ماں نے تاکید کی ہے کہ میں پاکستان جاکر اس کے لیے قران شریف کا نسخہ لاؤں مگر مجھے نہیں پتہ کہ ہمیں راولپنڈی جانے دیا جائیگا یا نہیں۔ لیکن کچھ بزرگ پڑوسیوں نے مجھے بتایا کہ ساٹھ سال قبل اس راستے سے جو تاجر جاتے تھے وہ راولپنڈی بھی جاتے اور لاہور بھی۔‘ ساٹھ سال بعد ایل او سی کے پار مال لے جانے والے پھولوں اور جھالروں سے سجی سجائی مال بردار گاڑیوں کے اس کارواں کو جہلم ویلی روڑ پر منگل کو صوبے کے گورنر این این ووہرا نے مظفرآباد کی طرف روانہ کیا۔ دوسری طرف ایل او سی کے پار مظفرآباد کے محمد عارف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ان چودہ ٹرک ڈرائیوروں میں ایک ہیں جو مال بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لے کر جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میری ہمیشہ خواہش رہی کہ میں مقبوضہ کشیر( بھارت کے زیر انتظام ) جاؤں اور اللہ نے میری خواہش پوری کردی‘۔ عارف کا کہنا ہے کہ ’میں خوشی کولفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ میرا خواب پورا ہوگیا‘۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں افتتاحی تقریب گو کہ سادہ تھی، تاہم تاجروں اور ان کے حمایتوں کی بھاری تعداد میں نعرے بازی اور تجارت کے حق میں مختصر نظموں سے سماں باندھا۔ بھارتی پارلیمان کی رُکن محبوبہ مفتی نے اس موقعہ پر اعلان کیا کہ کنٹرول لائن کے ذریعے تجارت کا آغاز دراصل کشمیریوں کے لیے سیلف رول یا خود حکمرانی کی طرف ایک قدم ہے۔ کنٹرول لائن کے ذریعے تجارت کے نگران افسر پون کوتوال نے بتایا’ فی الحال تو صرف ان ہی اشیا کی تجارت ہوگی جن پر دونوں طرف کے تاجروں نے اتفاق کرلیا ہے۔‘ قابل ذکر ہے آج سرینگر سے میوہ، شال دوشالے اور مصالحوں کی کھیپ مظفرآباد روانہ ہوئی جب کہ وہاں سے پیشاوری چپل، دالیں، کھجور ہنزہ کے خوبانی اور نمک سے بھرے ٹرک سرینگر آئيں گے۔ ادھر جموں سے بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی نے خبر دی ہے کہ گورنر کے مشیر ایچ ایچ طیبجی نے تین ٹرکوں کو ہرا پرچم لہرا کر راولہ کوٹ سے پونچھ کے راستے روانہ کیا ہے۔ آزادی کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی بھی ہندوستانی گاڑی کنٹرول لائن پار کر کے اس پار اتنی دور تک گئی ہو۔ حالانکہ دو ہزار پانچ میں کنٹرول لائن کے آر پار پیدل آمدو رفت شروع ہو گئی تھی۔ پونچھ ۔ راولہ کوٹ کے درمیان تجارت کے لیے باقائدہ طور پر راستہ کھولے جانے ابھی باقی ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیر، انتخابات میں تاخیر کیوں؟15 October, 2008 | انڈیا کشمیر ٹرین:خدشات اور توقعات11 October, 2008 | انڈیا پاکستانی تاجر وفد سری نگر میں10 October, 2008 | انڈیا کشمیر:منموہن کی آمد پر مظاہرے10 October, 2008 | انڈیا کشمیر پر زرداری کے بیان کاخیرمقدم06 October, 2008 | انڈیا آزادی مارچ، سخت حفاظتی انتظامات04 October, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||