BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 October, 2008, 15:32 GMT 20:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یواین : بھٹو قتل کی جانچ کے لیے تیار

بان کی مون
سیکریٹری جنرل بان کیمون دو روزہ دورے پر ہندوستان میں ہیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے کی پر زور دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ محترمہ بیظیر بھٹو کے قتل کے کیس کی چانچ ميں پوری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

دلی میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر میں سیکریٹری جنرل بان کیمون نے ذرائع ابلاغ سے اپنے خطاب کے دوران جمعرات کو آسام میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی اور ماحولیات میں آ رہی تبدیلی اور چندر یان ون کا تجربہ سمیت کئی موضوعات پر بات چیت کی۔

سوال جواب کے دوران جب ان سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اور پڑوسی ممالک کو اس کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ محفوظ ہونے کا احساس کر سکے اور وہاں سماجی اور اقتصادی ترقی لائی جا سکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں پرامید ہوں کہ دونوں ممالک کے رہنما اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، حال ہی میں شروع کی گئی دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس مسئلے میں ایک اہم قدم ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ انڈیا کی جانب سے شروع کیے گئے کمپوزٹ ڈائلوگز اور اس قسم کے اہم اقدامات سے ہميں بہتر نتائج ملتے رہيں گے۔‘

کشمیری پنڈتوں نے خاموش احتجاج کیا
وہیں جب ان سے پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس کی اقوام متحدہ کے ذریعے جانچ کرانے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’ اقوام متحدہ متحرمہ بھٹو کے قتل سے متعقل جانکاری حاصل کرنے کے لیے پوری مدد دینے کے لیے تیار ہے، فی الوقت کیس کے آگے کے پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں اور جانچ کے طریقہ کار کے بارے میں فیصلہ کرنے میں ابھی تھوڑا وقت اور لگے گا۔‘

کشمیری پنڈتوں کا خاموش جلوس
جہاں بان کیمون صحافیوں سے بات کر رہے تھے وہیں اس مقام سے چند کلومیٹر دور کشمیر سے بے گھر ہوئے کشمیری پنٹدتوں کی بعض تنظیموں کے نمائندوں نے ایک خاموش جلوس نکالا اور کشمیری پنڈتوں کو اندرون پناہ گزین کا درجہ دیے جانے کا مطالبہ کیا۔

کشمیری پنڈتوں نے اپنی برادری کے لوگوں کے قتل عام کے معاملات کی جانچ کرائے جانے کے لیے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

وہ یہ مطالبہ بھی کر رہے تھے کشمیر میں مقیم کشمیری پنڈتوں کو حفاظت فراہم کی جائے اور کشمیر میں واقع ہندو مذہبی مراکز ہندوؤں کو سونپ دیے جائیں۔

ہندوستان کے زیرِانتظام جموں کشمیر میں 1989 میں مسلح جد و جہد کے آغاز کے ساتھ ہی اقلیتی ہندو فرقے سے تعلق رکھنے والے کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کا سلسلہ بھی شرع ہوا۔

اس وقت ایک بڑی تعداد میں کشمیری پنڈت جموں، دلی اور دیگر مقامات پر مقیم ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت نے ان کی آبادکاری کے لیے مناسب اقدامات نہيں کیے ہیں۔

اسی بارے میں
کینوس پر 27 دسمبر کا منظر
03 July, 2008 | پاکستان
بینظیر حملہ: ایف آئی آر درج
17 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد