BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 November, 2008, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری نگر میں ’غیر اعلانیہ کرفیو‘

کشمیر انتخابات
کشمیری بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر نکلے

ہندوستانی زیرانتظام کشمیرکے دارالحکومت سرینگر میں جمعہ کو بھاری تعداد میں نیم فوجی عملہ کو تعینات کیا گیا جسکے باعث لوگوں کی نقل وحرکت، ٹریفک اور تعلیمی و کاروباری سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔

اس دوران یہاں کی تاریخی جامع مسجد کو نیم فوجی عملے اور پولیس نے ایک بار پھر محاصرے میں لے لیا اور کسی بھی مذہبی سرگرمی کی اجازت نہیں دی گئی۔

جامع مسجد کی طرف جانے والے ہر شہری راستہ، گلی کوچہ اور رابطہ سڑک کو سیل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے سترہ نومبر کو پہلے مرحلے کے انتخابات میں حکام کے مطابق چونسٹھ فی صد ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔

شہر کے پولیس سربراہ افہاد المجتبیٰ کا کہنا ہے’ہمیں خفیہ اطلاعات تھیں کہ چند شرارت پسند حلقے عوامی جان و مال کو خطرے میں ڈال دینگے، لہٰذا امن و قانون کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاط کے طور سیکورٹی بڑھا دی گئی۔ کرفیو کہیں پر بھی نافذ نہیں ہے۔‘

واضح رہے علیحدگی پسندگروپوں، تاجروں اور وکلاء پر مشتمل رابطہ کمیٹی نے جعمرات کو لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ انتخابات کے دوران رہنماؤں کی نظر بندی اور سخت سیکورٹی پابندیوں کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کے طور ہڑتال کریں۔

سرینگر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے گرد نوہٹہ، خواجہ بازار، نالہ مار روڑ، صراف کدل، بہوری کدل، المگری بازار، حبہ کدل سمیت متعدد علاقوں میں لوگوں کو مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نوہٹہ کے ایک عمر رسیدہ شہری عبدالخاق میر نے بی بی سی کو بتایا’ پچھلے تین ہفتوں کے دوران یہ مسلسل تیسری مرتبہ ہے کہ ہم لوگوں کو جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے سے روکا گیا۔‘

تاہم اس دوران دیگر اضلاع میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ صرف ضلع گاندربل میں، جہاں اتوار کو دوسرے مرحلے کے چناؤ میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں، بعض مقامات پر ہڑتال ہوئی اور نیم فوجی عملے نے نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی۔

اندرون شہر میں تعینات سینیئر پولیس آفیسر وحید احمد نے بی بی سی کو بتایا ’کرفیو تو نہیں ہے، لیکن خدشات کے پیش نظر ہم نے بھاری تعداد میں فورس لگا دی ہے، جس کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنا ہے۔‘

پچھلے تین ہفتوں سے اپنے ہی گھر میں نظر بند میر واعظ عمر فاروق نے بتایا’سیکورٹی کی ان سخت ترین پابندیوں سے الیکشن کی اعتباریت واضح ہوجاتی ہے۔ آج جمعہ تھا اور لوگ جامع مسجد میں ہمارا اگلا پروگرام سننے کے لیے آنے والے تھے۔ہم کوئی ہنگامہ کرنے والے نہیں تھے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ حکومت لوگوں سے ڈرتی ہے۔ جس طرح آج لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں محصور کیا گیا اور نماز تک پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی ، یہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ انسانیت کے عالمی قوانین اور خود بھارت کے قوانین کے خلاف ہے۔‘

کشمیری امیدوار
گھرگھر جا کر ووٹروں سے استدعا
فائل فوٹوکشمیرمیں انتخاب
آخرحکومت الیکشن سےکیوں کترا رہی ہے؟
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
اسی بارے میں
’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘
12 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد