BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پکڑے گئے جہاز پاکستانی نہیں‘

بھارتی نیوی
’الفا‘ نامی تجارتی کشتی پانامہ کی ہے: پاکستان نیوی
پاکستان بحریہ کے ترجمان وائس ایڈمرل آصف ہمایوں نے بھارتی الزامات کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے دو پاکستانی بحری جہاز حراست میں لیے گئے ہیں۔

وائس ایڈمرل آصف ہمایوں نے ایک بیان میں بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایم وی الفا‘ اور ’الکبیر‘ نامی جن پاکستان بحری جہازوں کو پکڑنے کا دعویٰ بھارتی بحریہ کر رہی ہے دراصل اس نام کا کوئی جہاز پاکستان نیوی میں شامل نہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کی ابتدائی تحقیقات سے حملہ آوروں کا کراچی سے تعلق دکھائی دے رہا ہے۔ اس بابت میڈیا میں بھارتی بحریہ کے اہلکاروں کے حوالے سے یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ انہوں نے دو پاکستانی بحری جہاز حراست میں لیے ہیں۔

پاکستان بحریہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’الفا‘ نامی تجارتی کشتی پانامہ کی ہے اور اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔

بھارتی نیوی اور کوسٹ گارڈز نے الزام عائد کیا تھا کہ ممبئی پر حملے میں ملوث افراد انہیں کشتیوں کے ذریعے کراچی سے آئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے بھارتی نیوی نے تمام سمندری راستوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔

پاکستان بحریہ نے بھارتی بحریہ کی جانب سے الزامات کو پاکستان پر عائد کرنے کو اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی بحریہ کی صلاحیتوں کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں اس نے تھائی لینڈ کے ایک فشنگ ٹرالر کو بحری قزاق قرار دیتے ہوئے ڈبو دیا تھا۔

’اگر ایک بحریہ سویلین جہاز اور قزاقوں میں فرق نہیں کرسکتی تو وہ اور کیا کرسکتی ہے۔‘

 بھارتی بحریہ کی صلاحیتوں کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں اس نے تھائی لینڈ کے ایک فشنگ ٹرالر کو بحری قزاق قرار دیتے ہوئے ڈبو دیا تھا۔ اگر ایک بحریہ سویلین جہاز اور قزاقوں میں فرق نہیں کرسکتی تو وہ اور کیا کرسکتی ہے۔
پاک بحریہ

ادھر میرین ٹائم سکیورٹی ایجنسی کا جوکہ پاکستانی سمندری حدود میں جہازرانی پر نظر رکھتی ہے کہنا ہے کہ بھارتی الزامات قبل از وقت ہیں۔ ایک اعلٰی اہلکار لیفٹنٹ کمانڈر شکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی سمندری حدود میں جہازوں کی نگرانی کے لیے کئی ادارے مصروف ہیں۔

’لیکن اگر کسی جہاز پر شک ہو یا پہلے سے خفیہ معلومات ہوں تو تب ہی ان کی تلاشی لی جاتی ہے۔ تاہم کسی بڑے جہاز کے کراچی بندرگاہ سے اس مقصد کے ساتھ جانا ممکن نہیں ہے۔‘

کراچی کی بندرگاہ پر جہازوں کی آمد و رفت کا انتظام رکھنے والی کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر گزشتہ چند دنوں میں ’الفا‘ اور ’الکبیر‘ نامی جہازوں کے آمد ورفت کا ذکر نہیں ہے۔

بعض سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق روزانہ بیسیوں بحری جہاز اس مصروف بندرگاہ سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ بڑے جہازوں کی آمدو رفت تو ایک انتظام کے تحت جاری رہتی ہے لیکن فشنگ بوٹس کی آمد ورفت کو منظم طریقے سے چلانا ممکن نہیں۔ تاہم اس مقصد کے لیے پاکستانی کوسٹ گارڈز اور نیوی کی چوکیاں موجود ہیں۔

بعض مبصرین کے مطابق کئی غیرمعروف راستے ایسے بھی ہیں جو اکثر کشتیوں کے ناخدا سکیورٹی اداروں سے بچنے کی خاطر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ان راستوں کی مکمل نگرانی ممکن نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد