BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ان کی دیدہ دلیری حیران کن تھی‘

سٹیشن
ان کونہ کوئی جلدی تھی اور نہ ہی وہ ڈرے ہوئے لگ رہے تھے۔عینی شاہدین
ممبئی کے وکٹورین چتراپتی شیواجی ریلوے سٹیشن پر پپومشرا اپنے کیفے میں گاہکوں کے ساتھ مصروف تھے جب انہوں نے کالے لباس میں ملبوس دو پھرتیلے نوجوانوں کو دیکھا۔

وہ دونوں نوجوان انتظار گاہ میں گئے اور اپنے بستوں کو زمین پر پھینک کر انہوں نے بندوق نکالی جو کہ ’کلاشنکوف‘ سے ملتی جلتی تھی۔ وہ پلیٹ فارم کی طرف گئے اور ٹرین کے انتظار میں کھڑے افراد پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

مشرا نے کہا ’ان کی دیدہ دلیری حیران کن تھی۔ ایک بندوق میں گولیوں کا میگزین ڈالتا جبکہ دوسرا گولیاں برساتا رہتا۔ وہ دونوں بالکل تحمل سے پوری کارروائی کر رہے تھے۔ ان کو کوئی جلدی نہیں تھی اور نہ ہی وہ ڈرے ہوئے لگ رہے تھے۔‘

دونوں نوجوان پلیٹ فارم میں داخل ہوئے اور انہوں نے پہلے ایک دو افراد کو گولیاں ماریں اور اس کے بعد ’غیر ملکی نظر آنے والے اور صاف رنگ کے‘ دونوں نوجوانوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

سٹیشن سے باہر شپنگ میں کام کرنے والے انیل کمار گوسوامی چائے پی رہے تھے کہ انہوں نے گولیاں چلنے کی چمک دیکھی۔ وہ ایک صدر دروازے کی طرف گئے۔

’میں جیسے ہی سٹیشن میں داخل ہوا تو ایک گولی میرے پاس سے گزری اور میں فوراً زمین پر لیٹ گیا۔ میں لیٹا ہوا تھا اور میرے سامنے لوگوں کو گولیاں لگ رہی تھیں۔ میں نے ایک حملہ آور کو پلیٹ فارم کی دوسری طرف جاتے دیکھا۔ سٹیشن پر لاشیں بکھری پڑی تھیں۔‘

 میں جیسے ہی سٹیشن میں داخل ہوا تو ایک گولی میرے پاس سے گزری اور میں فوراً زمین پر لیٹ گیا۔ میں لیٹا ہوا تھا اور میرے سامنے لوگوں کو گولیاں لگ رہی تھیں۔ میں نے ایک حملہ آور کو پلیٹ فارم کی دوسری طرف جاتے دیکھا۔ سٹیشن پر لاشیں بکھری پڑی تھیں۔
انیل کمار

دوسری طرف مشرا نے تمام گاہکوں سے کہا کہ وہ زمین پر لیٹ جائیں۔ حملہ آور نے ان کے کیفے کی سمت بھی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں تمام شیشے ٹوٹ گئے اور ان کے ملازم کو بھی گولی لگی۔ وہ ملازم زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔

مشرا کا کہنا تھا ’وہ دس سے پندرہ منٹ میری زندگی کے طویل ترین منٹ تھے۔ حملہ آور بغیر کسی مزاحمت کے گولیاں چلاتے رہے۔ گولیاں لگیں لاشیں ہر طرف پڑی ہوئی تھیں اور سٹیشن کی انتظار گاہ خون سے بھر گئی۔‘

کم از کم دس افراد سٹیشن پر ہلاک ہوئے۔ پولیس حملہ آوروں کی کارروائی ختم ہونے کے آدھے گھنٹے بعد پہنچی اور اس وقت تک حملہ آور کارروائی مکمل کر کے جا چکے تھے۔

مشرا کا کہنا ہے ’پورا نظام ہی غلط ہے اور سکیورٹی خراب۔ حملہ آور اپنی مرضی سے آئے اور اپنی مرضی سے گئے اور وہاں پر کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔‘

سٹیشن سے کچھ ہی فاصلے پر ویانا سے آئی ہوئیں جرمن نژاد استانی جودتھ روستا دو بھارتی گلوکاروں کی ویڈیو کی عکس بندی کروا کر اپنی روسی دوست کے ساتھ کولابا مارکیٹ سے گزر رہی تھیں۔

 تینوں نے سفید جینز اور ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں۔ وہ چیخ رہے تھے، غصے میں تھے اور بندوقیں لہرا رہے تھے۔ میں نے اپنا سامان پھینکا اور اس جگہ سے اپنے ہوٹل کی طرف جانے لگی۔ چند منٹ بعد ہی میرے دوستوں نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ اس جگہ پر فائرنگ ہوئی ہے۔
جوڈتھ روستا

وہ پپیتے خرید رہی تھیں جب انہوں نے موٹر سائیکل پر سوار تین افراد کو رکتے ہوئے دیکھا اور انہوں نے بندوقیں نکالیں۔

’تینوں نے سفید جینز اور ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں۔ وہ چیخ رہے تھے، غصے میں تھے اور بندوقیں لہرا رہے تھے۔ میں نے اپنا سامان پھینکا اور اس جگہ سے اپنے ہوٹل کی طرف جانے لگی۔ چند منٹ بعد ہی میرے دوستوں نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ اس جگہ پر فائرنگ ہوئی ہے۔‘

لیوپولڈ کیفے پر حملے کے چند گھنٹوں بعد اس جگہ پر بیئر اور برتن دھونے کے پاؤڈر کی بدبو تھی۔ لیوپولڈ کیفے غیر ملکیوں میں بہت مشہور ہے۔ ٹوٹے ہوئے برتن اور خون کے دھبے پڑے تھے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کا آغاز اس مارکیٹ سے ہوا۔ تین افراد کیفے میں آئے اور بیئر پی کر پیسے دے کر چلے گئے۔ پھر انہوں نے اپنے بیگ سے بندوقیں نکالیں اور فائرنگ شروع کردی۔

عراقی شہری غفار عبدل امیر نے بتایا کہ انہوں نے دو حملہ آوروں کو دیکھا جنہوں نے کیفے کے باہر فائرنگ کی۔ وہ ساحل سمندر سے اپنے ہوٹل واپس جا رہے تھے کہ ان کے آگے کچھ فاصلے پر دو افراد کلاشنکوف لیے فائرنگ کرتے جا رہے تھے۔

 تین افراد کیفے میں آئے اور بیئر پی کر پیسے دے کر چلے گئے۔ پھر انہوں نے اپنے بیگ سے بندوقیں نکالیں اور فائرنگ شروع کردی۔
مقامی لوگ

’وہ بھارتی نہیں بلکہ غیر ملکی لگ رہے تھے۔ میرے خیال میں ایک کے سنہری بال تھے جبکہ دوسرے کے بال پنک سٹائل میں تھے۔ دونوں نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کیفے کے پاس جب دو لڑکیوں کو گولی لگی اور وہ زمین پر گری ہیں تو حملہ آور تاج محل ہوٹل کی طرف تیزی سے بڑھنے لگے۔ کچھ ہی منٹ بعد ہوٹل سے فائرنگ کی آواز آئی اور بعد میں امیر کو معلوم ہوا کہ حملہ آوروں نے ہوٹل میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔

وشرم تلسیرام نے جمعرات کی تمام رات ہوٹل کے قریب گزاری تاکہ ان کو ہوٹل میں کام کرنے والے ان کے بھائی اور انکل کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔’میں بہت پریشان ہوں۔ ہمیں کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔ نہ پولیس ہمیں کچھ بتا رہی ہے اور نہ ہی ہم کوئی ان سے رابطہ کر پا رہے ہیں۔‘

آس پاس کی تمام دوکانیں اور دفاتر بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔

وی ایس نیپول نے ایک بار کہا تھا ’ممبئی ایک بھیڑ کا نام ہے۔‘ حملوں کے ایک دن بعد ممبئی رینگ بھی نہیں رہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد