BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2008, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارساز کیس میں پیش رفت نہیں

کارساز سانحہ
سابق صوبائی حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس غوث محمد کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹریبونل بنایا تھا جسے موجودہ حکومت نے ختم کردیا

کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی مرحوم چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر خودکش بم حملے کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے مگر اس واقعہ کے حقائق اور اس میں ملوث عناصر تاحال بے نقاب نہیں ہوسکے ہیں۔ اس وقت جب وفاق اور صوبے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ہی حکومت ہے بظاہر اس کیس میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔

شاہراہ فیصل پر کارساز کے مقام پر ہونے والے اس دھماکے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ اس وقت کی صوبائی حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس غوث محمد کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹریبونل بنایا تھا جسے موجودہ حکومت نے ختم کر دیا۔

ٹریبونل نے تین ماہ کی کارروائی کے دوران چالیس گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کیں جن میں پولیس اہلکار، ایدھی ایمبولنس سروس کے رضاکار، زخمیوں کا علاج اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر، محکمہ داخلہ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے سکیورٹی پلان ترتیب دینے والے جنرل ریٹائرڈ احسان شامل تھے۔

ٹریبونل کی جانب سے پی پی سندھ کے صدر سید قائم علی شاہ، ذوالفقار مرزا، ناہید خان، آغا سراج درانی اور ٹریلر کے ڈرائیور کو گواہی کے لیے طلب کرنے کے لیے سمن اور وارنٹ جاری کیے گئے مگر کوئی بھی بیان قلمبند کرانے نہیں آیا۔

ٹربیونل کے سربراہ ڈاکٹر غوث محمد کا کہنا ہے کہ پہلے یہ جواب آتا رہا ہے کہ وہ الیکشن میں مصروف ہیں اس کے بعد آئیں گے اور جس کے بعد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی اور کہا گیا کہ ان کے وارنٹ نہ جاری کیے جائیں۔

ان کے مطابق جب الیکشن ہوگئے تو پھر بھی کوئی نہیں آیا اور جیسے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو انہوں نے اس ٹربیونل کو ہی ختم کر دیا۔ حالانکہ انہیں تحقیقات مکمل کرنا چاہیئے تھی، اگر غوث محمد پسند نہیں تو کسی اور کو لیکر آتے ایک تین رکنی ٹربیونل بنایا جاتا جس کی رپورٹ آجاتی جو کئی سال ریکارڈ رہتی۔

جسٹس غوث
ٹریبونل نے تین ماہ کی کارروائی کے دوران چالیس گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کیں جن میں پولیس اہلکار، ایدھی کے رضاکار، زخمیوں کا علاج اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر، محکمہ داخلہ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے سکیورٹی پلان ترتیب دینے والے جنرل ریٹائرڈ احسان شامل تھے
جسٹس ڈاکٹر غوث محمد کا کہنا تھا کہ وہ اٹھارہ اکتوبر اور بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے واقعات میں مشابہت کی بھی تحقیقات کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی تھی کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی تفتیش کرنے والی اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی رپورٹ لائی جائے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کہیں ایسا تو نہیں جو عناصر یہاں کامیاب نہیں ہوئے وہ راولپنڈی میں کامیاب ہوگئے۔ یہ تب ہی ممکن تھا جب اسکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ آجاتی اور یہ رپورٹ مکمل ہوتی تو پھر وہ اس پر کوئی آبزرویشن دیتے۔

ڈاکٹر غوث محمد کا کہنا ہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی دونوں کی طرف سے سکیورٹی انتظامات میں غفلت برتی گئی تھی۔ اس کا اقرار خود گواہوں نے کیا۔ ’انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹس خفیہ ہوتی ہیں ان پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، جو گواہی آئی ان کے مطابق زمینی حقائق کچھ اور تھے اور صرف کاغذات پر اچھی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سکیورٹی انچارج جنرل ریٹائرڈ احسان سے انہوں نے پوچھا کہ کیا رضاکاروں جانثاران بینظیر کی آپ لوگوں نے چیکنگ کی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ نہیں۔ پولیس والوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے چیک کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ڈریس میں تھے اس لیے انہیں چیک نہیں کیا گیا۔

جسٹس غوث محمد کے مطابق انہوں نے پولیس حکام کو مخاطب ہوکر کہا کہ پولیس وردی میں لوگ چوریاں کرتے ہیں تو کیا وہ پولیس والے ہوتے ہیں، جانثاران کو چیک کرنا چاہیے تھا۔ اتنے بڑے مجمع میں کوئی آدمی ڈریس پہن کر گھس جائے تو اسے تلاش کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر غوث محمد کے مطابق جنرل احسان نے اپنے بیان میں بتایا کہ جیسے ہی فلوٹ ایئرپورٹ سے نکلا تو آئی جی سندھ کا انہیں موبائل پر فون آیا کہ بینظیر بھٹو سے درخواست کریں کہ وہ اوپر نہ کھڑی ہوں۔ انہوں نے آئی جی سے کہا کہ کیا جیمر کام نہیں کر رہے جو انہوں نے فون کیا ہے۔

اس بنیاد پر جب انہوں نے ٹربیونل میں پولیس حکام سے تفتیش کی تو ان کا جواب تھا کہ جیمر پرانے ہیں، کبھی کام کرتے ہیں کبھی نہیں، تو پھر سکیورٹی کس بات کی تھی۔

 جنرل احسان نے اپنے بیان میں بتایا کہ جیسے ہی فلوٹ ایئرپورٹ سے نکلا تو آئی جی سندھ کا انہیں موبائل پر فون آیا کہ بینظیر بھٹو سے درخواست کریں کہ وہ اوپر نہ کھڑی ہوں۔ انہوں نے آئی جی سے کہا کہ کیا جیمر کام نہیں کر رہے جو انہوں نے فون کیا ہے
ڈاکٹر غوث محمد
جنرل احسان سے پوچھا کہ اتنی بڑی رہنما کی سکیورٹی کے لیے جو پلان ترتیب دیا گیا، اس کے لیے آپ نے بین الاقوامی اداروں سے کیوں مدد نہیں لی، تو ان کا کہنا تھا یہ ہمارے منصوبے اور دانش میں نہیں تھا۔ جب محکمہ داخلہ سے پوچھا کہ آپ نے مانیٹرنگ کی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی اطلاع نہیں تھی کہ وہاں کیا ہو رہا تھا۔

جسٹس غوث محمد کے مطابق جنہوں نے غفلت برتی ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جاتی اور ان کے خلاف مقدمے دائر ہوتے۔ ٹریبونل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ خفیہ رپورٹ حکومت کو حوالے کرتے اس پر حکومت فیصلہ کرتی کے کون پولیس اہلکار غفلت کے مرتکب ہوئے یا کون سی قیادت ناکام ہوئی تاکہ انہیں آئندہ کوئی ذمہ داری نہ دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ تعصب پرست تھے تو ٹریبونل ختم کرنے کے نوٹیفکیشن میں لکھنا چاہیئے تھا مگر اس میں تو کوئی وجہ نہیں لکھی گئی۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے حفاظتی انتظامات میں کوئی نقص نہیں تھا۔ ایک وی وی آئی پی شخصیت اور سابق وزیراعظم کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کا فرض تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پارٹی کی ذمہ داری تھی وہ متعصب ہیں یا انہیں معلومات نہیں یا ان عناصر کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں جو اس واقعہ میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی واقعہ کی ایف آئی آر درج نہیں ہوسکی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور اس کارروائی کی پیروی کرنے والے ایڈووکیٹ شہادت اعوان کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد پولیس نے متاثرین یا بینظیر بھٹو کا بیان لینے کے بجائے حکومت کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرلی تھی۔ پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کے اس خط کی روشنی میں رپورٹ درج کرانے کی لیے درخواست دی جس میں انہوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سیشن کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نےانہیں ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دے دی مگر حکومت نے اس اجازت کے خلاف ہائی کورٹ سے حکم امتناع لے لیا اور کچھ روز قبل ہائی کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور اب جلد ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔

بینظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں اس حملے کا شبہ قاری سیف اللہ پر ظاہر کیا تھا جنہیں پولیس نے اس الزام میں گرفتار کیا تاہم بعد میں ثبوتوں کی عدم دستیابی پر انہیں بری کردیا۔

اس کتاب میں انہوں نے یہ بھی تحریر کیا کہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے میں لپٹے ہوئے ایک بچے کو ایک شخص ان کے پاس لانا چاہتا تھا مگر رش کی وجہ سے وہ پہنچ نہیں پا رہا تھا۔ بینظیر نے اسے راستہ دینے کے لئے کہا، جب وہ ٹرالر کے قریب پہنچا تو آغا سراج درانی نے اسے جانے کو کہا اور وہ بچہ پولیس موبائل میں اہلکاروں کے حوالے کیا مگر انہوں نے اسے واپس کردیا جس کے کچھ دیر بعد دھماکہ ہوا۔ انہیں شبہ تھا کہ بچے کے ساتھ دھماکہ خیز مواد لگایا ہوا تھا۔

وزیر قانون ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ جلد اس واقعہ کی ایف آئی آر درج ہوگی اور اس کی تفتیش کی جائے۔

’کارساز‘ تحقیقات
بینظیر’خود کش‘ حملے بھی موٹی فائل میں بند؟
بینظیر بھٹومشورے اور مجبوریاں
سول سوسائٹی والوں کی بینظیر سے توقعات
مرتے دم تک ساتھ
’کچھ بھی ہو بینظیر کا ساتھ نہ چھوڑیں گے‘
بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
جیالوں کے قافلے
کراچی میں جیالوں کی آمد کا سلسلہ جاری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد