’حملہ آوروں کے ٹھکانے بیرون ملک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ممبئی کے حملوں کی سازش کرنے والوں کے ٹھکانے ملک سے باہر ہیں۔ قوم سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے ہندوستان مخالف عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے والے ’ہمسایہ‘ ممالک کو بھی متنتبہ کیا اور ملک کے عوام سے ’ امن اور ہم آہنگی‘ برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ ’یہ حملے منصوبہ بند اور مربوط طریقہ سے کیے گئے اور غالباً ان کی کڑیاں بیرون ملک تک جاتی ہیں، اور ان کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا تھا کیونکہ انہوں نے اہم مقامات کو نشانہ بنایا اور غیر ملکیوں کو بلاامتیاز قتل کیا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ یہ بات ظاہر ہے کہ جس گروپ نے یہ حملے کیے، اور جس کے ٹھکانے ملک سے باہر ہیں، اس کا واحد مقصد ملک کے تجارتی مرکز میں افرا تفری پھیلانا تھا۔‘ ’ہم اپنے ہم سایوں پر یہ واضح کریں گے کہ اگر ان کی سرزمین ہمارے خلاف حملوں کے لیے استعمال کی جائے گی تو یہ بات ہم برداشت نہیں کریں گے اور اگر انہوں نےخاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔‘ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن ماضی میں اکثر بڑے حملوں کے لیے براہ راست نہیں تو باالوسطہ طور پر پاکستانن کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ متعلقہ حکام مکمل چوکسی برت رہے ہیں اور امن و عامہ میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا شیلا ڈکشت کی ہیٹ ٹرک؟ 25 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||