BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2008, 15:25 GMT 20:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر حملہ: ایف آئی آر درج

بینظیر بھٹو
پاکستان واپسی سے قبل بینظیر بھٹو نے ایک خط صدر مشرف کو لکھا تھا
کراچی میں پچھلے سال اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر بم حملے کی دوسری ایف آئی آر ان کی اس درخواست کی روشنی میں درج کرلی گئی ہے جو انہوں نے واقعے کے بعد تھانے بھجوائی تھی۔

یہ مقدمہ کراچی کے بہادر آباد تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں ان کے اس خط کا حوالہ بھی موجود ہے جو انہوں نے وطن واپسی سے قبل اس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو لکھا تھا اور شبہ ظاہر کیا تھا کہ وطن واپسی پر بعض شخصیات انہیں قتل کرانا چاہتی ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو نے جن تین افراد پر اپنے خط میں شبہ ظاہر کیا ہے انہیں شامل تفتیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست اکیس اکتوبر کو دی گئی تھی جس کے خلاف حکومت نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ ایک واقعے کی دو ایف آئی آر نہیں ہوسکتی ہیں لیکن ہائی کورٹ نے حکومتی درخواست مسترد کردی۔

شخصیات کے ناموں سے لاعلمی
 کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد سے جب ان شخصیات کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا کہ تو ان کا جواب تھا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے خط میں جن شخصیات کا ذکر کیا ہے انہیں شامل تفتیش کیا جائے گا۔ انہوں نے ان شخصیات کے ناموں سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
راولپنڈی میں ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد مقامی میڈیا میں پیپلز پارٹی کے ذرائع سے یہ خبریں شائع اور نشر ہوتی رہی ہیں کہ پرویز مشرف کو بھیجے گئے خط میں آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ، آئی بی کے ایک سابق سربراہ، قومی احتساب بیورو کے ایک اہلکار اور مسلم لیگ ق کے ایک رہنما کے نام شامل ہیں، مگر وہ خط کبھی بھی منظر عام پر نہیں آیا جس کی وجہ سے آج تک تینوں شخصیات کی شناخت نہیں ہوسکی ہے جن کا بے نظیر بھٹو نے اپنے خط میں حوالہ دیا تھا۔

کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد سے جب ان شخصیات کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا کہ تو ان کا جواب تھا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے خط میں جن شخصیات کا ذکر کیا ہے انہیں شامل تفتیش کیا جائے گا۔ انہوں نے ان شخصیات کے ناموں سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ بینظیر بھٹو نے ایف آئی آر کے لیے دی گئی اپنی درخواست میں کہا تھا ان کی حکومت کو غیرجمہوری طور پر سن 1996 میں ہٹایا گیا جبکہ ان کو عوام کی حمایت حاصل تھی جس کے بعد ان کو 1999 میں مجبوراً ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔

’اٹھارہ اکتوبر کو ان کی وطن واپسی پر حکومت کی جانب سے ان کو بتایا گیا تھا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کو سولہ اکتوبر کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے ان افراد کی نشاندہی بھی کی تھی جن پر انہیں شبہ تھا۔‘

بینظیر بھٹو نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ’اٹھارہ اکتوبر کو جب وہ ایئرپورٹ سے ایک بہت بڑے جلوس کے ساتھ دس گھنٹے بعد کارساز کے قریب پہنچیں تو دو بم دھماکے کیے گئے جن میں 140 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جس میں وہ بال بال بچ گئیں۔ یہ دھماکے ان کو اور ان کی پارٹی کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔

درخواست میں ان کے اس خط کی روشنی میں جو انہوں نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو لکھا تھا واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی گزارش کی گئی تھی۔

کارساز سانحہایک سال بعد
اٹھارہ اکتوبر: کیس میں کوئی پیش رفت نہیں
اسی بارے میں
کارساز کیس میں پیش رفت نہیں
17 October, 2008 | پاکستان
جن سوالوں کا جواب نہیں
29 December, 2007 | پاکستان
فوج کی جانب سے قبر پر پھول
30 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد