BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 November, 2008, 07:25 GMT 12:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوبیرائے ہوٹل پر فوج کا قبضہ، ہلاک ہونے والوں کی تعداد 143

یہودی مرکز میں حملہ آوروں نے کئی لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے

بھارتی نیشنل سکیورٹی گارڈ یعنی این ایس جی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہوٹل اوبیرائے اور ٹرائڈینٹ کو کمانڈوز نے حملہ آوروں سے خالی کرا لیا ہے اور اب ہوٹل کی پوری عمارت ان کے قبضے میں ہے۔ ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 143 ہو گئی ہے۔

این ایس جی کے سربراہ جے کے دت نے بتایا کہ اس آپریشن میں دو شدت پسندوں کو مارا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شدت پسندوں کے پاس سے ایک اے کے 47 ، ایک پسٹل اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔

ادھر بھارتی کمانڈوز نے ممبئی کے دوسرے ہوٹل اور یہودیوں کے ایک سینٹر پر قبضہ کر کے لوگوں کو یرغمال بنانے والے حملہ آووروں کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

جمعہ کی صبح اوبیرائے ٹرائڈینٹ ہوٹل سے سو کے قریب افراد کو رہا کرا لیا گیا تھا۔

اوبیرائے ہوٹل سے کئی درجن لوگوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے

فی الوقت انہوں نے یہ نہيں بتایا کہ دونوں ہوٹلز میں کل کتنے افراد پھنسے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ہوٹلز کے ایک ایک کمرے کی تلاشی جاری ہے اور اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کہیں کسی کمرے میں کوئی شدت پسند چھپا تو نہيں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کئی کمرے اندر سے بند ہیں اس لیے اور ان کمروں کی ماسٹر کی بھی نہيں مل پا رہی ہے اس لیے دروازے کھولنے کے لیے کم شدت کے دھماکے کیے جا رہے ہیں۔

تاج ہوٹل سے ابھی بھی گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ بدھ سے لے کر اب تک ہلاک ہونےوالوں کی تعداد 143 بتائی جا رہی ہے جبکہ 300 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ تاج محل ہوٹل کو مکمل طور صاف کروا لیا گیا ہے اور وہاں سوائے ایک زخمی حملہ آور کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔

بھارتی کمانڈوز کو ممبئی میں یہودی مرکز پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اتارا گیا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق کئی حملہ آور چھپے ہوئے ہیں۔

حملہ آور تربیت یافتہ تھے
News image
 جس طرح سے ان لوگوں نے ایک کے 47 چلائیں اور گرینیڈ پھینکے اس سے لگتا ہے کہ یہ لوگ کافی تریبیت یافتہ ہیں۔ وہ کسی پر رحم نہیں کر رہے تھے، ان کے سامنے جو بھی آیا وہ سب پر گولی چلا رہے تھے
انڈین کمانڈو

مارکوس کے نام سے جانے والے بحریہ کے مرین کمانڈو دستے نے ممبئی حملوں کے دوران شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہوٹلوں کے ایک ایک کمرے میں ایکسپلوزیوز، گرینیڈز اور اسلحہ اور شدت پسندوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔ اس آپریشن میں حصہ لینے والے مرین کمانڈو کے دستے نے اپنے منہ پر نقاب پہن کر تاج ہوٹل کے باہر میڈیا سے خطاب کیا اور آپریشن کے بارے میں تفصیلات دیں۔

ایک مرین کمانڈو نے بتایا ’ٹرائیڈینٹ ہوٹل میں لگتا ہے دو شدت پسند تھے۔ شدت پسندوں نے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھیں اور انکی عمریں تیس سال سے کم ہی تھی۔ ایک جگہ پر تیس افراد کی لاشیں ادھر ادھر پڑی تھیں۔ چاروں طرف خون پھیلا ہوا تھا۔ لیکن ہماری ترجیج لوگوں کی جان بچانا تھی۔ ایک کمرہ چھت پر کھلتا ہے اور جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے شدت پسند وہاں سے نکل گئے ہوں۔ جس طرح سے ان لوگوں نے ایک کے 47 چلائیں اور گرینیڈ پھینکے اس سے لگتا ہے کہ یہ لوگ کافی تریبیت یافتہ ہیں۔ وہ کسی پر رحم نہیں کر رہے تھے، ان کے سامنے جو بھی آیا وہ سب پر گولی چلا رہے تھے۔‘

مرین کمانڈو نے تاج ہوٹل کے آپریشن کے بارے میں بتایا ’جس طرح سے شدت پسندوں نے تاج ہوٹل میں لوگوں کو نشانہ بنایا ہے اس سے ایک بات واضح ہے کہ وہ ہوٹل سے بہت اچھی طرح واقف تھے انہیں یہ پتہ ہے ہوٹل کس طرح کا بنا ہوا ہے۔ اس سے یہ صاف ہے انہوں نے ہوٹل کا پہلے معائنہ کیا تھا۔ اب تک کی جانکاری کے مطابق ہوٹل میں تین سے چار شدت پسند ابھی بھی موجود ہیں۔ اب تک کی کارروائی میں ہمیں شدت پسندوں کے پاس سے اسلحہ سے بھرا ایک بیگ حاصل ہوا ہے۔ بعض کریڈٹ کارڈز حاصل ہوئے جن میں سٹی بینک اور آئی سی آئی سی آئی کے کریڈٹ کارڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چھ ہزار انڈین روپئے اور ڈالر بھی حاصل ہوئے ہیں۔‘

حملہ آوروں سے کیا کیا ملا
News image
 اب تک کی کارروائی میں ہمیں شدت پسندوں کے پاس سے اسلحہ سے بھرا ایک بیگ حاصل ہوا ہے۔ بعض کریڈٹ کارڈز حاصل ہوئے جن میں سٹی بینک اور آئی سی آئی سی آئی کے کریڈٹ کارڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چھ ہزار انڈین روپئے اور ڈالر بھی حاصل ہوئے ہیں
انڈین کمانڈر

کمانڈو کے مطابق شدت پسندوں کے پاس سے موصول ہونے والا سامان پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

کمانڈو سے جب یہ پوچھا گیا کہ شدت پسندوں کی شناخت کیا ہے ان کا تعلق کہاں سے ہوسکتا ہے تو انکا کہنا تھا کہ یہ سب جانکاری پولیس کو دے دی گئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس زبان میں بات کر رہے تھے تو کمانڈو کا کہنا تھا کہ انہوں نے شدت پسندوں کو بولتے ہوئے نہیں سنا۔ حالانکہ انکا کہنا تھا کہ ایک شناختی کارڈ ملا ہے جو موریشیس کا ہے۔

ادھر لیفٹینٹ جنرل این تھمبوراج نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ تاج محل میں ایک حملہ آور اب بھی موجود ہے جو ہوٹل کی دو منزلوں پر گھوم رہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس نے ایک خاتون سمیت دو لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہو۔
گزشتہ روز وہاں کارروائی میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور کئی لوگوں نے خود کو کمرے میں بند کرلیا تھا۔

اوبیرائے ہوٹل کے باہر موجود بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے صلاح الدین نے اطلاع دی کہ اوبیرائے ہوٹل میں پھنسے غیر ملکیوں کو ہوٹل سے متصل ایئر انڈیا کی عمارت کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ اس سے قبل انتالیس افراد کو ہوٹل سے نکالا گیا تھا۔

اس سے قبل ممبئی کے جنوبی علاقے میں نریمان کے رہائشی اور تجارتی کمپلیکس میں واقع یہودی مرکز کی عمارت پر فوجی ہیلی کاپٹر سے کمانڈوز کو اتارا گیا تھا۔

اس رہائشی عمارت میں ایک یہودی مرکز قائم ہے جہاں پر دہشتگردوں نے ایک یہودی رباعی اور چند اور لوگوں کو بدھ کی رات سے یر غمال بنا رکھا ہے۔

ادھر بھارتی بحریہ نے ممبئی کے شمال کے سمندر میں دو پاکستانی تجارتی جہازوں کو روک لیا ہے جن پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکام کا دعویٰ ہے کہ شدت پسند دو تیز رفتار کشتیوں میں سوار ہو کر ممبئی پہنچے تھے۔

ہندوستان میں ذرائع ابلاغ ماضی میں ہندوستان میں حملے کرنے والے شدت پسند گروپ لشکر طیبہ پر الزام لگا رہا ہے لیکن لشکر طیبہ نے نے ایک بیان میں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور کہا کہ ان کا ان حملوں میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

اس سے قبل حملوں کی ذمہ داری غیر معروف دکن مجاہدین نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔

ممبئی حملے کہاں کہاں ہوئے
برطانوی ارب پتی
ہلاک ہونے سے کچھ دیر قبل انٹرویو
ممبئی حملے
ممبئی میں فائرنگ : تصاویر
آنکھوں دیکھا حال
’ٹکٹ لینے گیا تھا کے فائرنگ شروع ہو گئی‘
دہشت کی رات
گزشتہ رات سے اب تک ممبئی میں کیا ہوا
دنیابھر سے مذمت
ممبئی حملوں کی کئی ممالک نے مذمت کی
بال ٹھاکرے’خود کش تیار کریں‘
ٹھاکرے ہندو خود کش دستے بنانے کے حامی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد