BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 November, 2008, 11:10 GMT 16:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ممبئی لہولہان، ہندوستان کا11/9 ‘
اخبارات کا تفریبا ہر صفحہ ممبئی حملوں کی خبر سے بھرا ہے۔

ممبئی کے دس مقامات پر بدھ کی رات سے جاری دہشت گردانہ کارروائی ختم نہیں ہوئی اور جو بھی ہو رہا ہے اس کی پل پل کی خبر تو نیوز چینلز نشر کر ہی رہے ہیں اس کے علاوہ ملک کے سبھی اخبارات بھی تقریباً اسی خبر سے بھرے ہیں۔

اخبارات میں نہ صرف اس خبر کے ہر پہلو پر نظر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ شدت پسندی کی جنگ میں حکومت کی ناکامی، ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کا ہندوستان جیسے ملک میں اپنا کنٹرول بڑھانے اور ممبئی جیسی اقتصادی دارالحکومت پر شدت پسندانہ کے حملے کا مقصد اور دوراندیشی اثرات کے بارے میں اخبارات میں تبصرے کیے گئے ہیں۔

انگریزی اخبار ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ نے صفحہ اول پر سرخی کہتی ہے ’ٹرٹر ان انٹرپٹڈ ‘ یعنی دہشت گردی بنا رکے جاری اور صفحہ اول پر اخبار نے لکھا ہے کہ بدھ سے جاری حملوں کے پیچھے پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکریہ طیبہ کا ہاتھ ہے۔

وہیں اسی اخبار نے لکھا ہے کہ ممبئی حملوں میں بیرونی ممالک کے افراد بھی نشانہ بنے ہیں اور کولابا میں اسرائیلی نژاد لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے یہ بات واضح ہے کہ شدت پسندوں ایک مخصوص طبقے کو اپنے نشانہ بنا رہے تھے حالانکہ یہ بات الگ ہے کہ ان کے سامنے جو بھی آیا انہوں نے اسے ہی اپنا نشانہ بنایا۔

انگریزی اخبار ’دا ہندو‘ نے لکھا ہے کہ ممبئی میں بدھ کو شروع ہوا دہشت گردی کا ناچ جاری ہے لیکن ایسے وقت میں سبھی سیاسی جماعتیں دہشت گردی سے لڑنے میں متحد ہیں۔ وہیں اخبار نے لکھا ہے کہ مہاراشٹر پولیس نے کہا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستانی تنظیم لشکریہ طیبہ کا ہاتھ اور اگر یہ بات سـچ ثابت ہوتی ہے تو پاکستان اور ہندوستان کے رشتوں پر منفی اثرات پڑیں گے۔ اخبار نے لکھا ہے جس شدت پسند کو پکڑا گیا ہے اس کا نام اجمل امیر کمال ہے اور اسکا تعلق ملتان کے قریب فرید کوٹ سے ہے۔

انگریزی اخبار ’دا انڈین ایکسرپریس‘ نے لشکریہ طیبیہ کے شدت پسند کراچی سے سمندری راستے سے ہندوستان آئے اور انہوں نے ان حملوں کو انجام دیا ہے۔ وہیں اخبار کے ایڈیٹر شیکھر گپتا نے صفحے اول ایک تجزیہ لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ہندوستان خوشحالی کے دور سے گزر رہا تھا تبھی ملک کی اقتصادی دارالحکومت کو شدت پسندوں نے اپنا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے دور اقتدار میں بہت کچھ کیا ہے لیکن اب انہیں سکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پختہ اقدامات کرنے ہونگے۔ اخبار نے ممبئی حملوں کو ہندوستان کا 11/9 قرار دیا ہے۔

اردو اخبار ’ہمارا سماج‘ نے صفحہ اول پر لکھا ہے ’ممبئی لہولہان، لاشیں، دھماکے اور گولیوں کی بوچھار‘۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان حملوں میں انسداد دہشت گردی کے سربراہ ہیمنت کرکرے کی موت سے مالیگاؤں کے دھماکوں کی تفتیش کو جھٹکا لگے گا۔ اخبار نے سونیا گاندھی کے اس بیان کو بھی شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ممبئی میں شدت پسندوں کے حملے ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہیں۔

اردو اخبار ’ہندوستان ایکسپریس‘ نے صفحہ اول پر لکھا ہے ممبئی کی دوسری سیاہ رات اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری۔ وہیں اخبار نے وزیراعظم منموہن سنگھ کے اس بیان کو شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ ملک کی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں شدت پسندوں کا نشانہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

وہیں ہندی اخبار دینک جاگرن نے لکھا ہے کہ ممبئی میں جنگ جیسے حالات جاری۔ اخبار لکھتا ہے کہ ممبئی میں تاج ہوٹل، ٹرائیڈنٹ اوبرائے اور نریمن ہاؤس کا علاقہ خاص طور سے جنگ کا میدان بن گیا ہے۔

وہیں ہندی اخبار نوو بھارت ٹائمز کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کا لنک صاف نظر آتا ہے۔

ہندی اخبار جن ستا لکھتا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ممبئی کا چہرا اتنا لہولہان ہوا ہے کہ شاید 1993 کے بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں بھی نہیں تھا۔

برطانوی ارب پتی
ہلاک ہونے سے کچھ دیر قبل انٹرویو
ممبئی حملے
ممبئی میں فائرنگ : تصاویر
آنکھوں دیکھا حال
’ٹکٹ لینے گیا تھا کے فائرنگ شروع ہو گئی‘
دہشت کی رات
گزشتہ رات سے اب تک ممبئی میں کیا ہوا
دنیابھر سے مذمت
ممبئی حملوں کی کئی ممالک نے مذمت کی
بال ٹھاکرے’خود کش تیار کریں‘
ٹھاکرے ہندو خود کش دستے بنانے کے حامی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد