اٹھارہ اکتوبر خوشیوں کے قتل کا دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک سال گزرنے کے بعد کراچی کی دیواروں پر پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے استقبال کے پوسٹر اور چاکنگ تھوڑی مدھم ہوگئی ہے۔ مگر اس واقعے میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے ورثاء کے زخم ابھی تازہ ہیں جن میں سے کوئی بھائی، کوئی اپنا بیٹا، کوئی شوہر یا اپنا والد کھوچکا ہے۔ اٹھارہ اکتوبر کو جب آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کراچی پہنچیں تو جن لوگوں کے چہروں پر امید جھلک رہی تھی وہ چاروں صوبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان ہزاروں لوگوں میں طارق بیگ اور ان کے بڑے بھائی ساجد بیگ بھی شامل تھے جو دونوں دھماکوں میں ہلاک ہوگئے۔ کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کی سیما کاظمی سے اس دھماکے نےان کے جیون ساتھی طارق بیگ کو چھین لیا۔ وہ اٹھارہ اکتوبر کو قیامت کا دن قرار دیتی اور بتاتی ہیں کہ بینظیر بھٹو کی واپسی پر طارق بہت خوش تھے اور وہ انہیں بچوں کے ساتھ جلوس میں لیکر بھی گئے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ طارق بینظیر کی انیس سو ستاسی کی واپسی کو یاد کر کے بتا رہے تھے کہ ان کا کتنا شاندار استقبال ہوا تھا۔ سیما کاظمی اب اکیلی ہیں اور گھر کی تمام ذمہ داری بھی انہی کے کاندھوں پر پڑگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے وہ مصروف رہنے کے لئے ملازمت کرتی تھیں اب مجبوری میں کرنی پڑتی ہے۔ وہ ایک نجی اسکول میں ٹیچر ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ مہنگائی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، ان کی کوئی بچت نہیں ہوتی ہے، بہت مشکل سے گزارا ہوجاتا ہے۔
طارق بیگ کے بچوں امیمہ اور اکرام بیگ کی نظریں آج بھی باپ کو تلاش کرتی ہیں۔ وہ اپنی سالگرہ پر ان کے تحفے کے منتظر ہوتے ہیں۔ والد کا ذکر کرتے ہوئے اکرام بیگ اپنے آنسوں کو نہیں روک پائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سالگرہ پر ان کے والد نہیں تھے جو ان کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتے تھے ۔ سیما کاظمی آرٹسٹ ہیں اور فطرت کے رنگوں کو کینوس پر بکھیرتی رہی ہیں مگر اس واقعے کے بعد ان کی اپنی زندگی سے رنگ ختم ہوچکے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی بچوں کی تعلیم کا بیڑا اٹھائے اور طارق کا خواب پورا کرے۔ ہلاک ہونے والوں میں محمود آْباد کے رہائشی چھبیس سالہ محمد رفیع بھی شامل تھے جو اپنی ماں سے مل کر بھی نہیں گئے تھے اور اپنے چھوٹے بھائی کو کہا تھا کہ وہ فکر نہ کریں وہ تھوڑی دیر میں آجائیں گے۔ دوسرے روز ان کی لاش گھر آئی۔ گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت کرنے والے محمد رفیع ہی گھر سنبھالتے تھے۔ ان کی ماں کا کہنا ہے کہ اب ان کی زندگی بےکار ہوگئی ہے، وہ جی نہیں پا رہی ہیں، خدا کوئی ایسا معجزہ کرے کے ان کا بیٹا کہیں سے بھی واپس آجائے ۔ ’اللہ میرے ساتھ کیا، کسی کے ساتھ بھی ایسا نہ کرتا جس طرح میں تڑپ رہی ہوں۔ دوسری مائیں بھی ایسے ہی تڑپتی ہوں گی۔‘ محمد رفیع کی ماں کا کہنا ہے کہ جس پارٹی کے لئے ان کے بیٹے نے قربانی دی وہ اس سے لاتعلق نہیں ہوسکتیں۔ ان سے جو کارکن ملنے آتے ہیں وہ ان میں اپنا بیٹا تلاش کرتی ہیں۔
ان کی بیگم صابرہ منگوانو کا کہنا ہے کہ بینظیر کی واپسی پر جاوید کو بےحد خوشی تھی، وہ اپنی سوزوکی میں سب گھر والوں کو جلوس گھمانے کے لئے لیکر گئے تھے اور شام کو واپس آئے اور کہا کہ ابھی محترمہ کے آنے میں دیر ہے تب تک کھانا کھا لیتا ہوں۔ انہوں نے خود ہی ٹماٹر کے ساتھ انڈہ بنایا اور نماز پڑھی اور سوزوکی میں محلے کے دیگر لوگوں کو لیکر پھر روانہ ہوگئے۔ ’وہ یہ کہہ کر گئے تھے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میں اپنی گاڑی محترمہ کی گاڑی سے جوڑوں گا اور یہی ہوا، بینظیر کی گاڑی کے ساتھ ان کی گاڑی تھی اور آج بھی پولیس تھانے پر بھی بینظیر کے فلوٹ کے ساتھ ان کی گاڑی کھڑی ہوئی ہے۔‘ جاوید کے ساتھ ان کی نو سالہ بیٹی کائنات بھی تھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ سوزوکی پک اپ میں سوار تھے اور ان کے والد گاڑی چلا رہے تھے کہ ایک دھماکہ ہوا اور ایک زخمی عورت مدد کے لئے پکارنے لگی، ان کے والد گاڑی چھوڑ کر اس عورت کی مدد کے لئے پہنچے، اسی دوران ایک اور دھماکہ ہوا اور ان کے والد وہیں گرگئے۔ ہلاکت سے تین ماہ قبل جاوید کے گھر میں بیٹے کی ولادت ہوئی تھی جس کو انگلی سے پکڑ کر چلانے کے لئے وہ بے تاب رہے تھے۔ جاوید کی ماں حمیدہ منگوانو پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے جلسے جلوسوں سے لیکر بینظیر بھٹو کے جلوسوں میں باقاعدہ شریک ہوتی رہی ہیں، انہیں بیٹے کی بچھڑنے کا درد ضرور ہے مگر کوئی پچھتاوا نہیں۔ ’اگر میرے بیٹے کو کوئی ایک پتھر بھی مارتا تو شاید میں برداشت نہیں کرتی، جاوید نے اتنی بڑی قربانی دی پھر بھی ہمارے دلوں میں ایک حوصلہ اور ہمت ہے۔ اگر پارٹی کے پیچھے میرا بیٹا قربان ہوگیا تو اس پر ہم نہیں پچھتائیں گے کیوں کہ بینظیر خود شہید ہوگئیں۔ چیئرمین بھٹو اور میر بابا مرتضیٰ بھٹو بھی نہیں رہے جب لیڈر ہی چلے گئے اگر بیٹا شہید ہوگیا تو کیا کہہ سکتے ہیں۔ حمیدہ منگوانو کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ٹوٹ نہیں سکتی کیونکہ اس کی جڑیں عام عوام میں ہیں آج بھی پیپلز پارٹی کا کوئی جلسہ ہوتا ہے تو وہ دوسرے بیٹوں کو روکنے کے بجائے خود نکال کر بھیجتی ہیں۔ | اسی بارے میں بینظیر حملہ: ایف آئی آر درج17 October, 2008 | پاکستان کارساز کیس میں پیش رفت نہیں17 October, 2008 | پاکستان کارساز ٹریبونل تحلیل کردیاگیا12 April, 2008 | پاکستان پولیس افسروں کے بیانات قلمبند03 January, 2008 | پاکستان کراچی حملے، سپریم کورٹ کا نوٹس31 October, 2007 | پاکستان ’ بینظیر کا ساتھ نہ چھوڑیں گے‘30 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||