اوبیرائے ہوٹل پر فوج کا قبضہ، ہلاک ہونے والوں کی تعداد 143 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی نیشنل سکیورٹی گارڈ یعنی این ایس جی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہوٹل اوبیرائے اور ٹرائڈینٹ کو کمانڈوز نے حملہ آوروں سے خالی کرا لیا ہے اور اب ہوٹل کی پوری عمارت ان کے قبضے میں ہے۔ ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 143 ہو گئی ہے۔ این ایس جی کے سربراہ جے کے دت نے بتایا کہ اس آپریشن میں دو شدت پسندوں کو مارا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شدت پسندوں کے پاس سے ایک اے کے 47 ، ایک پسٹل اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔ ادھر بھارتی کمانڈوز نے ممبئی کے دوسرے ہوٹل اور یہودیوں کے ایک سینٹر پر قبضہ کر کے لوگوں کو یرغمال بنانے والے حملہ آووروں کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ جمعہ کی صبح اوبیرائے ٹرائڈینٹ ہوٹل سے سو کے قریب افراد کو رہا کرا لیا گیا تھا۔
فی الوقت انہوں نے یہ نہيں بتایا کہ دونوں ہوٹلز میں کل کتنے افراد پھنسے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ہوٹلز کے ایک ایک کمرے کی تلاشی جاری ہے اور اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کہیں کسی کمرے میں کوئی شدت پسند چھپا تو نہيں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی کمرے اندر سے بند ہیں اس لیے اور ان کمروں کی ماسٹر کی بھی نہيں مل پا رہی ہے اس لیے دروازے کھولنے کے لیے کم شدت کے دھماکے کیے جا رہے ہیں۔ تاج ہوٹل سے ابھی بھی گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ بدھ سے لے کر اب تک ہلاک ہونےوالوں کی تعداد 143 بتائی جا رہی ہے جبکہ 300 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ تاج محل ہوٹل کو مکمل طور صاف کروا لیا گیا ہے اور وہاں سوائے ایک زخمی حملہ آور کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ بھارتی کمانڈوز کو ممبئی میں یہودی مرکز پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اتارا گیا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق کئی حملہ آور چھپے ہوئے ہیں۔
مارکوس کے نام سے جانے والے بحریہ کے مرین کمانڈو دستے نے ممبئی حملوں کے دوران شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہوٹلوں کے ایک ایک کمرے میں ایکسپلوزیوز، گرینیڈز اور اسلحہ اور شدت پسندوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔ اس آپریشن میں حصہ لینے والے مرین کمانڈو کے دستے نے اپنے منہ پر نقاب پہن کر تاج ہوٹل کے باہر میڈیا سے خطاب کیا اور آپریشن کے بارے میں تفصیلات دیں۔ ایک مرین کمانڈو نے بتایا ’ٹرائیڈینٹ ہوٹل میں لگتا ہے دو شدت پسند تھے۔ شدت پسندوں نے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھیں اور انکی عمریں تیس سال سے کم ہی تھی۔ ایک جگہ پر تیس افراد کی لاشیں ادھر ادھر پڑی تھیں۔ چاروں طرف خون پھیلا ہوا تھا۔ لیکن ہماری ترجیج لوگوں کی جان بچانا تھی۔ ایک کمرہ چھت پر کھلتا ہے اور جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے شدت پسند وہاں سے نکل گئے ہوں۔ جس طرح سے ان لوگوں نے ایک کے 47 چلائیں اور گرینیڈ پھینکے اس سے لگتا ہے کہ یہ لوگ کافی تریبیت یافتہ ہیں۔ وہ کسی پر رحم نہیں کر رہے تھے، ان کے سامنے جو بھی آیا وہ سب پر گولی چلا رہے تھے۔‘ مرین کمانڈو نے تاج ہوٹل کے آپریشن کے بارے میں بتایا ’جس طرح سے شدت پسندوں نے تاج ہوٹل میں لوگوں کو نشانہ بنایا ہے اس سے ایک بات واضح ہے کہ وہ ہوٹل سے بہت اچھی طرح واقف تھے انہیں یہ پتہ ہے ہوٹل کس طرح کا بنا ہوا ہے۔ اس سے یہ صاف ہے انہوں نے ہوٹل کا پہلے معائنہ کیا تھا۔ اب تک کی جانکاری کے مطابق ہوٹل میں تین سے چار شدت پسند ابھی بھی موجود ہیں۔ اب تک کی کارروائی میں ہمیں شدت پسندوں کے پاس سے اسلحہ سے بھرا ایک بیگ حاصل ہوا ہے۔ بعض کریڈٹ کارڈز حاصل ہوئے جن میں سٹی بینک اور آئی سی آئی سی آئی کے کریڈٹ کارڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چھ ہزار انڈین روپئے اور ڈالر بھی حاصل ہوئے ہیں۔‘
کمانڈو کے مطابق شدت پسندوں کے پاس سے موصول ہونے والا سامان پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ کمانڈو سے جب یہ پوچھا گیا کہ شدت پسندوں کی شناخت کیا ہے ان کا تعلق کہاں سے ہوسکتا ہے تو انکا کہنا تھا کہ یہ سب جانکاری پولیس کو دے دی گئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس زبان میں بات کر رہے تھے تو کمانڈو کا کہنا تھا کہ انہوں نے شدت پسندوں کو بولتے ہوئے نہیں سنا۔ حالانکہ انکا کہنا تھا کہ ایک شناختی کارڈ ملا ہے جو موریشیس کا ہے۔ ادھر لیفٹینٹ جنرل این تھمبوراج نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ تاج محل میں ایک حملہ آور اب بھی موجود ہے جو ہوٹل کی دو منزلوں پر گھوم رہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس نے ایک خاتون سمیت دو لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہو۔ اوبیرائے ہوٹل کے باہر موجود بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے صلاح الدین نے اطلاع دی کہ اوبیرائے ہوٹل میں پھنسے غیر ملکیوں کو ہوٹل سے متصل ایئر انڈیا کی عمارت کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ اس سے قبل انتالیس افراد کو ہوٹل سے نکالا گیا تھا۔ اس سے قبل ممبئی کے جنوبی علاقے میں نریمان کے رہائشی اور تجارتی کمپلیکس میں واقع یہودی مرکز کی عمارت پر فوجی ہیلی کاپٹر سے کمانڈوز کو اتارا گیا تھا۔ اس رہائشی عمارت میں ایک یہودی مرکز قائم ہے جہاں پر دہشتگردوں نے ایک یہودی رباعی اور چند اور لوگوں کو بدھ کی رات سے یر غمال بنا رکھا ہے۔ ادھر بھارتی بحریہ نے ممبئی کے شمال کے سمندر میں دو پاکستانی تجارتی جہازوں کو روک لیا ہے جن پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حکام کا دعویٰ ہے کہ شدت پسند دو تیز رفتار کشتیوں میں سوار ہو کر ممبئی پہنچے تھے۔ ہندوستان میں ذرائع ابلاغ ماضی میں ہندوستان میں حملے کرنے والے شدت پسند گروپ لشکر طیبہ پر الزام لگا رہا ہے لیکن لشکر طیبہ نے نے ایک بیان میں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا کہ ان کا ان حملوں میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس سے قبل حملوں کی ذمہ داری غیر معروف دکن مجاہدین نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔
|
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||